سپریم کورٹ کے ایودھیا فیصلے پر ایک نظَر... سہیل انجم

عدالت عظمیٰ نے بابری مسجد کی اراضی کو رام مندر کی تعمیر کے لیے ہندووں کو سونپ دی ہے اور حکومت سے کہا ہے کہ وہ مسجد کی تعمیر کے لیے ایودھیا ہی میں کسی نمایاں مقام پر پانچ ایکڑ جگہ دے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

سہیل انجم

سپریم کورٹ نے بابری مسجد رام جنم مندر مقدمہ میں اپنا فیصلہ سنا دیا ہے۔ اس نے تقریباً ایک ہزار صفحات پر مشتمل اپنے فیصلے میں بابری مسجد کی اراضی کو رام مندر کی تعمیر کے لیے ہندووں کو سونپ دی ہے اور حکومت سے کہا ہے کہ وہ مسجد کی تعمیر کے لیے ایودھیا ہی میں کسی نمایاں مقام پر پانچ ایکڑ جگہ دے۔ اس نے حکومت کو ہدات دی ہے کہ وہ رام مندر کی تعمیر کے لیے تین ماہ کے اندر ایک ٹرسٹ تشکیل دے۔ وہ ٹرسٹ مندر تعمیر کے کاموں کو دیکھے گا۔

اس طرح 134 سال پرانا ایک تنازعہ ختم ہو گیا۔ سب سے پہلے بابری مسجد کے خلاف مہنت رگھوبر داس نے 1885 میں مقدمہ قائم کیا تھا۔ اس کے بعد کئی مقدمات قائم ہوئے تھے۔ مسجد کے باہر چبوترے پر ہندو پوجا پاٹھ کرتے رہے ہیں۔ شروع میں ان کا دعویٰ مسجد پر نہیں تھا بلکہ اسی چبوترے پر تھا۔ لیکن رفتہ رفتہ وہ آگے بڑھتے گئے، ان کا مطالبہ آگے بڑھتا گیا اور 22-23 دسمبر 1949 کی شب میں پچاس ساٹھ افراد کے ایک گروپ نے زبردستی گھس کر اس میں دو مورتیاں رکھ دیں۔

اس کے بعد انتظامیہ نے اس میں قفل لگا دیا۔ پھر 1986 میں عدالت کے حکم سے تالا کھول دیا گیا اور مسجد کے اندر پوجا ہونے لگی۔ وشو ہندو پریشد نے رام مندر کی مہم تیز کی جس کے نتیجے میں مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے 6 دسمبر 1992 کو لاکھوں کارسیوکوں نے مسجد پر چڑھ کر اسے منہدم کر دیا۔ اس کے بعد الہ آباد ہائی کورٹ نے 2010 میں اپنے فیصلے میں متنازعہ مقام کے تین حصے کیے جس میں دو حصے ہندووں کو اور ایک حصہ مسلمانوں کو دے دیا۔ لیکن اسے کوئی نہیں مانا اور اس کے خلاف سپریم کروٹ میں دونوں فریقوں کی جانب سے کل 14 عرضداشتیں داخل کی گئیں۔ اب سپریم کورٹ کی پانچ رکنی آئینی بنچ نے چالیس روز کی یومیہ سماعت کے بعد اپنا فیصلہ سنا دیا اور مسجد کی جگہ مندر بنانے کے لیے ہندووں کو سونپ دی۔

اس فیصلے پر الگ الگ رد عمل ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ہندووں کی جانب سے اور مسلمانوں کے ایک چھوٹے سے حصے کی جانب سے بھی اس پر خوشی کا اظہار کیا گیا اور کہا گیا کہ اب ایک تنازعہ ختم ہو گیا اب اس جگہ رام کا شاندار مندر بن جائے گا۔ لیکن مسلمانوں کا بہت بڑا طبقہ اور سیکولر اور انصاف پسند ہندووں کا بھی ایک طبقہ اس فیصلے سے خوش اور مطمئن نہیں ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ تو ہے مگر انصاف نہیں ہے۔یہ حکم انصا ف کے منافی ہے کہ مسجد کی جگہ مندر بنانے کے لیے دے دی جائے جبکہ وہاں رام مندر کے وجود کا کوئی ثبوت بھی پیش نہیں کیا جا سکا۔ عدالت نے کہا کہ ہندو فریق وہاں رام مندر کا ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہا۔ اس کے باوجود اس کا ایسا فیصلہ سنانا انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔

عدالت نے مسجد کے حق میں بہت سی باتیں کہیں۔ اس نے کہا کہ 1949 تک وہاں نماز ہوتی رہی ہے۔ جب نماز ہو رہی تھی تو ظاہر ہے کہ وہ جگہ مسجد تھی۔ محکمہ آثار قدیمہ کی رپورٹ میں بھی یہ ثابت نہیں ہو سکا کہ بابری مسجد کی جگہ پر رام کا مندر تھا یا کوئی بھی مندر تھا۔ اس کا کہنا ہے کہ وہاں جو آثار ملے تھے وہ اسلامی یا مسلم آثار نہیں تھے۔ پھر یہ کیسے کہا جا سکتا ہے کہ وہ جگہ مندر کی تھی۔

سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ مسلم فریق یہ ثابت نہیں کر سکا کہ مسجد کسی خالی جگہ پر تعمیر کی گئی تھی۔ یہ کوئی ضروری نہیں ہے کہ مسجد خالی جگہ پر ہی تعمیر کی جائے۔ ایسا بھی ہوتا ہے کہ تعمیر شدہ مکان خرید لیا جاتا ہے یا مکان مالک اس جگہ کو مسجد کو ہبہ کر دیتا ہے اور پھر وہاں مسجد تعمیر کی جاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ اگر مسجد کی جگہ پر پہلے کوئی اور عمارت تھی تو اس مسجد کا وجود نہیں مانا جائے گا یا مسجد کی حیثیت ختم ہو جائے گی۔

مسجد کے عوض میں کوئی جگہ نہیں لی جا سکتی۔ مسلم پرسنل لا بورڈ کے وکیل ظفریاب جیلانی کا کہنا ہے کہ اس کی جگہ پر زمین دینے یا لینے کا کوئی تک نہیں ہے۔ دوسرے رہنماؤں کا بھی کہنا ہے کہ مسلمانوں کو جگہ نہیں لینی چاہیے۔ کچھ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر بابری مسجد کی بدلے میں پانچ ایکڑ زمین لے لی جائے گی تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہم نے مسجد فروخت کر دی۔ جبکہ ایسا نہیں کیا جا سکتا۔

عدالت عظمیٰ نے یہ بھی تسلیم کیا کہ 22-23 دسمبر 1949 کی شب میں وہاں جبراً مورتی رکھی گئی تھی اور یہ کہ 6 دسمبر 1992 کو بابری مسجد کا انہدام خلاف قانون تھا۔ لیکن ان حقائق کو تسلیم کرنے کے باوجود فاضل ججوں نے ان جرائم کے خلاف کسی کارروائی کی سفارش نہیں کی۔ انھوں نے یہ نہیں کہا جیسا عام طور پر ہوتا ہے کہ اس معاملے میں تو یہ فیصلہ سنایا جا رہا ہے لیکن مذکورہ جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کے خلاف بھی کارروائی کی جائے۔ عدالت کی خاموشی کا کیا یہ مطلب نکالا جائے کہ ان کو معاف کر دیا گیا ہے۔

فیصلہ سنائے جانے سے قبل کے حالات پر بھی نظر ڈالنے کی ضرورت ہے۔ جوں جوں فیصلے کا وقت قریب آتا جا رہا تھا، ایسے بیانات تیز ہو گئے تھے کہ جو بھی فیصلہ آئے گا اسے مانا جائے گا۔ یہ بھی اپیل کی جا رہی تھی کہ لوگ فیصلے کو مان لیں۔ ایسی اپیلیں مسلمانوں سے ہی کی جا رہی تھیں۔ جب رام مندر حامیوں سے اس بارے سوال کیا جاتا تو وہ کہتے کہ عدالت کا فیصلہ مانیں گے لیکن فیصلہ رام مندر کے ہی حق میں آئے گا۔ کسی بھی مندر حامی نے یہ نہیں کہا کہ اگر مندر کے خلاف فیصلہ آیا تب بھی ہم مانیں گے۔

ایسے بیانات صرف مسلمانوں سے دلوائے جاتے رہے کہ ہمارے حق میں فیصلہ آئے گا تب بھی اور خلاف آئے گا تب بھی ہم مانیں گے۔ گویا اس طرح مندر کے حق میں ایک فضا سازگار کی جا رہی تھی اور ایسا لگتا ہے جیسے عدالت عظمیٰ پر ایک دباؤ بنانے کی بھی کوشش تھی۔ اور شاید یہی وجہ ہے کہ عدالت نے بابری مسجد کے حق میں بہت ساری باتیں کہنے کے باوجود اکثریتی طبقے کے جذبات و احساسات کا لحاظ اور خیال رکھا۔

اب یہ کہا جا رہا ہے کہ بہت متوازن فیصلہ آیا ہے۔ حالانکہ یہ بالکل متوازن فیصلہ نہیں ہے۔ ابھی اس فیصلے پر لوگوں کی مزید رائیں آئیں گی اور بہت سی باتیں صاف ہوں گی۔ بہر حال یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایک پرانا تنازعہ ختم ہو گیا۔ اب مسلمانوں کو بھی ایسے تنازعات سے بچتے ہوئے اپنی روزی روٹی او راپنے بچوں کی بہتر تعلیم پر توجہ دینی چاہیے۔

Published: 10 Nov 2019, 10:11 PM