مودی حکومت کے لیے ہوش کے ناخن لینے کا وقت!... نواب اختر 

حیرت کی بات یہ ہے کہ شہریت ترمیمی بل کے بارے میں سنگین سوالات اور پھوٹ پڑے تشدد بلکہ برپا ہوئے طوفان کے باوجود پارلیمنٹ میں یہ غیر دستوری بل منظور کرلیا گیا اور صدر جمہوریہ نے اسے منظوری بھی دے دی۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

نواب علی اختر

حالیہ لوک سبھا انتخابات میں اپنی واضح اور بڑی کامیابی کے بعد مسلسل دوسری بار مرکزی اقتدار پر قابض ہونے کے بعد بی جے پی لگاتار اپنے ایجنڈے کو بڑی تیزی سے آگے بڑھا رہی ہے۔ اس کڑی میں طلاق ثلاثہ کو جرم قرار دینا، آسام میں این آر سی پر عمل آوری، کشمیر کو خصوصی درجہ دینے والے دستور کی دفعہ 370 کی منسوخی اور اب پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں شہریت ترمیمی بل کی منظوری دراصل یہ سب خالی ہندو راشٹر کو آگے بڑھانے سے متعلق وسیع تر منصوبہ کا حصہ ہیں۔ ان اقدامات کے پیچھے کار فرما عام مقصد و نیت کا جہاں تک سوال ہے وہ دراصل ہندوستان کے مسلمانوں کو یہ دو ٹوک اور غیر مبہم پیغام دینا ہے کہ وہ اس ملک کے مساوی شہری نہیں ہیں ساتھ ہی گوالکر، ساورکر کے اس نظریہ کا اعادہ بھی کرنا ہے جس میں دونوں نے کہا تھا کہ ہندوستان ایک ہندو ملک ہے۔

ایسا لگتا ہے کہ حکومت نے شہریت بل کے دستوری جواز پر غور نہیں کیا، حکومت نے یہ بھی غور کرنے کی زحمت نہیں کی کہ کیا یہ بل حقوق انسانی کی عالمی قرارداد کی خلاف ورزی تو نہیں ہے؟ یہی وجہ ہے کہ شہریت ترمیمی بل کے خلاف شمال مشرقی ریاستوں کے ساتھ ہی تقریباً پورے ملک میں پرتشدد احتجاجی مظاہرے کیے جا رہے ہیں اور ملک بھر میں عوام کی کثیر تعداد جن میں اکثریت ہندووں کی ہے، احتجاجی مظاہروں میں شامل ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ شہریت ترمیمی بل کے بارے میں سنگین سوالات اور اس پر پھوٹ پڑے تشدد بلکہ برپا ہوئے طوفان کے باوجود پارلیمنٹ میں یہ عاملہ کے تعاون سے غیر دستوری بل منظور کرلیا گیا اور صدر جمہوریہ نے اسے منظوری بھی دے دی۔ ایسے میں مساوات اور دستوری اخلاقیات بحال کرنے کی ذمہ داری اب عدلیہ پر عائد ہوتی ہے۔

شہریت قانون کے خلاف تقریباً پورے ملک میں آگ لگی ہوئی ہے۔ الگ الگ حصوں میں عوام کا ایک بڑا حصہ سڑکوں پر اتر آیا ہے، ملک کا مستقبل کہے جانے والے طلباء قلم و کتاب چھوڑ کر سڑک پراترے ہیں اور’انقلاب زندہ باد‘ سے پورا ماحول گونج رہا ہے مگر ’گودی میڈیا‘ کے اسکرین سے حقیقی صورتحال نہیں دکھائی جارہی ہے۔ چند روزقبل ہی حکومت کی طرف سے مشورے کی شکل میں فرمان آیا ہے۔ اس سلسلے میں 1995 میں کیبل ایکٹ کی یاد دلائی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ تمام ٹی وی چینل ایسا مواد دکھانے سے گریز کریں جس سے تشدد بھڑک سکتا ہے، تشدد کو اکساوا مل سکتا ہے، جو ملک مخالف نظریہ کی حوصلہ افزائی کرتا ہے، جو ملک کی سالمیت پر منفی اثر ڈالتا ہے، تمام چینلوں پر زور دیا جاتا ہے کہ ان (حکومت) کے رہنما خطوط پر سختی سے عمل کریں۔ اس میں یہ بھی یاد دلایا گیا ہے کہ وقتاً فوقتاً ایسے مشورے دیئے جاتے رہے ہیں۔

