علی گڑھ مسلم یونیورسٹی معاملہ: صبر ہی بہترین حکمت عملی

ہندوستانی مسلمانوں کے لیے صبر ہی بہتر راستہ ہے جس کی تعلیم رسول کریم نے بھی دی ہے۔ سنت رسول کے مطابق جب تک وہ خود مضبوط نہیں ہو گئے انھوں نے دس برس اعلانِ نبوت کے بعد محض صبر کا راستہ اختیار کیا۔

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی طلبا کے ساتھ پولس نے جو کچھ کیا وہ ناقابل برداشت بات تھی۔ پہلے ہندووادی طاقتیں یونیورسٹی میں داخل ہوئیں اور طلباء یونین کے ذمہ داران کے ساتھ بدمعاشی کی۔ جب اس معاملے کی شکایت درج کرنے یونین کے لڑکے ایک جلوس کی شکل میں پولس تھانے پہونچے تو پولس نے بے تحاشہ اور بے وجہ لڑکوں کی لاٹھیوں سے پٹائی کی۔ بھلا بتائیے کس یونیورسٹی کے طلبا اس زیادتی کو برداشت کر سکتے ہیں! وہ تو علی گڑھ یونیورسٹی کی طلباء یونین نے سمجھداری سے کام لیا اور معاملے کو یونیورسٹی تک محدود کر دیا ، ورنہ بات بہت بڑھ جاتی۔

لیکن یہ بے وجہ علی گڑھ یونیورسٹی طلبا یونین ہال میں لگی محمد علی جناح کی ایک تصویر پر یکایک اس قدر ہنگامہ کیوں! اس میں کوئی شک نہیں کہ جناح کی تصویر وہاں نہیں ہونی چاہئے تھی۔ لیکن سنہ 1938 سے لگی اس تصویر کو اب ہٹانے کی مانگ کس قدر جائز ہے! اور پھر اس پر جس طرح ہندووادی طاقتوں نے یونیورسٹی پر دھاوا بولا وہ کس حد تک جائز تھا! آخر اب اس وقت یکایک علی گڑھ یونیورسٹی یونین ہال سے جناح کی تصویر کو ہٹانے کی مانگ کا مقصد کیا ہے!

مقصد کچھ اور نہیں ، مسلم یونیورسٹی طلباء کو چھیڑ کر ان کو سڑکوں پر نکالنا تھا۔ لیکن یونیورسٹی طلباء کو سڑکوں پر نکالنے کے پیچھے کیا راز! اگر لڑکے سڑکوں پر نہیں نکلتے تو اخباروں اور ٹی وی پر یہ بحث کیسے چھڑتی کہ ’مسلم یونیورسٹی‘ میں بانی پاکستان محمد علی جناح کی تصویر آج تک لگی ہے۔ یعنی مسلم یونیورسٹی کے طلباء اور اس ملک کے مسلمان آج بھی جناح کے حامی ہیں۔ لیکن ان باتوں کا فائدہ کیا!

ارے جناب! ایسی تما م حرکتیں بی جے پی کے سیاسی فائدے کے لئے ہی ہوتی ہیں۔ اس وقت کرناٹک کا چناؤ شباب پر ہے۔ امت شاہ اور نریندر مودی پورے کرناٹک میں ریلیاں کرتے پھر رہے ہیں۔ پوری کوشش اسی بات کی ہے کہ وہاں چناؤ ہندو -مسلم شکل اختیار کر لے۔ لیکن ابھی تک کرناٹک کا ہندو بی جے پی کے جھانسے میں نہیں آیا ہے۔ اب ان حالات میں سنگھ حامیوں کو جناح یاد آئے اور وہ بھی مسلم یونیورسٹی میں۔ اب مقصد سمجھ میں آیا! علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلبا کو چھیڑو تاکہ وہ سڑکوں پر نکلیں۔ پھر ان کی پٹائی ہو۔ بس ٹی وی پر ان کے جلوس اور جلسوں کا ’لائیو ٹیلی کاسٹ‘ ہو، جناح کی تصویر ہٹانے پر مباحثہ ہو۔ ظاہر ہے یونیورسٹی طلبا ضد میں کہیں گے کہ ہم تصویر نہیں ہٹائیں گے۔ بس پھر ٹی وی پر بیٹھے سنگھی مزاج افراد اور بی جے پی کے افراد مسلمان کو پاکستانی کہیں اور ادھر کرناٹک میں ہندو رد عمل پیدا ہو۔ اور وہاں کا ہندو گجرات کی طرح مودی کو ’ہندو ہردے سمراٹ‘ اور ’ہندو اَنگ رکشک‘ مان کر بی جے پی کو ووٹ ڈالے۔

آج سے نہیں، طلاق ثلاثہ کے مسئلہ سے اب تک بی جے پی ہندو ووٹ بینک بنانے کے حق میں اسی حکمت عملی پر عمل کرتی چلی آ رہی ہے اور مسلمان ہمیشہ جذبات میں بہہ کر خود ساختہ لیڈروں کے بہکاوے میں پہلے سڑکوں پر نکل پڑتا ہے اور پھر آخر میں اس کو خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے۔ شاہ بانو فیصلے کے بعد ہزاروں کی تعداد میں مسلمان سڑکوں پر نکلا۔ نعرۂ تکبیر کی گونج میں بڑے بڑے علماء کرام اور قائدین ملت نے دہلی کے بوٹ کلب پر ہزاروں مسلمانوں کو ’شرتیعت تحفظ‘ کی قسمیں کھلائیں۔ ہوا کیا! ریلی ختم ہوئی، لیکن اس کے چند ماہ کے اندر ملک میں وشو ہندو پریشد نام کی تنظیم اٹھ کھڑی ہوئی۔ آخر طلاق ثلاثہ بھی گیا اور جس طلاق ثلاثہ کے لیے مسلمان جان دے رہا تھا وہ بھی گیا، اور علماء نے خود فرمایا کہ یہ تو شریعت کے منافی ہے۔ قائدین اور علماء نے مزے کیے، عام مسلمان بے وقوف بنا۔ ادھر وشو ہندو پریشد کو ہندوؤں میں مقبولیت مل گئی۔

