دفعہ 370: پنجاب کے گوشے گوشے سے کشمیریوں کے حق میں اٹھ رہی آواز

پنجاب کا ایک بڑا طبقہ کشمیر میں دفعہ 370 ختم کرنے کے خلاف کشمیریوں کے مظاہروں کی حمایت کر رہا ہے۔ اس کے تحت پنجاب کے ایک گوشے سے دوسرے گوشے تک کشمیریوں کے حق کے لیے آوازیں اٹھ رہی ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

پنجاب شاید ملک کی ایسی واحد ریاست ہے جہاں مقامی لوگ گروپوں کی شکل میں سڑکوں پر نکل رہے ہیں اور کشمیر کو تقسیم کرنے سے متعلق مرکزی حکومت کے فیصلے کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔ یہ لوگ 5 اگست کے بعد کشمیریوں پر ہو رہے ظلم کی کھل کر مخالفت کر رہے ہیں اور لوگوں کے سڑکوں پر نکلنے کا سلسلہ ہنوز جاری ہے۔

احتجاجی جلوس، مظاہروں اور سمیناروں میں عام لوگ، کسان، ملازمین، مزدور اور دانشور طبقہ کی شرکت سے جموں و کشمیر کے وہ لوگ خوش ہیں جو ریاست سے دفعہ 370 ہٹائے جانے اور کشمیر کو دو ٹکڑے کرنے کے حکومت کے فیصلہ کی پرزور مخالفت کر رہے ہیں۔ جو کچھ پنجاب میں ہو رہا ہے اسے نہ وزیر اعظم نریندر مودی اور نہ ہی وزیر داخلہ امت شاہ دیکھنا چاہتے ہیں۔ ان مخالفتوں کو پنجاب میں بی جے پی کی سب سے بڑی معاون پارٹی شرومنی اکالی دل بھی نظر انداز کر رہی ہے جو کبھی آنند پور صاحب تجویز اور جموں و کشمیر میں دفعہ 370 کی زبردست حامی تھی۔

پنجاب میں کئی مشہور ادارے دفعہ 370 کو ختم کیے جانے کے بعد اس کی مخالفت میں لگاتار سرگرم ہیں۔ ان میں اہم نام ہیں... نوجوان بھارت سبھا، لوک مورچہ پنجاب، ترک شیل سوسائٹی، پنجاب اسٹوڈنٹ یونین، بھارتیہ کسان یونین، کارخانہ مزدور یونین، ٹیکسٹائل ہوزری کامگار یونین، پینڈو مزدور یونین، کسان سنگھرش کمیٹی، دیش بھکت یادگار ہال کمیٹی، پنجاب کرمچاری یونین اور ملک کسان مورچہ۔ اپنے اپنے علاقوں میں ان اداروں کا عام لوگوں کے درمیان کافی اثر ہے۔

15 ستمبر کو چنڈی گڑھ میں 15 دیگر کسان تنظیموں کے ساتھ ان اداروں نے دفعہ 370 منسوخ کیے جانے کے خلاف عظیم الشان دھرنا و مظاہرہ کیا۔ سرکاری خفیہ ایجنسیوں کے مطابق اس میں 20 ہزار سے زیادہ لوگ جمع ہوئے۔ ٹھیک اسی دن پنجاب کے بھٹنڈا، مانسا، مختصر، فرید کوٹ، ترن تارن، امرتسر، لدھیانہ، سنگرور، برنالہ، پٹیالہ، نابھا، نواں شہر، موہالی وغیرہ ضلعوں و شہروں سمیت چھوٹے بڑے کئی قصبوں میں بھی مرکزی حکومت کے خلاف دھرنے و مظاہرے ہوئے۔

یہ سلسلہ ابھی تھما نہیں ہے۔ مخالفت کی آوازیں لگاتار بلند ہو رہی ہیں۔ کچھ اداروں کے نمائندوں نے کشمیر جانے کی کوشش کی تو انھیں جموں سے پہلے پٹھان کوٹ کے پاس ہی روک لیا گیا۔ ایسے ہی ایک ادارہ ’پنڈ بچاؤ‘ کے پروشوتم لال نے بتایا کہ انھیں مرکزی سیکورٹی فورس نے پٹھان کوٹ سے تھوڑا آگے روک لیا اور یہ کہہ کر واپس جانے کے لیے کہا کہ کشمیر تو کشمیر، جموں میں بھی ہماری جان کو خطرہ ہو سکتا ہے۔ ہم نے اس پر اعتراض کیا اور تحریری حکم دینے کو کہا تو ہمیں بے عزت کیا گیا۔ ہم وہیں دھرنے پر بیٹھ گئے تو دھکا دے کر ہمیں وہاں سے ہٹا دیا گیا۔