خط میں یہ نہیں لکھا ہے کہ یہ حکم پانچ سال سے چینلوں پر چلنے والے اشتعال انگیز مباحثوں کو لے کر ہے یا آسام کو لے کر ہے؟ آرڈر جس وقت آیا اس وقت شمال مشرقی ریاستوں کے لوگ سڑکوں پر تھے، شہریت بل پاس ہونے کے پہلے آسام یونیورسٹی میں زبردست مخالفت ہو رہی تھی۔ آسام کے علاوہ شمال مشرقی ریاستوں کے دوسرے علاقوں میں بھی اس قانون کی مخالفت ہو رہی ہے۔ ان سب کے درمیان وزارت اطلاعات ونشریات ’حب الوطنی‘ کے نام پرفرمان جاری کردیتی ہے۔ ویسے تو سارا ’گودی میڈیا‘ آسام کے مظاہروں کو نہیں دکھا کر پہلے ہی ’راشٹر بھکتی‘ کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ میڈیا کے دکھا نے سے آسام میں تشدد نہیں ہو رہا ہے بلکہ میڈیا کے نہ دکھا نے سے ان علاقوں کے لوگوں میں غصہ بھڑکا ہے۔

کیا یہ حکم آسام کی تحریکوں کو نہ دکھانے کے لئے ہے؟ ویسے تو کوئی ہاں میں نہیں کہے گا لیکن اب چینلوں پر آسام کو لے کر پائی جارہی خاموشی سے سمجھا جاسکتا ہے۔ وہیں عوام کی بات کریں تو وہ چاہے کوئی بھی ہوں، اگر اسے لگتا ہے کہ حکومت کا فرمان صحیح ہے تو اپنے موجودہ اور مستقبل میں ہونے والی تمام تحریکوں کو ملک مخالف قرار دے کر ملتوی کر دیں اور خود کو بھی ملک مخالف قرار دے دیں، گنا کسانوں کو کان پکڑ کر کھیت میں بیٹھ جانا چاہیے کہ ان سے ملک مخالف غلطی ہوئی ہے کہ انہوں نے واجب قیمت نہ ملنے پر تحریک کرنے کو سوچا اور میڈیا پر زور دیا کہ دکھا دیجئے۔ ایسے نہ جانے کتنے شہری گروپ ہوں گے جو لوگوں کے مسائل کو لے کر سڑک پر اترنے والے ہوں گے، اترے ہی ہوں گے، اس طرح کے احکامات کا کیا مطلب ہے؟ پارلیمنٹ کے اندر گوڈ سے کو عظیم بتایا جاتا ہے، کیا وہ ملک مخالف سرگرمی نہیں ہے؟ شہریت قانون کی مخالفت جائز ہے، پارلیمنٹ میں ہوا ہے، سڑک پر بھی ہو رہا ہے اور یہ دستوری حق بھی ہے۔