اسی طرح سنہ 1986 میں بابری مسجد کا تالا کھل گیا۔ راتوں رات بابری مسجد ایکشن کمیٹی نے جنم لے لیا۔ دیکھتے دیکھتے بابری مسجد تحفظ ریلیاں شروع ہو گئیں۔ وہی نعرۂ تکبیر کی گونج اور وہی مسجد تحفظ کے لیے شہید ہونے کی قسمیں۔ ہوا کیا! کچھ عرصے بعد وشو ہندو پریشد نے ریلیاں شروع کیں اور اب کی ہندوستان ’جے سیا رام‘ کے نعروں سے گونج اٹھا۔ ایسا ہندو رد عمل پیدا ہوا کہ بابری مسجد گئی، بی جے پی دو عدد ممبر پارلیمنٹ پارٹی سے مودی کے اقتدار تک پہنچ گئی۔ آج مسلمان کو گئو رکشک سڑکوں پر مار رہے ہیں۔ بابری مسجد ایکشن کمیٹی قائدین سے لے کر اویسی صاحب تک مسلمان کو بچانے والا کوئی نہیں۔ بس اسی جذباتی بیان بازی اور بے سود سیاست میں آج بھی گھرا ہے مسلمان۔

یعنی بی جے پی مسلمان کو پہلے جوش دلوا کر سڑکوں پر نکالتی ہے، پھر ہندو رد عمل پیدا کیا جاتا ہے۔ اس طرح اڈوانی یا مودی ہندو ہیرو بنائے جاتے ہیں۔ پھر انتخابات میں ہندو اکثریت بی جے پی کو ووٹ ڈالتی ہے۔ مسلمان کا کوئی پوچھنے والا نظر نہیں آتا۔ کچھ نام نہاد قائدین ملت کے مزے آتے ہیں اور پوری قوم بھگتان بھگتتی ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ مسلمان کرے تو کرے کیا! کوئی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے حالیہ واقعہ کی طرح گھر میں گھس کر چھیڑے اور مسلمان ہاتھوں پر ہاتھ دھرے بیٹھا رہے! یہ تو ممکن نہیں، تو پھر کیا کرے! دیکھیے سب سے پہلے تو یہ سمجھ لیجیے کہ اس وقت ہندوستانی مسلمان کے لیے صبر سے بڑھ کر بہتر کوئی دوسری حکمت عملی نہیں ہے۔ اور یہ تعلیم رسول کریم کی دی ہوئی تعلیم ہے۔ سنت رسول کے مطابق جب تک رسول خود مضبوط نہیں ہو گئے انھوں نے دس برس اعلانِ نبوت کے بعد محض صبر کا راستہ اختیار کیا۔ حد یہ ہے کہ تنگ کرنے والوں نے کوڑا تک پھینکا مگر پھر بھی کوڑا پھینکنے والی کی عیادت کو خود رسول تشریف لے گئے۔ یہ محض انسانی ہمدردی نہیں بلکہ ان حالات میں بہترین حکمت عملی تھی جس کا استعمال رسول نے اپنے اولین دور میں کیا۔

اس وقت ہندوستانی مسلمان لاچار اور مجبور ہے۔ وہ سڑکوں پر نکل کر طاقت اور جذبات کا مظاہرہ کرنے کی حیثیت میں نہیں ہے۔ ان حالات میں صبر سے بڑھ کر کوئی دوسری حکمت عملی نہیں ہے۔ اس کے یہ بھی معنی نہیں ہیں کہ آپ کچھ کیجیے ہی نہیں۔ پر امن طریقوں سے سیکولر ہندوؤں سے ہاتھ ملا کر پرامن احتجاج کیجیے۔ خود علی گڑھ معاملے پر درجنوں ہندو حمایت میں کھڑے ہو گئے۔ ٹی وی سے لے کر سڑکوں تک ہر جگہ سیکولر ہندو آپ کی لڑائی لڑ رہا ہے۔ یاد رکھیے اس قسم کی لڑائی میں کامیابی فوراً نہیں ہوتی۔ رسول کریم نے دس برس صبر کیا اور اپنا وطن ترک کیا تب کامیاب ہوئے۔

اس لیے موجودہ حالات میں مسلمانوں کے لیے سڑکوں اور جلسے جلوس کی جذباتی سیاست محض نقصان دہ ہے۔ جوش نہیں ہوش کی ضرورت ہے خواہ وہ طلاق ثلاثہ ہو یا علی گڑھ مسلم یونیورسٹی۔ ہر جگہ اور ہر موقع پر پھونک پھونک کر قدم رکھنے کی ضرورت ہے ورنہ آپ کی ایک لغزش منٹوں میں نریندر مودی کو پھر ’ہندو ہردے سمراٹ‘ بنا دے گی اور کرناٹک کیا، مودی پھر پانچ سالوں کے لیے وزیر اعظم ہوں جائیں گے۔ اس کا خمیازہ کون بھگتے گا یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔

سب سے زیادہ مقبول