دہلی کے فساد سے این پی آر کی قرارداد تک... اعظم شہاب

کامیاب سیاستداں اور سرکاری افسر میں فرق یہ ہوتا ہے کہ سیاسی رہنما مشکل حالات میں میدان عمل میں نظر آتا ہے اور سرکاری افسر دفتر میں بیٹھ کر چٹھی لکھتا ہے۔ کیجریوال ہنوز سرکاری افسر کے خول میں بند ہیں۔

اروند کیجریوال
اروند کیجریوال
user

اعظم شہاب

دہلی میں ایک طرف تو کرونا وائرس کے خوف سے راشٹرپتی بھون (صدارتی محل) کو احتیاط کے طور پر تا حکم ثانی بند کر دیا گیا ہے، وہیں دوسری جانب ریاستی حکومت نے اس کو وبا قرار دے کر 3 ہفتوں کے لیے سینما، اسکول اور کالج بند کرنے کا اعلان کیا۔ جس روز یہ اہم کام کیے گئے اسی دن دہلی کی ریاستی حکومت نے کرونا وائرس سے بھی زیادہ خطرناک این پی آر اور این سی آر کو نافذ کرنے کا تاریخی فیصلہ بھی کر دیا۔ این پی آر کے خلاف قرارداد کو پیش کرتے ہوئے وزیر ماحولیات گوپال رائے نے کہا کہ ’’اس طرح کی دھاندلی تو برطانوی راج میں بھی نہیں ہوئی۔ یہ قانون ہر فرد کی شہریت کو مشکوک کرتا ہے اس لیے این پی آر کا نفاذ دہلی میں نہیں ہونا چاہیے اور اگر عمل درآمد ہو بھی تو 2010 کے طریقہ پر ہونا چاہیے۔‘‘

اس قرار داد کی تائید میں وزیراعلی اروند کیجریوال نے کہا ہے کہ ان کے اہل خانہ سمیت 70 اراکین اسمبلی میں سے 61 کے پاس پیدائشی سرٹیفکیٹ نہیں ہے تو کیا ان سبھی کو ڈٹینشن سینٹر بھیج دیا جائے گا۔ مرکزی حکومت کو این پی آر اور این آر سی کو واپس لے لینا چاہیے۔ اسمبلی میں اس کے خلاف قرارداد منظور ہوگئی ہے اس لیے دہلی کے اندر اسے نہیں نافذ کیا جائے گا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ صدر رام ناتھ کووند اور امت شاہ واضح کرچکے ہیں کہ این آر سی ہو کر رہے گا۔ اس لیے کسی کو اس غلط فہمی میں نہیں رہنا چاہیے کہ این آر سی نہیں ہوگا۔ پہلے این پی آر ہوگا تو اس کے بعد این آر سی بھی کروایا جائے گا۔

دہلی کےصوبائی انتخاب میں بی جے پی کی ناکامی اور عآپ کی کامیابی ایک روشن باب تھا لیکن اس کے فوراً بعد فرقہ وارانہ فسادات کی شکل میں دوسرے تاریک دور کا آغاز ہوگیا۔ دہلی کے اندر 1984 کے بعد کا سب سے بھیانک فساد پھوٹ پڑا۔ اس بار آزمائش کی تلوار امت شاہ نہیں بلکہ اروند کیجریوال نامی چتُور بنیا پر لٹک رہی تھی۔ اروند کیجریوال میں اگر رتیّ برابر حکمت اور جرأت ہوتی تو وہ اس آزمائش کی تلوار کو اپنے گلے کا ہار بناسکتے تھے۔ یہ بات درست ہے کہ دہلی کی پولس پر ان کا اختیار نہیں ہے لیکن دہلی کا وزیر اعلیٰ اس قدر بے اختیار بھی نہیں ہے کہ صرف فوج کو بلا نے اور متاثرہ علاقوں میں کرفیو لگانے کے مطالبے پر اکتفاء کرلے۔ حکومت کرنا صرف خطوط لکھ کر گزارش کرنے کا نام نہیں ہے۔