اس واقعہ سے صاف ہے کہ مرکزی حکومت جموں و کشمیر میں ہندوستانی آئین کے بنیادی حقوق کا کھلے عام اسلحہ کی طاقت پر خلاف ورزی کر رہی ہے اور غیر کشمیریوں کو بھی استحصال کا شکار بنایا جا رہا ہے۔ ٹھیک ایسا ہی تجربہ وہاں راشن-رسد اور دیگر سامان کے ساتھ جانے والی پنجاب کی کچھ تنظیموں کے نمائندوں کا بھی ہے۔ لوک مورچہ پنجاب کے کنوینر اور دیش بھکت یادگار ہال کمیٹی کے رکن املوک سنگھ زور دے کر کہتے ہیں کہ ’’کشمیر کو حکومت نے جبراً پنجرے میں قید کر دیا ہے۔‘‘

پنجاب اسٹوڈنٹ یونین کے سشیل کمار کا کہنا ہے کہ ’’مرکزی حکومت کی نگاہ میں اب ہر وہ شخص غدارِ وطن ہے جو کشمیریوں پر ہو رہی زیادتیوں کی دلیل کے ساتھ مخالفت کر رہا ہے۔ دفعہ 370 کو منسوخ کیے جانے کی مخالفت کرنے والوں کو پاکستان کا ایجنٹ تک کہا جا رہا ہے۔ حکومت کے فیصلے کے حمایتیوں کو برداشت ہی نہیں کہ کوئی کشمیریوں کے مفاد پر غیر جانبداری کے ساتھ بات کرے۔‘‘

عالمی شہرت یافتہ ڈرامہ نگار مرحوم گرشرن سنگھ کی بیٹی ڈاکٹر نوشرن کور کہتی ہیں کہ ’’کتنا افسوسناک ہے کہ کشمیر میں ہو رہے مظالم کی مخالفت کرنا بہت بڑا گناہ تصور کر لیا گیا ہے۔ آج جو کشمیریوں کے ساتھ ہو رہا ہے وہ کل کسی بھی دیگر ریاست اور سماج کے لوگوں کے ساتھ ہو سکتا ہے۔‘‘

پنجاب میں ایسا ماننے والے بڑی تعداد میں ہیں۔ کسان لیڈر گرچیتن سنگھ کہتے ہیں کہ ’’مرکزی حکومت کی کارروائی کو صرف کشمیر تک محدود کر کے نہ دیکھیے۔ مجھے ڈر ہے کہ کل کو پنجاب صوبے کو بھی ماجھا، مالوا، دوآبہ علاقوں میں تقسیم کر کے کٹھ پتلی وزرائے اعلیٰ کی وہاں تعیناتی کر دی جائے گی۔ ان ریاستوں میں ایسا کچھ ہونے کا امکان زیادہ ہے جو وفاقی ڈھانچے کو مضبوط کرنے کے حق میں ہیں۔‘‘

ایک تعلیم یافتہ کسان اور کسان سنگھرش کمیٹی کے لیڈر کنول جیت سنگھ پنّو کشمیر معاملہ میں اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’’پنجاب کے کسان دفعہ 370 اور 35 اے کو ختم کرنے کے فیصلے کو غیر کشمیریوں کے لیے کشمیر کی زمین پر زیادہ سے زیادہ قبضہ کرنے کی اجازت کی شکل میں دیکھتے ہیں۔ 370 جیسے وفاقی قانون مقامی آبادی کو ایک قسم کا بھروسہ دلاتے ہیں۔ وہ ریاستوں میں کسانوں اور نوجوانوں کے مفاد کے تحفظ میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ کسان چاہے کسی بھی ریاست کے ہوں، ہم ان کی زمینوں پر قبضہ کیے جانے کے خلاف ہیں اور کھل کر ان کا ساتھ دیں گے۔ بے شک کوئی ہمیں ملک کا غدار کہے۔‘‘

