اے طائرلاہوتی اس رزق سے موت اچھی...تقدیس نقوی

یہ بات بھی واضح نہ ہوسکی کہ اگر مینکا گاندھی کو کسی نے ان کی جیت کی خوشخبری پہلے ہی سے دیدی ہے تو پھر وہ ان بھوکے ننگے بے روزگار غریب لوگوں کے درمیان کھڑے ہوکر ووٹوں کی بھیک کیوں مانگ رہی تھیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

تقدیس نقوی

اس الیکشن سے متعلق کل سلطان پور یوپی سے آنے والی خبر پڑھ کر اور دیکھ کر بہت زیادہ حیرت نہیں ہوئی۔ کیونکہ انسان جس ماحول میں کام کرتا ہے وہ اسی کے مطابق اپنا لہجہ اور زبان اختیار کرتا ہے۔ منیکا گاندھی نے خاص طور سے مسلم ووٹروں کو مخاطب کرتے ہوئے انھیں دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اگر وہ آنھیں اس الیکشن میں ووٹ نہیں دیں گے تو پھر وہ ان کے پاس نوکریاں مانگنے کے لئے نہ آئیں، کیونکہ یہ ایک ہاتھ لے دوسرے ہاتھ دے والا معاملہ ہے۔ گویا جیسا کہ کسی بھی کاروبار میں ہوتا ہے یعنی سودے بازی۔ وہ وہاں ایک مقامی جلسے کو مخاطب کرتے ہوئے فرما رہی تھیں۔

’’میں جیت رہی ہوں، اگرمیری جیت مسلمانوں کے بنا ہوگی تو مجھے اچھا نہیں لگے گا، کیونکہ اتنا میں بتا دیتی ہوں کہ پھر دل کھٹا ہوجاتا ہے اور پھر جب مسلمان آتا ہے کام کے لئے پھر میں سوچتی ہوں کہ نہیں رہنے ہی دو کیا فرق پڑتا ہے آخر نوکری میں سودے بازی بھی تو ہوتی ہے، بات صحیح ہے کہ نہیں۔ یہ نہیں کہ ہم لوگ سب مہاتما گاندھی کی چھٹی اولاد ہیں کہ ہم لوگ آئیں اور دیتے ہی جائیں۔ دیتے ہی جائیں اور الیکشن میں مار کھاتے جائیں گے، یہ صحیح ہے بات کہ نہیں، یہ الیکشن تو میں پار کر چکی ہوں اب اپ کو میری ضرورت پڑیگی اب آپ کو اس ضرورت کے لئے نیو ڈالنی ہے‘‘۔

منیکا گاندھی جی کا انداز تخاطب اور لہجہ مسلم قوم سے وہی تھا کہ جو وہ اپنے ہر وقت قریب رہنے والے پالتو جانوروں کے ساتھ روا رکھتی ہیں۔ وہ انٹرنیشنل لیول کی Animal Lover جو ٹھہریں۔ دراصل پالتو جانور کو قابو میں رکھنے کی سب سے موثر ترکیب یہ ہوتی ہے کہ اسے پہلے بھوکا رکھا جاتا ہے۔ شدید بھوک کی حالت میں اس جانور سے جو کچھ کرنے کے لئے کہا جائے گا، جس طرح اسے اٹھنے بیٹھنے کے لئے کہا جائے گا وہ بغیر کسی چوں و چرا کے نہایت سعادت مندی اور وفاداری کے ساتھ اس حکم کو بجا لائے گا۔ جانور کے کھانے کو حاصل کرنے کی اس بے قراری کی کیفیت میں جب کسی ہاتھ سے اسے کھانا ملتا ہے تو وہ اس ہاتھ کے اشارے پر ناچتا ہے، اس کے پاؤں پر لوٹتا ہے، اس کے تلوے چاٹتا ہے اور اس کے سامنے دُم ہلاتا ہے۔ شاید میڈم کا ماننا ہے کہ ہر بھوکے کی نفسیات یکساں ہوتی ہیں۔ اس میں انسان اور جانور میں تفریق کرنا نہایت بے رحمانہ طریقہ فکر ہے۔ کھانے کی جستجو کرنے کے لحاظ سے انسان اور جانور میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔

منیکا گاندھی جی کے اس فلسفہ ’ایک ہاتھ لے دوسرے ہاتھ دے‘ یا سودے بازی کی دلیل میں ہم سڑک کے کنارے بیٹھے اس جیوتشی کی مثال دے سکتے ہیں جو لوگوں کی قسمت کا حال اپنے ایک پالتو طوطے کے زریعے اس کے سامنے رکھے ہوئے فال کے کارڈوں کو نکلوا کر کرتا ہے۔ اس کے فال نکالنے کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے بھوکے طوطے کو سامنے رکھے کارڈوں میں سے جن میں سوال کرنے والوں کی جدا جدا قسمتوں کے بارے میں لکھا ہوتا ہے ایک کارڈ نکالنے کا حکم دیتا ہے اور وہ طوطا بغیر کسی چون و چرا کے آگے بڑھ کر ایک کارڈ نکال دیتا ہے کیونکہ اسے ہر بار اس کام کے انجام دینے کے فوراً بعد اس کا مالک اسے ایک دانہ کھانے کے لئے دیتا ہے۔ یعنی ’ایک ہاتھ لے دوسرے ہاتھ دے‘غالباً یہی حکمت عملی منیکا گاندھی نے بھی سلطان پور کے الیکشن کمپین میں اپنائی ہوئی ہے۔ اب یہ ان ووٹروں کی قسمت ہے کہ کونسا کارڈ ان کے نام نکلتا ہے۔

