بجٹ 2018: ناقابل اعتماد حکومت کی ناامیدی والا بجٹ

مرکزی وزیر مالیات ارون جیٹلی

مرکزی حکومت نے اپنے آخری مکمل بجٹ میں کسانوں کو نئے سرے سے ٹھگنے اور صاف لفظوں میں کہیں تو بے وقوف بنانے کی کوشش کی ہے۔

چار سال میں پانچواں بجٹ پیش کرتے ہوئے وزیر مالیات شاید یہ بھول گئے کہ ان کی حکومت کے وعدے کیا تھے؟ سب سے پہلے ان حالات پر نظر ڈالنے کی ضرورت ہے جن میں یہ بجٹ پیش کیا گیا ہے۔ یوں تو اسے گاؤں و دیہات کا بجٹ کہا جا رہا ہے لیکن سمجھنا ہوگا کہ کسانوں کا اس حکومت سے اعتماد اٹھ چکا ہے کیونکہ فصلوں کی ایم ایس پی دینے کا وعدہ بھی جملہ ہی ثابت ہوا ہے۔ روزگار کے محاذ پر بھی حکومت بری طرح ناکام ثابت ہوئی ہے۔ ایسے ماحول میں نوجوانوں کا اس حکومت سے بھروسہ اٹھ چکا ہے۔ اس کے علاوہ حکومت بے قابو مہنگائی، جی ایس ٹی پر کشمکش، نوٹ بندی کی مار اور تیل کی ہر دن آسمان چھوتی قیمتوں کے سبب شہری متوسط طبقہ کا بھروسہ پہلے ہی کھو چکی ہے۔ اتنا ہی نہیں، جس صحت اسکیم کو گاجے باجے کے ساتھ پیش کیا جا رہا ہے اس سے غریبوں کو فائدہ بعد میں ہوگا، پہلے بیمہ کمپنیاں پیسے کمائیں گی۔ سب سے بڑی بات تو یہ ہے کہ سرکاری خزانہ اس سال کے نشانے کو پار کر چکا ہے تو پھر آئندہ سال اس میں کمی کیسے آئے گی، اس کا خاکہ بھی پیش نہیں کیا گیا ہے۔ ایسے میں حکومت کے بجٹ کو جھوٹے وعدوں اور اسکیموں پر عمل میں ناکامی والا بجٹ ہی کہا جا سکتا ہے۔ اگر مودی حکومت کی ہی زبان میں بولیں تو یہ ’ڈیفیسٹ‘ یعنی خسارے والی حکومت ہے۔ فسکل ڈیفیسٹ یعنی سرکاری خسارہ، جاب ڈیفیسٹ یعنی نوکری کا خسارہ، ٹریڈ ڈیفیسٹ یعنی کاروبار میں خسارہ اور گورننس ڈیفیسٹ یعنی حکمرانی میں خسارہ۔ اس سارے ڈیفیسٹ یعنی خسارے کو جوڑیں تو مودی حکومت ٹرسٹ ڈیفیسٹ یعنی بھروسے کے خسارے والی حکومت کی شکل میں سامنے آئی ہے۔

ایک اور جملہ بنائیں تو یہ ’سیس حکومت‘ ہے، یعنی اضافی بوجھ بڑھانے والی حکومت۔ لوگوں پر ایک نئے سوشل ویلفیئر سیس یعنی سماجی فلاح کی ذمہ داری کا بوجھ کسٹم ڈیوٹی میں جوڑ کر لاد دیا گیا ہے۔ وہیں تعلیم اور صحت کے سیس یعنی اضافی چارج کو 3 فیصد سے بڑھا کر 4 فیصد کر دیا گیا۔ ابھی تک کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ یہ حکومت صحت خدمات اور تعلیم پر بہت ہی کنجوسی سے خرچ کرتی رہی ہے، اور اب ہانپتے ہوئے سیس یعنی اضافی بوجھ کے ذریعہ وسائل اکٹھا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

