ام ماریہ حق کی نظم: یادوں کے دریچے 

تمام دن کی مسافت، اپنے دامن میں سمیٹ کر، یہ شام، میری دہلیز پر، تھک کے ٹھہر جاتی ہے...

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

ام ماریہ حق

تمام دن کی مسافت

اپنے دامن میں سمیٹ کر

یہ شام

میری دہلیز پر

تھک کے ٹھہر جاتی ہے

اکثر تو وہ

لوٹ جاتی ہے خاموش

لیکن کبھی کبھی

کھلے چھوڑ جاتی ہے

یادوں کے دریچے

ماضی کی بھینی بھینی خوشبو

غم سے لدی پرچھائیاں

دل کو شاد کرتے

رنگ و راھت کے پُر سکون منظر

میرے وجود کو ہزار پارہ کرتے

بے زبان خواہشوں کے احتجاج