تنہائی کو تخلیق میں ڈھالنے والا شاعر- نعمان شوق

جہان تک نظموں اور غزلوں کا تعلق ہے تو یہ بڑی حیرت کی بات ہے کہ 'نظم گو' نعمان شوق 'غزل گو' نعمان شوق سے یکسر جدا گانہ شخصیت کے مالک نظر آتے ہیں

<div class="paragraphs"><p>نعمان شوق / جمال عباس فہمی</p></div>

نعمان شوق / جمال عباس فہمی

user

جمال عباس فہمی

وہ اتنا تنہائی پسند ہے کہ کبھی کبھی اسے اپنے وجود کی موجودگی بھی گراں گزرنے لگتی ہے۔ لیکن یہی اکیلا پن اور تنہائی اسکی تخلیقی صلاحیت کو جلا بخشتی ہے۔ تخلیقی جزبے کو مہمیز کرتی ہے۔ اسی تنہائی کو وہ تخلیق میں تبدیل کرکے خود کو بہت پلکا پھلکا محسوس کرتا ہے۔ اسی تنہائی پسند اور اپنے وجود کے اسرار میں گم شخصیت کو اگرخوش فکر و خوش ذکر،خوش شکل و خوش عقل،خوش آواز و خوش انداز، خوش خرام و خوش کلام اور خوش اطوار و خوش گفتار کے طور پر تجسیم کردیا جائے تو نعمان شوق کا سراپا ابھر کر سامنے آتا ہے۔نعمان شوق اس لحاظ سے بھی اکیلا ہیکہ ما بعد جدید شاعری کی دنیا میں بھی وہ اپنی طرز ادا اور لہجے کا اکیلا شاعر ہے۔ اسکی غزلیں بھی جداگانہ انداز کی ہوتی ہیں اور نظمیں بھی۔وہ یکساں مہارت کے ساتھ اردو اور ہندی کو اپنے احساسات کے اظہار کے پیرایہ کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ اسکی اردو شاعری کے چار مجموعے اور ہندی شاعری کے دو مجموعے منظر عام پر آچکے ہیں۔یہ الگ بات ہیکہ اسکے شعری مجموعوں کے نام افسانوی مجموعوں جیسے لگتے ہیں۔ نعمان شوق ایک کثیر جہتی میڈیا شخصیت بھی ہے۔ نعمان شوق کی ادبی زندگی کے گونا گوں پہلوؤں پر گفتگو کرنے سے پہلےانکے خاندانی پس منظر اور تعلیمی سفر کا طائرانہ طور سے ہی سہی جائزہ لینا ضروری محسوس ہوتا ہے۔

نعمان شوق کا اصل اور مکمل نام سید محمد نعمان ہے۔ انکے والد سید محمد رضوان سرکاری ملازم تھے۔ خاندان میں شعر و ادب میں دلچسپی عام تھی لیکن صرف دل بستگی کی حد تک۔ وہ بہار کے آرہ، بھوج پور میں 02 جولائی 1965 کو پیدا ہوئے۔والد کی ملازمت کے سبب انکا بچپن ننیہال میں گزرا۔ نانی سے انہوں نے عربی اور اردو پڑھنا سیکھی اور فارسی سیکھنے کی رغبت انکے اندر انکے استاد عزیز الرحمان کی وجہ سے پیدا ہوئی۔ادب کی بنیادی شد بد بھی عزیز الرحمان کی وجہ سے ہی بیدار ہوئی۔ نعمان شوق کو آرہ میں جو ماحول ملا اسکی وجہ سے انہیں اردو اور فارسی کے ساتھ ساتھ ہندی اور بھوجپوری کا ادب پڑھنے کا بھی موقع ملا۔ انہوں نے انگریزی اور اردو میں ایم اے کیا۔ آرہ کے الحفیظ کالج میں چھ برسوں تک انگریزی کے لکچرر رہے۔انفارمیشن سرویسز کا امتحان پاس کرنے کےبعد دہلی میں آل انڈیا ریڈیو سے وابستہ ہو گئے۔اپنی کھنک دار آواز کی بدولت پٹنہ ریڈیو اسٹیشن سے کیزول اناؤنسر کی حیثیت سے بھی وابستہ رہے۔ ایف ایم سے بھی وابستہ رہے۔ حالات حاضرہ سے لیکر ادبی پروگراموں کی ترتیب و پیش کش کی ذمہ داریاں سنبھالیں۔ کل ملا کر نعمان شوق ایک خوش فکر شاعر کے ساتھ ساتھ ایک کثیر جہتی میڈیا شخصیت بھی ہیں۔


نعمان شوق طبیعتاً تنہائی پسند ہیں۔اس تنہائی کا ہمسفر انکا ادبی مطالعہ رہا ہے۔ نعمان شوق شاعری کو تنہائی کا ساتھی قرار دیتے ہیں ۔ انکے لئےشاعری تنہائی سے گزرنے میں بہت بڑا سہارا ثابت ہوتی ہے۔ مختلف زبانوں کے شعرا کو پڑھتے پڑھتے انکے اندر بھی شعر گوئی کا صلاحیت پیدا ہو گئی۔1981 میں سولہ برس کی عمر میں انہوں نے اپنی پہلی غزل کہی۔

