ایران۔امریکہ تنازع اور عالم اسلام... نواب علی اختر

ایران کے میزائل کسی امریکی فوجی کو مار پائے ہوں یا نہیں، اس خوشی کے بجائے اس بات پر بحث کیجیے کہ کم از کم مضبوط ترین دفاعی نظام کے باوجود امریکی اڈوں تک میزائل پہنچ گئے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

نواب علی اختر

خود کو دنیا کا سپر پاور کہنے والے امریکہ کی مطلق العنانیت نے ایک بار پھر مشرق وسطی اور خلیج فارس میں کشیدگی کو ہوا دی ہے۔ امریکہ کی جانب سے حالیہ دنوں میں مسلسل ایسے اقدامات کیے جا رہے تھے جن سے اندیشے پیدا ہوگئے ہیں کہ آیا امریکہ علاقہ میں ایک اور جنگ تو مسلط کرنا نہیں چاہتا؟ ان اندیشوں کے دوران امریکہ نے گزشتہ جمعہ کوعلی الصباح بغداد ائرپورٹ پر ’دہشت گردانہ‘ حملہ کرکے ایران کی القدس بریگیڈ کے سربراہ میجر جنرل قاسم سلیمانی کو قتل کردیا۔ امریکہ کی جانب سے اس ساری کارروائی کو اپنے دفاع میں کیا گیا اقدام قرار دیا جا رہا ہے، لیکن یہ حقیقت ہے کہ یہ امریکہ کی کھلی جارحیت ہے۔ اس حملے کو امریکہ کی بین الاقوامی دہشت گردی ہی کہا جائے گا کیونکہ وہ کسی تیسرے ملک میں ایک روایتی حریف ملک کے اعلیٰ فوجی عہدیدار کو حملہ کرتے ہوئے قتل کردیتا ہے اور من مانا جواز پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے جو کسی بھی صحیح العقل گوشہ کے لئے قابل قبول نہیں ہوسکتا۔

امریکی صدر کے حکم پر عراق میں موجود ایران کی دوسری با اثر ترین شخصیت قاسم سلیمانی کو قتل کردیا گیا۔ یہ تو نہیں معلوم کہ امریکی صدر نے اس فیصلے پر کتنا غور و خوض کیا لیکن یہ ایک ریاست کی جانب سے کسی دوسری ریاست کے خلاف اٹھایا جانے والا اتنا بڑا قدم ہے جس پر ایک آزاد و خود مختار ریاست کی جانب سے ردِعمل دینا اس ریاست کی آزادی و تشخص اور اس قوم کی غیرت کا لازمی تقاضا ہے۔ چنانچہ اقوام کی اسی فطرت کے ماتحت ایران نے حملے کے فوراً بعد کڑا بدلہ لینے کے اپنے اعلان کوعملی جامہ پہناتے ہوئے عراق میں امریکہ کے فوجی اڈوں پر فضائی حملے کر دیئے۔ ایران حامی ذرائع ابلاغ نے اس حملے میں 80 امریکیوں کے مارے جانے کا دعویٰ کیا ہے حالانکہ مغربی ذرائع امریکہ کے نقصان کی تصدیق نہیں کر رہے ہیں۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے مخالفین نے امریکہ کی دہشت گردی پرجشن منایا تو کچھ لوگ ایران کی’ناکامی‘ پرتالیاں بجا رہے ہیں کہ ایران-امریکہ کو جھکا نہیں سکا۔ واہ واہ مزہ آگیا! کیا بات ہے کہ دو درجن میزائل مارے لیکن ایک امریکی فوجی بھی نہیں مارا جاسکا۔ جبکہ امریکہ نے قاسم سلیمانی کو نشانہ بنایا۔ ایران ناکام رہا۔ امریکہ حملے کرتا رہا، ایران کو معاشی لحاظ سے کمزور کردیا گیا، ایران کے اندر قدامت پسندی اور جدیدیت کے نام لیواؤں کے درمیان خاموش جنگ کروا دی گئی، دفاعی لحاظ سے ایران پر قدغن لگائی جاتی رہی ہیں، فقہی چھاپ ایران پر لگنا شروع ہوگئی، اپنے رہنماؤں پر عالمی پابندیاں لگوا لیں لیکن ایران ’ناکام‘ رہا۔ امریکہ و یورپ آئے دن نئی پابندیاں لگا دیتے ہیں۔ ایران دوسرا عراق ثابت ہو رہا ہے لیکن اب تک ایران ’ناکام‘ رہا۔

یہ بطور امت ہماری پستی کی علامت ہے کہ ہم بغض ایران میں حب امریکہ کا تمغہ سجائے بیٹھے ہیں اور اس پر شاداں و نازاں بھی ہیں۔ ہم قاسم سلیمانی کو نشانہ بنائے جانے کو فقہی و گروہی و علاقائی اختلافات کے ترازو میں ڈال رہے ہیں اور ایرانی حملے کو ناکام ثابت کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔ یہی صورت حال رہی تو کل کو ایران جو اسرائیل کے مقامات کو نشانہ بنائے جانے کے بیانات دیتا رہتا ہے، اگر ایسا حقیقت میں کرگیا تو ہم شائد اس وقت بھی ایران کے اسرائیل کے خلاف حملے ناکام بنا دینے کا جشن منار ہے ہوں گے۔ مجھے تو حیرت اس بات پر ہے کہ ہم تصور کیے بیٹھے ہیں کہ عالم اسلام کے دشمن امریکہ و اسرائیل ہیں، ہم تو اپنے دشمن خود ہیں۔ قاسم سلیمانی کو راہ سے ہٹانے کے لیے آنے والے ڈرون پر کیا کوئی سنی-شیعہ کا پرچم لہرا رہا تھا؟ داغے جانے والے میزائل پر کیا تحریر تھا کہ یہ میزائل شیعہ قاسم سلیمانی کو نشانہ بنانے جارہا ہے؟ اور اب اگر ایران نے میزائل داغے تو کیا ایران نے میزائلوں کو سمجھا کر بھیجا کہ تم صرف شیعوں کی طرف سے جا رہے ہو؟