اس طرح کی آوازیں آپ کو پنجاب کے چپے چپے میں سننے کو ملیں گی۔ ویسے بھی کشمیر پنجاب کی پڑوسی ریاست ہے اور مختلف اسباب کی بنا پر دونوں کے درمیان اہم رشتہ ہے۔ یہ رشتہ صدیوں پرانا ہے۔ کشمیری پنڈتوں کی حفاظت کے لیے سکھوں کے نویں گرو یعنی گرو تیگ بہادر صاحب نے اپنی قربانی دی تھی۔ 1819 میں مہاراجہ رنجیت سنگھ نے کشمیر کو لاہور دربار کا حصہ بنایا تھا۔ اس دوران بہت سارے پنجابی کشمیر جا کر بسے اور ہمیشہ کے لیے وادی کا حصہ ہو گئے۔ کشمیر سے پنجاب کے ثقافتی اور سماجی رشتے تو رہے ہی ہیں، تجارتی لین دین بھی 5 اگست سے پہلے تک بہت مضبوط رہا ہے۔

فی الوقت یہ سلسلہ تھما ہوا ہے، لیکن پنجابی طبقہ کا ایک بڑا طبقہ جموں و کشمیر میں دفعہ 370 ختم کرنے کے خلاف کشمیریوں کی مخالفت کی حمایت کر رہا ہے۔ اسی کے تحت پنجاب کے ایک گوشے سے دوسرے گوشے تک کشمیریوں کے حق کے لیے آواز اٹھ رہی ہے اور پی ایم مودی اور امت شاہ کی کھلی مخالفت ہو رہی ہے۔ بیرون ممالک میں مقیم پنجابی طبقہ کے بے شمار لوگوں اور اداروں نے مرکز کے کشمیر سے متلق فیصلے کی سختی کے ساتھ مخالفت کی ہے۔

لیکن ان سب کے درمیان سابق وزیر اعلیٰ پرکاش سنگھ بادل کی سرپرستی والے اس شرومنی اکالی دل کے رخ پر پنجاب میں حیرانی ظاہر کی جا رہی ہے جو دفعہ 370 منسوخ کیے جانے کی طرفداری کر رہا ہے۔ بادل پہلے 370 کے حامی رہے تھے، لیکن اب خلاف ہو گئے ہیں۔ جب کہ دیگر سکھ تنظیمیں اور ادارے مرکزی حکومت کے اس قدم کی زبردست مخالفت کر رہے ہیں۔ بادل کی قیادت والے اکالی دل کو بنیادی طور پر کسانوں کی پارٹی تصور کیا جاتا ہے اور دفعہ 370 ختم کرنے کے خلاف ہو رہے دھرنے و مظاہروں میں سب سے زیادہ پنجاب کے کسان ہی شامل ہو رہے ہیں۔ اس پہلو پر بادل کی پارٹی کا کوئی بھی چھوٹا بڑا لیڈر بولنے کو راضی نہیں ہے۔

اُدھر پنجاب میں کشمیر کو لے کر صرف سڑکوں پر ہی دھرنا و مظاہرہ نہیں ہو رہا ہے، بلکہ سمینار اور ورکشاپ بھی ہو رہے ہیں۔ تقریباً تمام ترقی پسند دانشور دفعہ 370 ختم کیے جانے کی مخالفت کر رہے ہیں اور خوب لکھ بھی رہے ہیں۔ اکتوبر کے پہلے پندرہ دنوں میں لدھیانہ میں ایک بڑا سمینار ہونے جا رہا ہے اور اس کے بعد پنجاب کے مختلف شہروں و قصبوں میں ایسے سمینار انعقاد ہوں گے جن میں مرکزی حکومت کی کشمیر پالیسی کی پرزور مخالفت کی جائے گی۔ اسی طرح کا ایک کامیاب پروگرام گزشتہ دنوں چنڈی گڑھ میں پنجاب یونیورسٹی میں منعقد ہوا۔ اس پروگرام کے آرگنائزروں میں سے ایک طالب علم امن کے مطابق ’’ہم نے جب یونیورسٹی میں 13 اگست کو دفعہ 370 کو ختم کرنے پر ایک مباحثہ پروگرام رکھا تو یونیورسٹی اور چنڈی گڑھ انتظامیہ نے اسے روک دیا تھا۔ حالانکہ بعد میں ہم اسے کروانے میں کامیاب رہے۔ سبھی اس بات سے متفق تھے کہ دفعہ 370 ختم کرنے کا فیصلہ نہایت غیر جمہوری ہے۔‘‘