سلطان پور کے مسلم ووٹرس کو ان کے اس مخصوص لہجے سے بھی دل برداشتہ ہونے کی ہرگز ضرورت نہیں ہے کیونکہ انسان خصوصاً غصے کی حالت میں ہمیشہ اپنے پیشے اور کام کی مناسبت سے اپنا انداز گفتگو اختیار کرتا ہے۔ کیونکہ صبح و شام میڈم کا سرو کار زیادہ تر ان کے پالتو یا زیر نگرانی پل رہے جانوروں سے ہوتا ہے اسی لئے انھوں نے مسلمانوں سے ناراضگی کا اظہار کرنے کی غرض سے وہی انداز تخاطب اپنایا ہے جو وہ اپنے پالتو جانوروں کے ساتھ اپناتی ہیں۔

اب دیکھیے کوئی قصاب جب کسی پر غصہ ہوتا ہے تو کہتا ہے ’’تیرا قیمہ بنا کر رکھ دونگا‘‘ اسی طرح جب کوئی دھوبی کسی سے ناراض ہوتا ہے تو کہتا ہے’’اچھی طرح دھلائی کردونگا‘‘ کسی پر اپنا غصہ نکالنے کی حالت میں کارپنٹر کہتا ہے ’’تجھے چھیل کے رکھ دونگا‘‘ یا لوہار اپنی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہتا ہے ’’تجھے کوٹ کے رکھ دونگا‘‘ اور بھاڑ جھونکنے والا کہتا ہے ’’بھون کے رکھ دونگا‘‘ وغیرہ وغیرہ۔

کسی بھی بھوکے کو اس طرح کے انداز کبھی برے نہیں لگتے۔ سب سے پہلے منیکا گاندھی نے الیکشن میں ووٹنگ ہونے سے قبل اور اس کے نتائج آنے سے پہلے ہی یہ اعلان کردیا کہ ’’میں الیکشن تو جیت رہی ہوں، میں یہ الیکشن تو پار کرچکی ہوں‘‘۔

ممکن ہے کہ وہاں ان کے جلسے میں اس وقت صرف وہی لوگ موجود رہے ہوں جنھیں وہ پہلے ہی ووٹ کے بدلے نوکریاں دے چکی ہیں یعنی ان کے سامنے روٹی کا ٹکڑا ڈال چکی ہوں اس لئے ان لوگوں میں سے کسی نے ان سے یہ سوال پوچھنے کی جسارت نہیں کی کہ محترمہ آپ کے اپنی پہلے سے طے شدہ اس جیت کا تعلق ای وی ایم سے ہے کہ اے ٹی ایم سے۔

یہ بات بھی واضح نہ ہوسکی کہ اگر انھیں کسی نے ان کی جیت کی خوشخبری پہلے ہی سے دیدی ہے تو پھر وہ ان بھوکے ننگے بے روزگار غریب لوگوں کے درمیان کھڑے ہوکر ووٹوں کی بھیک کیوں مانگ رہی تھیں۔

اپنی آہنکاری تقریر کے ذریعہ انھوں نے مسلم قوم کو یہ بات بھی واضح الفاظ میں بتادی کہ انھیں مسلم ووٹوں کی ہرگز ضرورت نہیں ہے بلکہ مسلمانوں کو ان کی ضرورت ہے۔ وہی نوکری مانگنے کے لئے ان کے در پر اپنی ناک رگڑنے کے لئے آئیں گے جس طرح ان کے پالتو جانور ان کے سامنے کھانا مانگنے سے پہلے کرتے ہیں۔ انھوں نے اپنی بات کی دلیل میں اپنی اس دریا دلی اور عنائتوں کا ذکر بھی کیا کہ جو وہ ماضی میں ہمیشہ ان لوگوں پر کرتی رہی ہیں جنھوں نے انھیں گذشتہ انتخابی حلقے پیلی بھیت میں اپنا ووٹ دیکرجتایا تھا۔ انھوں نے سامعین کو کھلی دعوت دی کہ اگر وہ اس سودے بازی کی مثال اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتے ہیں تو وہ پیلی بھیت میں دیکھ سکتے ہیں۔

میڈم نے یہ بتاتے ہوئے کہ ہم سب کوئی گاندھی جی کی چھٹی اولاد نہیں ہیں یہ بھی بات صاف کردی کہ وہ گاندھی واد میں یقین نہیں رکھتیں یعنی بغیر معاوضہ اور بدلے کے قومی خدمت کرنا ان کا فلسفہ نہیں ہے۔ با الفاظ دیگر وہ خود کو عوام کا خدمتگار یا سیوک تصور نہیں کرتیں بلکہ وہ الیکشن میں سودے بازی کرنے آئی ہیں۔

بہرحال اب ہمیں سلطان پور والوں کی قسمت کا حال جاننے کے لئے 23 مئی کی شام کو طوطے کے ذریعے نکالے گئے کارڈ کا انتظار رہیگا۔

Published: 21 Apr 2019, 8:10 PM