راکیش سنہا کا ایک خطرناک نوٹس ...سہیل انجم

ممکن ہے کہ آر ایس ایس کی جانب سے راکیش سنہا کو اشارہ دیا گیا ہو کہ تم پہلے لفظ سوشلسٹ نکلواؤ اس کے بعد لفظ سیکولر کا نمبر آئے گا۔ اس طرح ممکن ہے کہ ان دونوں الفاظ کو آئین سے نکال دیا جائے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

سہیل انجم

ابھی چند روز قبل اخبارات میں ایک خبر آئی جسے لوگوں نے نظرانداز کر دیا۔ حالانکہ وہ خبر نظرانداز کیے جانے کے قابل نہیں تھی۔ اس کے باوجود اس پر کسی کی نظر نہیں گئی اور اس پر کوئی گفتگو نہ تو ٹی وی چینلوں پر کی گئی اور نہ ہی اخبارات میں اور نہ ہی سوشل میڈیا میں۔ وہ خبر تھی بی جے پی کے راجیہ سبھا رکن اور آر ایس ایس کے نظریہ ساز راکیش سنہا کے ایک نوٹس سے متعلق۔

انھوں نے راجیہ سبھا کے چیئرمین ایم وینکیا نائڈو کے نام ایک نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھیں ایک ایسی قرارداد پیش کرنے کی اجازت دی جائے جس میں وہ یہ مطالبہ کریں گے کہ آئین کی تمہید سے لفظ ”سوشلسٹ“ ہذف کر دیا جائے۔ قراردار میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مذکورہ لفظ زائد یا غیر ضروری ہے۔ اس کو نکال کر اقتصادی غور و فکر کے لیے گنجاش پیدا کی جائے۔

خیال رہے کہ آئین کی تمہید میں لکھا ہوا ہے کہ بھارت ایک خودمختار، سیکولر، سوشلسٹ اور ڈیموکریٹک جمہوریہ ہے۔ راکیش سنہا کا دعویٰ ہے کہ لفظ سوشلزم پارلیمنٹ میں مناسب بحث کے بغیر ایمرجنسی میں شامل کیا گیا تھا۔ اس لیے اس کو آئین کی تمہید سے نکال دیا جانا چاہیے۔

دراصل آئین کی تمہید میں ”سوشلسٹ“ اور ”سیکولر“ کے الفاظ 42 ویں ترمیم کے دوران شامل کیے گئے تھے۔ اس ترمیم کے ذریعے پارلیمنٹ کو یہ اختیار دیا گیا تھا کہ وہ سپریم کورٹ کے جائزے کے بغیر ہی آئین میں ترمیم کر سکتی ہے۔ اس نے آئین کی تمہید میں بھی تبدیلی کی تھی۔ اس سے قبل آئین میں درج تھا کہ بھارت ایک خود مختار ڈیموکریٹک جمہوریہ ہے۔ اسے تبدیل کرکے ”خودمختار، سوشلسٹ، سیکولر، ڈیموکریٹک جمہوریہ“ قرار دیا گیا۔ اس میں ”یونٹی آف دی نیشن“ یعنی ”قومی اتحاد“ لکھا گیا تھا جسے ”قومی اتحاد و یکجہتی“ کیا گیا۔

سپریم کورٹ کی 1973 تک یہ رائے تھی کہ آئین کی تمہید کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا کیونکہ وہ آئین کا حصہ نہیں ہے۔ لیکن اسی سال سپریم کورٹ نے کیشو وندنا بھارتی کیس میں کہا کہ آئین کی تمہید آئین کا حصہ ہے اور پارلیمنٹ کو اسے تبدیل کرنے کا مکمل اختیار ہے۔ اس ترمیم کے بعد سے ہی ہندوستان کو ایک سیکولر ملک کہا جانے لگا۔ سیکولر یعنی حکومت کا اور ملک یعنی نیشن کا کوئی مذہب نہیں ہوگا البتہ وہ تمام مذاہب کا یکساں احترام کرے گا۔

لیکن آر ایس ایس اور اس کی سیاسی شاخ بی جے پی کو سیکولرزم سے ہمیشہ چڑ رہی ہے۔ اس کی ایک بنیادی وجہ ہے۔ آر ایس ایس ہندوستان کو ایک ہندو ملک تصور کرتا ہے اور اس کا خیال ہے کہ یہاں صرف ہندووں کو ہی رہنے کا حق ہے۔ آر ایس ایس کی جانب سے بار بار یہ بات کہی جاتی ہے رہی ہے، خاص طور پر اس کے سرسنگھ چالک موہن بھاگوت کی جانب سے کہ ہندوستان میں رہنے والا ہر شہری ہندو ہے۔

