ممبئی: معروف شاعر اور ایک صدی پرانے ماہنامہ 'شاعر' کے مدیر افتخار امام صدیقی کا سانحہ ارتحال

معروف و مشہور شاعر اور آگرہ کے استاد شاعر سیماب اکبرآباد کے پوتے اور اعجاز صدیقی کے فرزند افتخار امام صدیقی کا جنوبی ممبئی کے گرانٹ روڈ پر واقع بلڈنگ میں انتقال ہو گیا، ان کی عمر 74 برس تھی

تصویر بشکریہ ہارمونی انڈیا ڈاٹ اوآرجی
تصویر بشکریہ ہارمونی انڈیا ڈاٹ اوآرجی
user

یو این آئی

ممبئی: معروف ومشہور شاعر اور آگرہ کے استاد شاعر سیماب اکبرآباد کے پوتے اور اعجاز صدیقی کے فرزند افتخار امام صدیقی کا آج صبح یہاں جنوبی ممبئی کے گنجان ابادی والے علاقے گرانٹ روڈ پر واقع بلڈنگ میں انتقال ہوگیا ۔ ان کی عمر 74 برس تھی ۔

مرحوم افتخار امام صدیقی کے آباؤاجداد کاتعلق اتر پردیش کےتاج محل کے لیے مشہور شہر آگرہ سے تھا۔معروف شاعر اور کوئز مقابلہ کے لیے مشہور حامد اقبال صدیقی ان کے چھوٹے بھائی ہیں،جبکہ ایک چھوٹے بھائی رئیس صدیقی خطاط کا چند سال قبل انتقال ہو چکا ہے۔

افتخار امام 19نومبر 1947 کو ملک کی تقسیم اور آزادی ہندوستان میں تاریخی شہر آگرہ میں پیدا ہوئے۔ان دادا سیماب اکبرآبادی ایک استاد شاعر رہے اور کہا جاتا ہے کہ ان کے تین ہزار شاگرد تھے اور بمبئی پہنچ کربھی انہوں نے مشہور زمانہ رسالہ شاعر کی اشاعت جاری رکھی ، آزادی کے بعد سیماب اکبرآبادی ملک کی تقسیم کے بعد پاکستان ہجرت کر گئے۔

ان کے بیٹے اعجاز صدیقی نے پاکستان جانے سے انکار کردیا اور جنوبی ممبئی میں واقع پلے ہاؤس علاقے کی سیتارام بلڈنگ میں مقیم ہوئے تین چار نسلوں نے یہاں زندگی گزاردی،اور مرحوم افتخار صدیقی نے بھی اپنے والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ماہنامہ'شاعر' کی اشاعت بلا روک ٹوک جاری رکھی۔

افتخار امام صدیقی بدلتے زمانے کے ساتھ کمرشل شاعر بھی بن گئے اور ہندوپاک کے مشاعروں میں ترنم سے اپنا کلام سناتے تھے اور مشاعرہ جیت لیتے تھے۔افتخارامام 2002 میں ریل کے سفر کے دوران جبل پور میں حادثے کا شکار ہوگئے،تب سے مشاعروں سے دوری اختیار کر لی،ان کے ساتھ یہ حادثہ 11،مارچ 2002 کو جبل پور اسٹیشن پر پیش آیا تھا۔شاعری کے ساتھ ساتھ افتخار امام صدیقی نے شاعر کے لیے تقریباً سو شخصیات کے انٹرویو بھی لیے اور مجموعہ کلام 'چاند غزل' بھی شائع ہواہے۔

انہوں نے غزل کے ساتھ ہی فلموں کے لیے نغمے بھی گائے ،اپنے والد اعجاز صدیقی سے فن شاعری سے متعارف ہوئے اور اپنے دادا کی غزل کو بھی بہتر اندازمیں پیش کرتے تھے۔جبل پور میں ٹرین حادثہ کی وجہ سے وہ معذور ہوگئے اور وہیل چئیر کے محتاج ہوگئے تھے ،لیکن اس کا ماہنامہ'شاعر' کی اشاعت پر کوئی اثر نہیں ہوا۔انہوں نے 'ون مین آرمی'کے طور پر شاعری کو جاری وساری رکھا۔جس میں ان کے بھائی حامد اقبال صدیقی اور شعیب صدیقی ودیگر بھی مدد کرتے تھے۔

تقریباً 9 دہائیوں سے شائع ہونے والا ماہنامہ شاعر کا مستقبل متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔ ممبئی سے شائع ہونے والے بچوں کے رسالہ گل بوٹے کے مدیر فاروق سید نے اسے ایک افسوس ناک خبر قرار دیتے ہوئے کہاکہ ان چھوٹے بھائی حامد اقبال صدیقی کی اطلاع کے مطابق ماہنامہ شاعر کے مدیر افتخار امام صدیقی نے آج صبح بعد فجر آخری سانس لی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 04 Apr 2021, 2:12 PM