مرکز کی (مودی۔شاہ) حکومت سے کوئی امید کرناعبث ہے کیونکہ اس حکومت میں تاناشاہی کے زور پرعوام کی آواز کو کچلنا عام ہوتا جارہا ہے۔ حکومت کے خلاف بولنے والے کو غدار کا تمغہ تھما دیا جاتا ہے، حکمرانوں کی منمانی کے خلاف اٹھنے والی آواز کو پاکستان کی ’بھاشا‘ قرار دے کر’دیش دروہی‘ کہا جا رہا ہے۔ انہیں تمام صورتحال کو دیکھتے ہوئے ملک کے حالات کو ایمرجنسی سے تعبیر کیا جارہا ہے تو اس کی ذمہ دار ایک ’مخصوص سوچ کی حامل‘ حکومت ہی ہے جس کے رہنما دنیا کے تقریباً سب سے بڑے جمہوری ملک ہندوستان کو ہٹلر اور بنجامن نتین یاہو کا ملک بنانے کے درپے ہیں جہاں اپنی پارٹی، اپنی ذات اور اپنی سوچ کو زندہ رکھنے کے لئے تانا شاہی کے ساتھ احکامات صادر کرنے اور انہیں جبراً نافذ کرانے کی روایت رہی ہے۔

جن ممالک نے ایسی روش اختیار کی ہے ان کا حشر سب کے سامنے ہے لیکن بی جے پی حکومت ایسے ممالک سے کوئی سبق لینے کو تیار نہیں ہے۔ ہندوستان کی موجودہ حکومت کے اعمال سے تو یہی ظاہر ہوتا ہے کہ اسے صرف تاریخ میں (خواہ دنیا کچھ بھی کہے) نام درج کرانے کی فکر ہے، اسے اس بات کی کوئی فکر نہیں ہے کہ اس کے فیصلوں سے ملک کی معیشت اور روزگار کس قدر پستی کی طرف جار ہے ہیں۔ نوٹ بندی کرکے پسماندہ طبقہ کی کمر توڑنے اور جی ایس ٹی کے ذریعہ کاروبار کو تباہ کرکے حکومت نے ریکارڈ ضرور بنایا ہے مگر اسے نوجوانوں، کسانوں، دلتوں، مسلمانوں سمیت ملک کے اکثریتی طبقے کے ردعمل پر بھی کان دھرنا چاہیے۔ ہوا میں اڑنے والی بی جے پی حکومت جب زمین پر آئے گی تو اسے احساس ہوگا کہ اس کے فیصلوں کا کیا اثر ہوا ہے لیکن تب تک بہت دیر ہوچکی ہوگی۔

ایسا نہیں ہے کہ پیشرو حکومتوں نے کوئی فیصلے نہیں کیے، قانون نہیں بنائے صرف اقتدارکی ملائی کھاتی رہیں ہیں۔ پچھلی حکومت نے سینکڑوں فیصلے کیے اور قانون بھی بنائے اورایسا بھی نہیں ہے کہ سابقہ حکومت کے تمام فیصلے من وعن قبول کرلئے گئے ہوں، کچھ فیصلوں اور قانون کی مخالفت بھی ہوئی مگرحکمراں طبقہ نے جمہوری طرزعمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے ناراض طبقے سے بات کرکے ان کے شبہات کا تصفیہ کیا اور پھر نئے فیصلے اور قانون کو اتفاق رائے سے نافذ کیا گیا۔ حکومتوں کا کام ملک اور عوام کے حق میں اچھے فیصلے کرنا ہوتا ہے اور تبھی ملک اورعوام کی ترقی اور خوشحالی ہوتی ہے، نہ کہ آنکھ کان موند کر بند کمرے میں کیے گئے فیصلے کو جبراً تھوپ دیا جائے۔ اگر ایسا ہوتا رہا تو اسی طرح بے گناہوں کی جان جاتی رہے گی، کاروبار تباہ ہوتے رہیں گے۔ حکومت کو ہوش کے ناخن لیتے ہوئے اس بات پرغور کرنا ہوگا کہ کسی بھی ملک کی طاقت اس کے عوام ہوتے ہیں اور اگرعوام کمزور ہوئے تو ملک کبھی طاقت ور نہیں بن سکتا ہے۔

next