نعمان کی زندگی کا یہ پہلو بھی بڑا عجیب رہا کہ لڑکپن سے ہی انہیں ادب پڑھنے کا تو شوق بے حد رہا لیکن وہ ادیبوں سے دور بھاگتے تھے۔ حد تو یہ ہے کہ ڈاکٹر تاج پیامی جنہوں نے انہیں انگریزی میں ایم اے کرنے اور شعر گوئی کی جانب راغب کیا ان تک سے پہلی بار ملاقات سے وہ گھبراتے رہے۔جہاں تک شاعری کی بات ہے تو نعمان شوق غزلیں اور نظمیں دونوں یکساں مہارت اور چابکدستی کے ساتھ کہتے ہیں لیکن نعمان شوق کو نظمیں کہنا اور نظمیں سوچنا زیادہ اچھا لگتا ہے۔ بقول انکے 'نظم سے انہیں اس طرح کا سکون ملتا ہے جو جلی ہوئی کھال کے بدن سے جدا ہوجانے کے بعد ملتا ہے'۔

جہان تک نظموں اور غزلوں کا تعلق ہے تو یہ بڑی حیرت کی بات ہے کہ 'نظم گو' نعمان شوق 'غزل گو' نعمان شوق سے یکسر جدا گانہ شخصیت کے مالک نظر آتے ہیں۔ انکی 'نظموں کی دنیا' ، 'جہان غزل' سے الگی ہی جزیرے پر بسی نظر آتی ہے۔وہ زندگی کے نشیب و فراز کے شاعر ہیں۔انکی شاعری نئے استعارات، تراکیب اور علامتوں سے مزین ہے۔اسکی وجہ شاید یہی ہیکہ انہوں نے مختلف زبانوں کے ادب کا گہرا مطالعہ کیا ہے۔

نعمان شوق اپنے مافی الضمیر کی ترسیل کے لئےکبھی کھی ایسی تراکیب استعمال کر جاتے ہیں کہ جسکی مثال اردو شاعری میں ان سے پہلے نظر نہیں آتی۔ ایک شعر میں 'بدن خوانی' کی ترکیب استعمال کی ہے ۔ انکا یہ شعر جدید تہزیب کی عریانی کا نوحہ بھی ہے اور فحش بینی کے بڑھتے رجحان کا ماتم بھی۔


اتنی تعظیم ہوئی شہر میں عریانی کی

رات آنکھوں نے بھی جی بھر کے بدن خوانی کی

'طوق بدن' اور 'چقماق بدن' کی ترکیبیں انکی اختراعی فکر کی آئینہ دار ہیں۔

طوق بدن اتار کے پھینکا زمیں سے دور

دنیا کے ساتھ چلنے سے انکار کر دیا

۔

سارے 'چقماق بدن' آئے تھے تیاری سے

روشنی خوب ہوئی رات کی چنگاری سے

نئی نسل کے جدید مشاغل نے اسے اپنوں سے کتنی دور کردیا ہے اس کرب کا اظہار نعمان شوق کے اس شعر سے بہتر انداز میں نہیں ہوسکتا۔

خیالی دوستوں کے عکس سے کھیلو گے کب تک

میرے بچے کبھی مل لو بھرے گھر میں کسی سے

غم عشق اور غم روزگار کے درمیان بھی بہت کچھ کشاکش روزگار ہے جس تک پہونچنے کی نعمان شوق کے یہاں جستجو نظر آتی ہے۔

نعمان شوق کے یہاں عشقیہ موضوعات کا بیان بر ملا نہیں ہے بلکہ انکی شاعری میں اسکی دھیمی دھیمی آنچ محسوس کی جا سکتی ہے۔

میری خوشیوں سے وہ رشتہ ہے تمہارا اب تک

عید ہو جائے اگر عید مبارک کہہ دو

۔۔

ہمیں برا نہیں لگتا سفید کاغذ بھی

یہ تتلیاں تو تمہارے لئے بناتے ہیں

۔۔۔۔

عشق کیا ہے خوب صورت سی کوئی افواہ بس

وہ بھی میرے اور تمہارے درمیاں اڑتی ہوئی

۔۔

ایسی ہی ایک شب میں کسی سے ملا تھا دل

بارش کے ساتھ ساتھ برستی ہے روشنی

۔۔۔۔۔

دور جتنا بھی چلا جائے مگر

چاند تجھ سا تو نہیں ہو سکتا

۔۔۔۔

عشق میں سچا تھا وہ میری طرح

بے وفا تو آزمانے سے ہوا

وہ حسن جاناں کے پیچھے دیوانہ وار دوڑتے نظر نہیں آتے۔ بلکہ وہ انسان کے باطنی حسن کی تلاش و جستجو میں لگے رہتے ہیں۔