امت نامی غبارے سے ہوا ہم خود نکال رہے ہیں، ہم امت کو اپنی ذات تک محدود کر رہے ہیں۔ ’ایران ناکام رہا‘ کی بغلیں بجانے سے باہر نکلیے تاکہ آپ کو اندازہ ہو کہ آپ کس دنیا میں جی رہے ہیں۔ ایران سپر پاور کے سامنے کھڑا ہے اور یہ کھڑا ہونا ہی اہم ہے۔ بیس سے تیس سال قبل کی مضبوط ترین اسلامی طاقتوں عراق، شام، ترکی، ایران ، لیبیا میں سے عراق، شام، لیبیا کو تو کھنڈرات میں تبدیل کیا جاچکا ہے۔ ترکی کیونکہ اکھڑ مزاج گھوڑا ہے، قابو میں کرنا مشکل ہو رہا ہے۔ باقی بچ گیا ایران۔ ایران پر حالیہ تنگ ہوتے گھیرے کو اک لمحے یہ سوچ کر دیکھیے کہ یہ ایک نہ رکنے والا سلسلہ ہے۔ اگر تو ایران پر سلسلہ رک جائے اور باقی مسلم امہ کو ضمانت مل جائے کہ ’سب خیریت ہے‘ تو ہم بھی جشن منا لیتے ہیں لیکن اگر ایسا نہیں تو ہوش کے ناخن لیجیے۔

ایرانی میزائلوں نے جانی نقصان کیا یا نہیں؟ لیکن امریکی صدر یہ کہنے پر کیوں مجبور ہوگئے کہ وہ جنگ نہیں چاہتے۔ ضرب کاری لگی ایران پر کوئی شک نہیں لیکن آپ اس حقیقت سے یکسر انکار کیوں کرتے ہیں کہ ایران نے مشرق وسطیٰ میں امریکی مفادات کو کوئی ایسی چوٹ دی ہے جس کی وجہ سے امریکہ اس انتہائی قدم پر مجبور ہوگیا۔ آپ اس میزائل حملے تک اپنی سوچیں محدود کرچکے ہیں لیکن آپ لبنان، یمن، عراق، شام کی پراکسی وار کو نہ جانے کیوں بھول بیٹھے ہیں۔ ایران اگرناکام رہا تو ایسا اچانک کیا ہوا کہ امریکی اتنے اہم عہدیدار کو راہ سے ہٹانے پر مجبور ہوا؟ ایران کچھ نہیں کرسکا، تو کون ہے جس نے اتنے ناکوں چنے چبوا دیئے کہ یہ مشکل فیصلہ کرنا پڑگیا؟

عالم اسلام کے دوسرے بڑے دشمن اسرائیل خود کو اس واقعے سے الگ قرار دے رہا ہے، امریکہ جنگ نہیں چاہتا۔ روس کے صدر ولا دیمیر پوتن ایرانی حملے کے بعد شام و ترکی کے دورے پر پہنچ گئے۔ فرانس کے صدر سے حسن روحانی کی گفتگو اہمیت کی حامل ہے۔ نیٹو بچے کھچے ممالک جن کی فوجیں عراق میں موجود ہیں، انہوں نے واپسی کا عندیہ دے دیا ہے۔ عراق جیسے محکوم اور تباہ حال ملک کی پارلیمنٹ امریکی فوج کی واپسی کی قرارداد منظور کرچکی ہے۔ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور یہ قیمتیں بڑھنا مضبوط ترین ہونے کے دعویداروں کو بھی پریشان کررہا ہے۔ دنیا بھر کے اسٹاک بازار تنزلی کا شکار ہوگئے ہیں۔ پھر ہم نہ جانے کیسے کہہ سکتے ہیں کہ ایران ناکام رہا۔ ایران سے ذاتی اختلاف میں دشمنوں کے ہاتھ مضبوط نہ کیجیے۔ ایران کے میزائل کسی امریکی فوجی کو مار پائے یا نہیں، اس خوشی کے بجائے اس بات پر بحث کیجیے کہ کم از کم مضبوط ترین دفاعی نظام کے باوجود امریکی اڈوں تک میزائل پہنچ گئے۔ مقابلہ ایک اور سو کے تناسب سے بھی ہو لیکن فرق یہ نہیں پڑتا کہ مقابل سو ہیں، یہ دیکھنا ضروری ہے کہ جو ایک ہے وہ کھڑا ہے یا بھاگ گیا۔ آج جو ایران کے خلاف امریکی اقدام پر خاموش ہیں وہ جرم میں برابر کے شریک ہیں۔ ایران کے سعودی عرب سے اختلافات ہیں تو انہیں ختم کرنے کی سبیل سوچیے نہ کہ ایک دوسرے کو مار پڑتی دیکھ کر خوشی منانا شروع کر دیں۔ ہمیں اپنی سوچ سے فرقہ واریت ختم کرنا ہوگی تب ہی یہود و نصاریٰ کا مقابلہ ہم کرسکتے ہیں۔