دورانِ فساد وزیر اعلی اروند کیجریوال نے ٹوئٹ کیا کہ میں پوری رات بہت سے لوگوں کے ساتھ رابطے میں رہا۔ وہ کون لوگ تھے جن کے ساتھ کیجریوال نے رابطہ بنا رکھا تھا یہ تو وہی بتاسکتے ہیں لیکن اس بات کا علم ساری دنیا کو ہے کہ نصف شب میں ان کے گھر پر پہنچنے والے مسلم طلباء اور نوجوانوں کے ملاقات کرنے سے انہوں پہلے تو انکار کیا اور پھر دہلی کی سرد رات میں پانی کی بوچھار سے انہیں منتشر کروانے کی مذموم حرکت کی۔ اس پر اکتفاء کرنے کے بجائے ان نوجوانوں کو گرفتار کروانے کی ناقابل تلافی غلطی بھی کردی۔ اس حماقت و بزدلی کی سزا انہیں ضرور ملتی اگر وہ ایوان اسمبلی میں این پی آر کے خلاف قرار داد منظور نہ کرواتے۔ اس قرار داد کو منظور کروا کر اروند کیجریوال نے دہلی فسادات کے دوران ان کے ذریعہ سرزد ہونے والی کوتاہی کا کسی حد تک ازالہ کرکے یہ ثابت کردیا ہے کہ ان کو صوبائی انتخاب میں ان کو کامیاب کرنے کا فیصلہ غلط نہیں تھا۔

دہلی کے صوبائی انتخاب میں عآپ کی کامیابی کے امکانات تو تھے لیکن یہ ہدف بہت آسان بھی نہیں تھا کیونکہ 2015 کی غیر معمولی کامیابی کے بعد سے 2019 کے قومی انتخابات تک اس کے رائے دہندگان کی تعداد میں مسلسل کمی واقع ہوتی رہی تھی۔ 2017 کے بلدیاتی انتخاب میں عآپ کے ووٹ کا تناسب نصف سے بھی کم ہوگیا مگر پھر بھی وہ دوسرے نمبر پر تھی۔ 2019 کے انتخاب میں دہلی کے رائے دہندگان نے راہل کے جارحانہ رویہ کو کیجریوال کے نرم لہجے پر ترجیح دی اور عآپ کے رائے دہندگان کی تعداد کانگریس کے مقابلہ 4 فیصد کم ہوگئی۔ ایسے میں کیجریوال بوکھلاہٹ کا شکار ہوکر بی جے پی کی مانند پٹری سے اتر بھی سکتے تھے لیکن و ہ صبر و ضبط کے ساتھ شرافت کا دامن تھامے رہے اور الیکشن جیتنے میں کامیاب ہوئے لیکن فرقہ وارانہ فسادات کے دوران ان کے بزدالانہ رویہ نے مسلمانوں کو مایوس کردیا۔

ایک کامیاب سیاستداں اور سرکاری افسر میں بنیادی فرق یہ ہوتا ہے کہ سیاسی رہنما مشکل حالات کے اندر میدان عمل میں نظر آتا ہے اور سرکاری افسر دفتر میں بیٹھ کر چٹھی لکھتا ہے۔ اروند کیجریوال ہنوز سرکاری افسر کے خول میں بند ہیں۔ انہوں نے حالات پرتشویش کااظہار کرکے پولیس کی ناکامی کا مرثیہ سنا کر فوج طلب کرنے کا کھوکھلا مشورہ ٹھونکنے کے سوا کچھ نہیں کیا۔ ان چیزوں کی حیثیت مگرمچھ کے آنسو سے زیادہ نہیں تھی۔ اس وقت جبکہ دہلی جل رہی تھی اروند کیجریوال اگر اپنے محل سے نکل کر فساد زدہ علاقے میں آکر ڈیرہ ڈال دیتے تو نہ صرف فساد کی آگ بجھ جاتی بلکہ ان کا نام تاریخ میں رقم ہوجاتا لیکن جو اپنے مقدر میں ازخود رسوائی لکھ لے اس کی کوئی مدد نہیں کرسکتا۔ دہلی فسادات میں امت شاہ انتخاب ہار گئے اور کیجریوال الیکشن جیت کر بھی شکست فاش سے دوچار ہوگئے۔ اس لیے اروند کیجریوال کی رسوائی امت شاہ کی ذلت سے بھی زیادہ تھی لیکن انہوں نے این پی آر کی قرار داد منظور کروا کر اپنی کھوئی ہوئی زمین دوبارہ حاصل کرنے کی ایک کامیاب کوشش کی ہے اور مسلمانوں کا اعتماد حاصل کیا ہے۔

Published: 15 Mar 2020, 8:11 PM