کبھی لباس کبھی بال دیکھنے والے

تجھے پتہ ہی نہیں ہم سنور چکے دل سے

۔۔۔

نعمان شوق ڈر، خوف و ہراس اور دہشت کو ایک الگ ہی ذاویے سے دیکھتے ہیں۔ ان جزبات کے بیان کے انکے کچھ اشعار دیکھئے۔

کچھ نہ تھا میرے پاس کھونے کو

تم ملے ہو تو ڈر گیا ہوں میں

۔۔۔۔

کبوتروں میں یہ دہشت کہاں سے در آئی

کہ مسجدوں سے بھی کچھ دور جا کے بیٹھ گئے

۔۔۔۔

ڈر ڈر کے جاگتے ہوئے کاٹی تمام رات

گلیوں میں تیرے نام کی اتنی صدا لگی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک حساس قلمکار اپنے ملک میں ہونے والی سیاسی تبدیلیوں، حکمرانوں کی روش اور انکے طرز حکومت کے نتائج سے بے خبر اور لا پروا نہیں رہ سکتا ہے۔ نعمان شوق بھی ایک نہایت حساس شاعر ہیں۔ لیکن وہ حکمرانوں کی حرکتوں پر کھلم کھلا انداز میں تبصرہ نہیں کرتے بلکہ اشاروں اور کنایوں کے ساتھ بہت نپے تلے انداز میں بہت کچھ کہہ جاتے ہیں۔

پوچھو کہ اس کے ذہن میں نقشہ بھی ہے کوئی

جس نے بھرے جہان کو زیر و زبر کیا

۔۔۔

پھر اس مذاق کو جمہوریت کا نام دیا

ہمیں ڈرانے لگے وہ ہماری طاقت سے

وہ اقتدار پر فائز لوگوں کو بہت سلیقے سے عوام کی طاقت کا احساس دلا دیتے ہیں۔۔

میں اگر تم کو ملا سکتا ہوں مہر و ماہ سے

اپنے لکھے پر سیاہی بھی چھڑک سکتا ہوں میں

۔۔۔۔

دوسری طرف نعمان شوق لوگوں کو بھی اپنی اہمیت کا احساس کرنے کی تلقین کرتے ہیں۔

اب اسے غرقاب کرنے کا ہنر بھی سیکھ لوں

اس شکارے کو اگر پھولوں سے ڈھک سکتا ہوں میں


آئیے اب انکی دنیائے نظم کی سیر کرتے ہیں۔انکی نظموں کے مجموعے 'فریزر میں رکھی شام' میں شامل نظم 'جب لڑکیاں نہیں ہونگی' لڑکوں کی چاہت میں بگڑتے ہوئے جنسی تناسب کی تناظر میں ہمیں جھنجھوڑتی نظر آتی ہے۔

ہماری رات کے ٹوٹے ہوئے چاک پر

گڑھا جارہا ہے

ایک بے حد ڈراؤنا خواب

بنا جارہا ہے ایک ایسا آسمان

جو پرندوں سے خالی

اور دھوئیں سے بھرا ہے

کل جب لڑکیاں نہیں ہونگی

اوزون کی پرت میں بنے سوراخ سے

پیدا ہونگے بچے

ہمارے لہو سے

سینچے گئے پیڑ کی سوکھی شاخ پر

گائے گی کوئی چڑیا ایک اداس گیت

اور لوگ سمجھیں گے

صبح ہو گئی

۔۔۔

'ڈوبتی ناؤ پر' انکی یہ مختصر نظم دنیا بھر کا موجودہ منظر نامہ بیان کئے دے رہی ہے۔

نظر یات کی سیڑھیوں کے نیچے

کھدائی جاری ہے

پوری طاقت سے پکڑے رہئے

اپنے اپنے ملک مذہب اور عقیدے کے سانپوں کی دم

جیسے پکڑے رہتے ہیں ڈوبتی ناؤ پر سوار لوگ

ایک دوسرے کو

۔۔۔۔۔۔۔

انکے یہ کچھ گہرے معنی دار اشعار پڑھئے اور انکی فکری اساس اور احساس کی آنچ کو محسوس کیجئے۔

بڑے گھروں میں رہی ہے بہت زمانے تک

خوشی کا جی نہیں لگتا غریب خانے میں

۔۔

سنا ہے شور سے حل ہوں گے سارے مسئلے اک دن

سو ہم آواز کو آواز سے ٹکراتے رہتے ہیں

۔۔

ضمیر جاگ رہا ہو تو نیند کیا آئے

یہ شور وہ سنے جس کو سنائی دیتا ہے

۔۔۔۔

ہم بھی ماچس کی تیلیوں سے تھے

جو ہوا صرف ایک بار ہوا

آئنے کا سامنا اچھا نہیں ہے بار بار

ایک دن اپنی ہی آنکھوں میں کھٹک سکتا ہوں میں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