یوگی آدتیہ ناتھ کے خلاف بی جے پی-آر ایس ایس میں مخالفت تیز!

ضمنی انتخابات کے نتائج سے اتر پردیش میں بی جے پی دو خیموں میں منقسم ہو گئی ہے۔ ایک طرف وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کا خیمہ ہے تو دوسری طرف بی جے پی کے وہ لوگ ہیں جن کی آر ایس ایس سے قربت ہے۔

کیا بی جے پی اعلیٰ کمان آر ایس ایس کی مدد سے اتر پردیش میں وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے خلاف ماحول بنا رہے ہیں؟ کیا حال کے ضمنی انتخابات میں بی جے پی کی شکست کا ٹھیکرا اب یوگی آدتیہ ناتھ کے سر پھوڑنے کا بی جے پی اور آر ایس ایس نے فیصلہ کر لیا ہے؟ اتر پردیش میں ان دنوں ایسے سوالات سیاسی گلیاروں میں خوب پوچھے جا رہے ہیں۔ بی جے پی کی ہری جھنڈی ملنے کے بعد آر ایس ایس کے پرانے پرچارکوں نے زمینی سطح پر پارٹی کی کمان اپنے ہاتھ میں لینا شروع کر دی ہے، ساتھ ہی دبی آوازوں میں ہی سہی، یوگی آدتیہ ناتھ کے خلاف بی جے پی کارکنان کی ناراضگی کو سب کے سامنے لانے کا کام بھی شروع ہو چکا ہے۔

تازہ معاملہ مغربی اتر پردیش کا ہے۔ گزشتہ پیر کے روز وزیر اعلیٰ آدتیہ ناتھ غازی آباد آئے تھے۔ ایجنڈا تھا حال کے ضمنی انتخاب، خصوصاً کیرانہ اور نور پور میں ملی شکست کا تجزیہ، کارکنان کی حوصلہ افزائی، ان کے مسائل سننا اور ضرورت پڑنے پر افسروں کو مناسب ہدایات دینا تاکہ پارٹی کے ممبران پارلیمنٹ، ممبران اسمبلی اور کارکنان کو لوگوں سے جڑنے میں آسانی ہو۔

یوگی آدتیہ ناتھ کے اس دورے کو مشن 2019 کے لیے کارکنان کا حوصلہ بڑھانے کی قواعد کے طور پر بھی دیکھا جارہا تھا۔ لیکن یوگی نے اپنے اس پروگرام میں سنی کسی کی نہیں، صرف 40 منٹ کی تقریر کی اور چلتے بنے۔ بی جے پی کے عوامی نمائندہ اور افسران اپنی بات کہنے کا انتظار ہی کرتے رہ گئے۔

آئندہ سال ہونے والے لوک سبھا انتخابات کے لیے پارٹی کی پالیسی کو دھار دینے کے لیے ہونے والی میٹنگ کے طور پر مشتہر اس انعقاد میں مغربی اتر پردیش کے 19 اضلاع کے 14 ممبران پارلیمنٹ اور 59 ممبران اسمبلی (ان میں ایم ایل اے اور ایم ایل سی دونوں شامل تھے) کو طلب کیا گیا تھا۔ غازی آباد میں میرٹھ روڈ پر آر کے جی آئی ٹی کے جلسہ گاہ میں ہوئی اس میٹنگ کے بارے میں کہا گیا تھا کہ وزیر اعلیٰ پارٹی لیڈران کے ذریعہ سے افسران کا فیڈ بیک لیں گے۔ اس کی بنیاد پر عوامی نمائندوں کی نہیں سننے والے افسران پر کارروائی کی جائے گی۔

لیکن وزیر اعلیٰ یوگی نے کسی کی نہیں سنی۔ بتایا جا رہا ہے کہ پارٹی کے پالیسی سازوں کو اندیشہ تھا کہ کچھ ممبران پارلیمنٹ و ممبران اسمبلی وزیر اعلیٰ کے سامنے تنظیم کو لے کر اپنی ناراضگی ظاہر کر سکتے ہیں۔ اسی لیے کسی کو بولنے کا موقع نہیں دیا گیا۔ ایک دو ممبر اسمبلی یا ممبر پارلیمنٹ یا پارٹی رہنماؤں نے بولنے کی کوشش کی تو انھیں خاموش کرا دیا گیا۔ زیادہ زور دینے پر کہا گیا کہ اپنی شکایت لکھنؤ لے کر آئیے۔

دراصل اس میٹنگ میں شامل کئی عہدیداران اور کچھ ممبران اسمبلی آر ایس ایس کے قریبی اور پرانے سویم سیوک ہیں۔ وہ مغربی اتر پردیش میں افسرشاہی کے ساتھ ہی تنظیمی سطح پر جاری جانبداری سے کافی ناراض ہیں۔ وزیر اعلیٰ کے سامنے بات نہ رکھ پانے سے ناراض ایسے ممبران اسمبلی کا ایک گروپ اب کھل کر وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے خلاف محاذ کھولنے کی تیاری کر رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق وزیر اعلیٰ کے یہاں سے روانہ ہونے کے فوراً بعد ہی ممبران اسمبلی کے ایک گروپ نے بند کمرے میں میٹنگ کی۔ اس میٹنگ میں سب سے زیادہ ناراضگی لونی کے ممبر اسمبلی نند کشور گوجر اور ان کے حامی پارٹی عہدیداران نے ظاہر کی۔ حال ہی میں نند کشور کی سیکورٹی ضلع پولس نے کم کر دی تھی۔ اس کے بعد اتوار کی شب ان پر مبینہ طور پر حملہ بھی ہوا۔ اس معاملے کی جانچ جاری ہے۔ لیکن ان سارے واقعات سے یو پی بی جے پی کی خیمہ بندی سامنے آنے لگی ہے۔

ایک طرف یوگی آدتیہ ناتھ کا خیمہ تو دوسری طرف بی جے پی کے وہ لوگ ہیں جن کی آر ایس ایس سے نزدیکیاں ہیں۔ غازی آباد میٹنگ میں نظر انداز کیے جانے اور وزیر اعلیٰ کے رویے سے ناراض ممبران اسمبلی کا گروپ جلد ہی اس معاملے کو اعلیٰ کمان تک لے جانے کی تیاریوں میں ہے۔ قابل غور ہے کہ حال ہی میں اتر پردیش بی جے پی نے اپنے علاقائی سکریٹری میں بھی رد و بدل کرتے ہوئے آر ایس ایس کے پرانے پرچارکوں کو ذمہ داریاں سپرد کی ہیں۔ جن علاقوں میں تنظیمی سکریٹری بدلے گئے ہیں ان میں وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کا علاقہ گورکھپور بھی شامل ہے۔

سب سے زیادہ مقبول