الوداع 2020: ’ایک لمحہ میں سمٹ آیا ہے صدیوں کا سفر‘

سال 2020 کے دوران ’ورک فرام ہوم‘ کا تجربہ کیا، میرے جیسے چھوٹے قصبے کے باشندگان کے لئے اس میں دقتیں تو بہت ہیں لیکن گھر والوں کے ساتھ اتنے لمبے عرصے تک وقت گزارنا بھی کسی نعمت سے کم نہیں

دہلی میں سال 2020 کی آخری شام / تصویر آئی اے این ایس
دہلی میں سال 2020 کی آخری شام / تصویر آئی اے این ایس
user

عمران خان میواتی

عمران خان

نئے سال کے آنے یا جانے کا ذاتی طور پر میری زندگی پر کبھی کوئی خاص فرق نہیں پڑا اور نا ہی میں نئے سال کے جشن جیسی چیزوں میں کبھی شامل رہا۔ یوں بھی شور شرابے کا ماحول مجھے کبھی پسند نہیں آتا اور نہ ہی زیادہ لوگوں کے ساتھ میری دوستی ہے جو ان کے ساتھ کہیں گھوموں پھروں اور جشن مناؤں۔ لیکن 2020 ایک ایسا سال ہے جو میرے جیسے سال کے بدلنے پر لاتعلق رہنے والے شخص کو بھی پیچھے پلٹ کر دیکھنے پر مجبور کر رہا ہے۔ دنیا کو خیرباد کہہ چکے اس سال کے دوران پھیلنے والی عالمی وبا کووڈ-19 کی وجہ سے اتنا کچھ ہوا کہ اس پر نہ جانے کتنی کتابیں، فلمیں اور ڈرامے ہمیں آنے والے برسوں میں پڑھنے دیکھنے اور سننے کو ملیں گے۔ اس سال میں جو کچھ بھی ہوا اس کا اثر کسی ایک شخص یا ایک ملک تک محدود نہیں رہا بلکہ دنیا کے ہر خاص و عام کو اس نے متاثر کیا۔

میں اپنے ذاتی تجربہ کے بارے میں بات کروں تو بہت سی تلخ یادوں کے ساتھ اس سال کے دوران کئی ایسے واقعات بھی میری زندگی میں آئے جو خوشی اور مسرت سے مجھے لبریز کر گئے۔ میڈیا میں کام کرنے کی وجہ سے خبروں میں ہی رہتا ہوں اور خبروں کے اندر کی خبر کی بھی اکثر چیر پھاڑ کرنی ہوتی ہے، اس وجہ سے بعض اوقات کچھ خبروں کا اپنی ذات پر بھی اثر ہوتا ہے۔ سال کے شروع ہونے کے ساتھ ہی شہریت قانون کے خلاف شاہین باغ سمیت ملک بھر میں ہونے والے مظاہروں کی خبر بھی کچھ ایسی ہی تھی جس سے جذباتی طور پر جڑاؤ محسوس ہوا اور کئی مرتبہ دل افسردہ رہا۔ تاہم جس طرح سے عوام اور خصوصی طور پر گھروں میں رہنے والی خواتین احتجاج کی مشعل لے کر میدان میں اتریں وہ دیکھ کر خوشی بھی محسوس ہوئی۔

شہریت قانون کے خلاف مظاہروں کے دوران ہی ایک خبر دبے پاؤں دنیا بھر میں چھا جانے کے لئے پیش قدمی کر رہی تھی اور وہ تھی چین کے ووہان شہر میں کورونا وائرس کے پھیلنے کی خبر۔ شروعات میں یہاں ہندوستان میں اس وائرس کو حکومت اور عوام نے سنجیدگی سے نہیں لیا اور حالات بگڑنے پر مارچ کے مہینے میں لاک ڈاؤن نافذ کرنا پڑا۔ اس کے بعد جو کچھ بھی یہاں کے لوگوں نے برداشت کیا اور جو جو پریشانیاں اٹھائیں اس نے اس سال کو ایک کبھی نہ بھول پانے والا سال بنا دیا۔ اپنے آس پاس نظر ڈالوں تو لوگ روزگار کو لے کر اتنے زیادہ پریشان تھے کہ کبھی کبھی ڈر لگتا تھا کہ سب کچھ ایسے ہی چلتا رہا تو کیا ہوگا! بہر حال وہ وقت گزر گیا اور اب ہم ایک نئے سال کی صبح کے آغوش میں ہیں۔

سال 2020 میں میں نے ’ورک فرام ہوم‘ یعنی گھر سے کام کرنے کا بھی تجربہ کیا۔ میرے جیسے چھوٹے قصبے کے باشندگان کے لئے اس میں دقتیں تو بہت ہیں لیکن گھر والوں کے ساتھ اتنے لمبے عرصہ تک وقت گزارنا بھی میرے لئے کسی نعمت سے کم نہیں۔ اس موقع میں چار چاند اس وقت لگ گئے جب لاک ڈاؤن کے دوران ہی میرا نکاح بھی ہو گیا۔ عام موقع ہوتا تو آفس سے کچھ چھٹیاں بھی لینی پڑتیں اور جلد ہی واپس بھی لوٹ جانا پڑتا لیکن چونکہ گھر ہی سے کام کر رہا تھا تو اس کی زیادہ ضرورت ہی نہیں پڑی اور سارے کام خیر و عافیت سے نمٹ گئے۔ دیکھتے ہی دیکھتے 9 مہینے کا عرصہ گزر گیا اور سال 2020 اپنے انجام کو پہنچ گیا۔

سال 2021 کی دہلیز پر کھڑے ہو کر سال 2020 کی طرف دیکھوں تو ایک مشہور غزل کا یہ شعر ذہن میں گونجتا ہے، ’ایک لمحہ میں سمٹ آیا ہے صدیوں کا سفر، زندگی تیز بہت تیز چلی ہو جیسے‘۔ نیا سال بھی کیا کچھ رنگ دکھانے والا ہے اور انسانیت وبا کا مقابلہ کس طرح سے کرے گی یہ تو ہم سارے سال ہی دیکھیں گے۔ ابھی تو صرف دعا ہی کی جا سکتی ہے کہ خدا پنے بندوں کا اب اور امتحان نہ لے اور ہر پریشانی ہر بیماری اور طرح کی خرافات کو دنیا سے دور کر دے۔ آمین

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 01 Jan 2021, 9:40 AM
next