اگر نئی صحت بیمہ اسکیم کی بات کریں تو واضح ہو جائے گا کہ دنیا میں اب تک جتنی بھی صحت بیمہ اسکیمیں لائی گئی ہیں ان سے غریبوں کو فائدہ ہونے کی جگہ بیمہ کمپنیوں کو ہی زیادہ فائدہ ہوا ہے۔ حکومت کی پچھلے منصوبہ، فصل بیمہ منصوبہ کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو یہی سامنے آتا ہے کہ اس سے کسانوں کو فائدہ ہونے کی جگہ بیمہ کمپنیوں کے دن ضرور اچھے ہو گئے۔

اس حکومت نے کسانوں کو نئے سرے سے ٹھگنے اور صاف لفظوں میں کہیں تو بے وقوف بنانے کی کوشش کی ہے۔ اس بجٹ سے پہلے تک زراعت، بیمہ، پیداواری صحت کارڈ یعنی سوائل ہیلتھ کارڈ وغیرہ کے نام سے شروع کیے گئے منصوبے اثرانداز طریقے سے ابھی تک نافذ ہی نہیں کیے جا سکے ہیں۔ ایسے میں کیا کسانوں کو ان کی پیداوار کی قیمت لاگت سے ڈیڑھ گنا دلانے کے وعدے پر کوئی بھروسہ کر سکتا ہے۔ ربیع فصلوں کے ایم ایس پی پر وزیر مالیات کے دعوؤں میں بھی کوئی دَم نظر نہیں آتا کیونکہ سرکاری اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ انھیں اس کا فائدہ نہیں ملا۔ سیدھی سی بات ہے کہ اگر یہ وعدہ نبھایا گیا ہوتا تو کسانوں کو خودکشی کے لیے مجبور نہیں ہونا پڑتا اور پورا زراعتی سیکٹر بحران میں نظر نہیں آتا۔

اپنے ہندی-انگریزی کے ملے ہوئے اور ’ایکلویہ‘ جیسے الفاظ پر اٹکتی زبان سے کی گئی تقریر میں تقریباً ایک گھنٹہ بولنے کے بعد وزیر مالیات نے روزگار اور ملازمت کی بات کی۔ سبھی جانتے ہیں کہ کسی بھی معیشت میں نئی ملازمتوں اور روزگار پیدا کرنا کتنا بڑا چیلنج ہوتا ہے، اور اگر اس پر دھیان نہ دیا جائے تو مسئلہ خوفناک شکل اختیار کر لیتی ہے۔ لیکن مودی حکومت اسے ماننے کو تیار نہیں ہے۔ اس بجٹ میں کوئی بھی ایسا اعلان نہیں کیا گیا جس سے نجی سرمایہ بڑھنے کا امکان ہو۔ اور جب تک نجی سرمایہ کاری نہیں بڑھے گی ملازمتوں کا امکان صفر ہی رہے گا۔

اب بات کریں فسکل ڈیفیسٹ یعنی سرکاری گھاٹے کی تو یہ حکومت ملک کے لوگوں سے تو جھوٹے وعدے کر ہی رہی ہے، خود اپنے سے کیے وعدے بھی پورے نہیں کر پا رہی۔ حکومت نے گزشتہ بجٹ میں خود سے وعدہ کیا تھا کہ فسکل ڈیفیسٹ یعنی سرکاری خسارہ 3.2 فیصد رہے گا۔ یہ وعدہ ٹوٹ چکا ہے اور بجٹ تقریر میں حکومت نے مان لیا کہ یہ 3.5 فیصد رہا۔ یہ اعداد و شمار دیکھنے میں چھوٹے ضرور لگتے ہیں لیکن ساڑھے پانچ لاکھ کروڑ کی قیمت پر مبنی ہیں۔ یعنی ملک کی معیشت کو اتنے پیسوں کا نقصان ہوا ہے۔ گویا کہ یہ حکومت جتنا خرچ کر رہی ہے اس کے مقابلے اس کی آمدنی کم رہی ہے۔ اب اگلے سال کے لیے پھر سے اس نشانے کو 3.3 فیصد پر لانے کا وعدہ حکومت نے خود سے کیا ہے۔ لیکن نہ تو نجی سرمایہ بڑھانے کا کوئی طریقہ بتایا گیا ہے اور نہ ہی ٹیکس کا بیس بڑھانے کا کوئی طریقہ۔ ایسے میں حکومت کی جب آمدنی ہی نہیں ہوگی تو پیسہ کہاں سے آئے گا اور سرکاری خزانے سے متعلق خسارے کا ٹارگیٹ کس طرح کم ہو پائے گا۔

