کربِ مسلسل... ام ماریہ حق کی نظم

یہ کیسی قاتل اداس رُت ہے، تمام منظر ہیں سہمے سہمے، ویران سڑکیں، ساکت و جامد، درد سے بوجھل ہے بستی بستی

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

ام ماریہ حق

یہ کیسی قاتل اداس رُت ہے

تمام منظر ہیں سہمے سہمے

ویران سڑکیں

ساکت و جامد

درد سے بوجھل ہے بستی بستی

زوال کی مٹھی میں روز و شب ہیں

آس کے در ہیں

دھندلے دھندلے

ہے گھڑی آزمائشوں کی

اے خدا!

اے قادر و جبّار

اس عذابِ الم ناک میں

ہم ہیں بے بس و مجبور

اب تو ہی بتا

کوئی راہ دکھا

آخر!

کوئی تو حد ہو

اس کربِ مسلسل کی

ام ماریہ حق