لہٰذا آر ایس ایس کی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ ہندوستان کو ایک سیکولر ملک نہ کہا جائے بلکہ ایک ہندو ملک کہا جائے۔ لیکن چونکہ آئین کی تمہید میں لفظ سیکولر شامل ہے اس لیے وہ مجبور ہے۔ اس کی جانب سے یا اس کے پیروکاروں کی جانب سے بار بار یہ مطالبہ کیا جاتا رہا ہے کہ آئین کی تمہید سے لفظ سیکولر نکال دیا جائے۔ لیکن چونکہ اس کی سختی سے مخالفت ہوتی رہی ہے اس لیے وہ ابھی تک اس میں کامیاب نہیں ہو سکے ہیں۔

راکیش سنہا بھی یہ مطالبہ متعدد بار کر چکے ہیں۔ لہٰذا انھوں نے لفظ سیکولر تو نہیں لفظ سوشلسٹ کو نکالنے کے لیے قراداد پیش کرنے کی اجازت چاہی ہے۔ در اصل یہ قدم لفظ سیکولر نکالنے کی جانب ایک قدم ہے۔ یعنی اگر مذکورہ لفظ نکال دیا گیا تو آگے چل کر دوسرا لفظ نکالنے میں آسانی ہوگی اور یہ دلیل دی جائے گی کہ جب ایک زائد لفظ کو نکال دیا گیا تو دوسرے زائد لفظ کو کیوں نہیں نکالا جا سکتا۔ اس طرح اگر دیکھا جائے تو راکیش سنہا کا یہ قدم انتہائی خطرناک ہے۔

یہ اس لیے بھی خطرناک ہے کہ یہ نہ صرف ہندوستان کو ایک سیکولر ملک کے زمرے سے نکالنا ہے بلکہ ہندوستان کو ہندو اسٹیٹ کی جانب آگے بڑھانا بھی ہے۔ موجودہ حکومت بھی لفظ سیکولر کو پسند نہیں کرتی۔ خود وزیر اعظم نریندر مودی بھی اس کے حق میں نہیں ہیں۔ قارئین کو یاد ہوگا کہ جب 2019 کے پارلیمانی انتخابات میں شاندار کامیابی کے بعد بی جے پی دفتر نئی دہلی میں جلسہ عام ہوا تھا تو اس میں تقریر کرتے ہوئے مودی نے سیکولرزم پر شدید حملہ کیا تھا۔

انھوں نے کہا تھا کہ اب حالات پہلے کے مقابلے میں کافی بدل گئے ہیں۔ اپوزیشن کے لیڈران میں اب اتنی ہمت نہیں رہ گئی ہے کہ وہ سیکورلزم کا نام لیں۔ اس طرح انھوں نے ایک اشارہ دیا تھا کہ اب ہندوستان ایک سیکولر ملک نہیں رہے گا یا نہیں رہ گیا ہے۔ اگر وہ سیکولر ملک نہیں ہے تو پھر کیا ہے؟ ظاہر ہے اس کا مطلب یہی ہے کہ وہ ایک ہندو ملک بن گیا ہے۔ انتخابات میں جس طرح ہندوتو کے ایشوز کو ہائی لائٹ کیا جاتا ہے اور جس طرح ٹی وی ڈبیٹ میں سنگھ پریوار کے نمائندے مباحثوں میں حصہ لیتے ہیں اس سے یہ قیاس آرائی کرنا مشکل نہیں ہے کہ ہندوستان عملاً ایک ہندو اسٹیٹ میں تبدیل ہو گیا ہے۔

اب اسے قانونی روپ دینا باقی ہے۔ قانونی روپ اسی وقت مل سکتا ہے جب آئین کی تمہید سے لفظ سیکولر اور سوشلسٹ نکال دیا جائے۔ ممکن ہے کہ آر ایس ایس کی جانب سے راکیش سنہا کو اشارہ دیا گیا ہے کہ تم پہلے لفظ سوشلسٹ نکلواؤ اس کے بعد لفظ سیکولر کا نمبر آئے گا۔ اس طرح ممکن ہے کہ ان دونوں الفاظ کو آئین سے نکال دیا جائے۔ اگر ایسا ہوا تو ہندوستان جو کہ عملاً ایک ہندو اسٹیسٹ میں تبدیل ہو گیا ہے آئینی طور پر بھی اسے ہندو اسٹیٹ بنانے میں کوئی دشواری نہیں ہوگی۔

اگر ایسا ہوا تو اپوزیشن کی سیاست ختم ہو جائے گی۔ کیونکہ بہر حال بی جے پی کے ہندوتو کا مقابلہ اگر کوئی سیاست کر سکتی ہے تو وہ سیکورلزم کی سیاست ہی ہے۔ ہندوستان جب تک سیکولر رہے گا تمام مذاہب کے ماننے والوں کو اپنے مذہب پر چلنے کی آزادی رہے گی۔ جس دن یہ آئینی طور پر ہندو اسٹیٹ بن گیا اس دن سے مذہبی اقلیتیں ایک قسم کی عملی غلامی میں مبتلا ہو جائیں گی۔