ویسے حکومت کو خام تیل کی قیمتوں سے جو فائدہ ہوا، اس کا مناسب استعمال کیا جا سکتا تھا۔ لیکن حکومت ایسا کرنے میں بری طرح ناکام ثابت ہوئی۔ معیشت کی حالت کو چمکدار دکھانے کے لیے وزیر مالیات نے برآمدگی کا ایک اعداد و شمار پیش کیا کہ یہ 15 فیصد کی رفتار سے بڑھ رہا ہے، لیکن حقیقت کچھ الگ ہے۔ تاریخی اعداد و شمار دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ 2013-14 میں مرکنڈائز ایکسپورٹ یعنی ملک میں بنے مال کو بیرون ممالک بھیجے جانے کی شرح ترقی 4.7 فیصد تھی جو کہ 2014-15 یعنی مودی حکومت سے پہلے سال میں مائنس 1.3 فیصد ہو گئی۔ اگلے سال یعنی 2015-16 میں بھی اس سیکٹر کی ترقی مائنس میں ہی رہی اور یہ مائنس 15 فیصد پر پہنچ گئی۔ اس کے برعکس درآمدگی یعنی امپورٹ میں کافی اضافہ ہوا۔ یعنی ہم جتنا مال باہر بھیج رہے ہیں اس سے کہیں زیادہ باہر سے منگا رہے ہیں۔ اس ناطے ٹریڈ ڈیفیسٹ یعنی کاروباری خسارہ تین سال کے اعلیٰ سطح کو چھوتا ہوا 15 ارب ڈالر پر پہنچ گیا۔

یہ حکومت ریلوے بجٹ کو الگ سے پیش کرنے کی روایت کو ختم کر چکی ہے، ایسے میں امید رہتی ہے کہ ملک کے ایک سرے کو دوسرے سرے سے جوڑنے والے اس شعبہ پر خاص توجہ دی جائے گی۔ لیکن محض چند منٹوں میں ریلوے کا تذکرہ کر کے وزیر مالیات نے اس اہم محکمہ کو فراموش کر دیا۔ گزشتہ سال گواہ رہا ہے کہ کس طرح یکے بعد دیگرے ریل حادثات ہوئیں۔ حالات اتنے خراب تھے کہ حکومت کو اپنا وزیر ریل تک بدلنا پڑا۔ لیکن ریلوے سیکورٹی کے لیے حکومت نے جو انتظام کیا ہے وہ یو پی اے حکومت کے دور میں کیے گئے انتظام کا نصف ہی ہے۔

مجموعی طور پر اسے ایک ’ٹیکسنگ بجٹ‘ یعنی ایسا بجٹ کہا جا سکتا ہے جس میں اعداد و شمار کے ساتھ کھیل تو خوب کھیلا گیا ہے لیکن حاصل کچھ نہیں ہوتا۔ ایسے میں سوال اٹھتا ہے کہ آخر یہ بجٹ کس کے لیے ہے؟ اس سلسلے میں ’نیشنل ہیرالڈ‘ نے لوگوں کی رائے جانی کہ اس بجٹ سے کس کو فائدہ وہگا؟ 76 فیصد لوگوں کا ماننا ہے کہ اس بجٹ سے کارپوریٹ کا فائدہ ہوگا۔ یعنی مودی حکومت نے جو بجٹ پیش کیا ہے اس سے اگر کسی کو فائدہ ہو سکتا ہے تو وہ ہے بڑے کارپوریٹ، اور جن کسانوں کے قدموں میں حکومت گئی ہے، کیا انھیں بھی اس بجٹ سے فائدہ ہوگا، ایسا ماننے والے صرف 17 فیصد لوگ ہیں۔ اس کے علاوہ 82 فیصد لوگوں کا ماننا ہے کہ اس بجٹ سے انھیں ذاتی انکم ٹیکس کے سلسلے میں نقصان ہوگا۔

پول کے نتائج سے واضح ہے کہ مودی حکومت پر جو بھی مٹھی بھر لوگوں کا بچا کھچا بھروسہ ہے، وہ بھی دھیرے دھیرے ختم ہو رہا ہے۔

سب سے زیادہ مقبول