اے ایم یو: طلباء کی دانشمندی سے بی جے پی-آر ایس ایس کا منصوبہ ناکام

جناح کی تصویر تو محض ایک بہانا ہے، فرقہ پرست طاقتیں صرف نفرت پھیلانے کے لئے یہ سب کچھ کر رہی ہیں۔

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو ) کے طلباء کی زبردست تحریک چھیڑ دینے کے بعد شرپسند ہندو تنظیمیں بجرنگ دل اور ہندو یوا واہنی کسی بھی طرح جناح کی تصویر کے تنازعہ کو ہندو بنام مسلم یا جناح بنام قومیت میں تبدیل نہیں کر پا رہیں۔ اے ایم یو کی طلباء یونین کے پیچھے وہاں کے اساتذہ کی دانشمندانہ قیادت تو کھڑی ہی ہے ۔ ملک بھر کی یونیورسٹیوں ، سماجی کارکنوں اور بیرون ملک سے بھی ان کی حمایت کی جا رہی ہے۔ یہی وجہ ہے یہ مدااب سابق نائب صدر حامد انصاری کے وقار، ان کی حفاظت اور طلباء کی سیکورٹی تک ہی محدود رہ گیا ہے۔ اے ایم یو کی تاریخ میں پہلی بار اساتذہ نے جلوس نکال کر صدر جمہوریہ کے نام مکتوب پیش کیا اور انصاف کی گہار لگائی ہے۔

اس تحریک کو اور بھی خاص طالبات کی خاطر خواہ شمولیت بناتی ہے۔ دیر شام تک بھاری تعداد میں لڑکیاں احتجاج میں حصہ لیتی ہیں اور نعرے بلند کرتی ہیں ۔ علی گڑھ ویمن مسلم کالج کی طلباء یونین کی صدر نبا نسیم نے ’قومی آواز‘ کو بتایا کہ حکومت کی جانب سے طلباء پر کیا گیا حملہ منظم ہے۔ نبا کہتی ہیں ،’’جب سے مودی حکومت برسراقتدر آئی ہے تب سے طلباء کو زد و کوب کرنا ایک چلن بن گیا ہے۔ جے این یو اور بی ایچ یو کے بعد اب اے ایم یو پر حملہ کیا گیا ہے۔ وہ ہماری اظہار رائے کی آزادی پر حملہ کر رہے ہیں، ہم اسی کے خلاف اترے ہیں اور جیت کر ہی واپس لوٹیں گے۔ ‘‘

اے ایم یو طلباء یونین کے صدر مشکور احمد پولس کی مار کے بعد زخمی ہیں اس کے باوجود وہ وہیل چیئر پر بیٹھ کر تحریک میں شامل ہو رہے ہیں۔ مشکور کہتے ہیں ’’یہ آر ایس ایس کی طرف سے پھیلایا گیا ہے کہ اے ایم یو میں محض مسلمان زیر تعلیم ہیں۔ یہاں تقریباً 50 فیصد طلباء ، اساتذہ اور ملازمین غیر مسلم ہیں۔ آج تک کوئی فرقہ وارا نہ تنازعہ کیمپس میں نہیں ہوا۔ ہم یہ ساری لڑائی اپنے مہمان سابق نائب صدرجمہوریہ حامد انصاری کی عزت و وقار اور حفاظت کے لئے لڑ رہے ہیں۔ ‘‘ مشکور کہتے ہیں ’’پولس نے جس طرح ہم پر حملہ کیا اس کی وجہ سے طلباء میں سخت غم و غصہ ہے۔ ہم حملہ آوروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر ہے ہیں۔ لیکن ایسا محسوس ہوتا ہےکہ پولس انتظامیہ اے ایم یو کو بدنام کرنے کی کوشش میں مصروف ہے۔ اسی بہانے کرناٹک انتخابات اور 2019 کے لئے پولیرائزیشن کی کوشش کی جار ہی ہے، جو کہ ہم قطعی نہیں ہونے دیں گے۔ ‘‘

اے ایم یو میں آج تک طلباء یونین اور پولس انتظامیہ کے تعلقات بہتر تھے جبکہ آج یہاں علی گڑھ کے ایس ایس پی کے خلاف پوسٹر لگے ہوئے نظر آتے ہیں۔ یہاں کے سابق ایس ایس پی راجیش پانڈے کو تو طلباء یونین نے الوداعی تقریب کے دوران اعزاز بھی دیا تھا لیکن موجود ہ ایس ایس پی کے خلاف طلباء میں بہت غصہ ہے۔

اے ایم یو سے بی اے (پالیٹیکل سائنس ) کی تعلیم حاصل کر رہے طالب علم کامران نے کہا ’’سنگھ اور بی جے پی اے ایم یو کی شبیہ کو نقصان پہنچانے پر آمادہ ہیں اور ہمارے مستقبل سے کھلواڑ کر رہے ہیں۔ ‘‘ طلبہ یونین کے نائب صدر سجاد سبحان کہتے ہیں ’’ایس ایس پی کے ساتھ ساتھ بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ کا کردار بھی اس معاملہ میں شرمناک ہے۔ یہ تو اچھا ہے کہ شہر علی گڑھ نے بی جے پی اور سنگھ کا فرقہ پرستی کا کارڈ نہیں چلنے دیا۔ ‘‘

اے ایم یو ٹیچرس ایسو سی ایشن کے سکریٹری پروفیسر نظر الاسلام نے بتایا کہ ’’ہم طلباء کے حق میں اس لئے اترے ہیں کیونکہ اے ایم یو کی تاریخ میں کبھی اتنی بے رحمی سے لاٹھی چارج نہیں کی گئی۔ طلباء یونین کی تقریب کو خراب کرنے کے لئے بیرونی افراد نے حملہ کیا ، لیکن پولس نے شرپسندوں کو روکنے کے بجائے طلباء کو ہی زد و کوب کیا اور ان پر آنسو گیس کے گولے چھوڑے، اے ایم یو کا دنیا میں نام ہے ، ہم اس کا نام خراب نہیں ہونے دیں گے۔ ‘‘

اے ایم یو میں ہی زیر تعلیم تنوشکا سرویش نے کہا ’’دراصل اے ایم یو کو بدنام کر کے سنگھ -بی جے پی سیاسی فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ ‘‘ فائن آرٹس کے دانش کہتے ہیں ’’اس معاملہ میں غیر جانبدارانہ طور پر ایف آئی آر ہونی چاہئے اور یہ طلباء کا حق ہے۔ ‘‘

اے ایم یو کے پی آر او عمر نے کہا ’’میرا سوال ہے کہ جو لوگ اے ایم یو کو منی پاکستان جیسے القاب سے نواز رہے ہیں وہ لوگ ہیں کون! وہ ذرا بتائیں کہ انہوں نے اس ملک کے لئے کیا کیا ہے۔ ‘‘

اے ایم یو میں استاذ رہ چکے ایم. رحمٰن نے کہا ’’جناح کی تصویر تو محض بہانا ہے ۔ فرقہ پرست طاقتیں نفرت پھیلانے کے لئے یہ سب کچھ کر رہی ہیں۔ لیکن اے ایم یو کی طرف سے ان کے منصوبوں کو ناکام بنایا جا رہا ہے۔ ‘‘

سب سے زیادہ مقبول