نظم: اگنی پتھ... گوہر رضا

یہ کون ہیں جو سڑکوں پر ہیں/یہ کیوں اترے ہیں سڑکوں پر/کل تک تھے قلم جن ہاتھوں میں/کیوں اترے ہیں نعرے بن کر/مٹھی بن کر/کیوں پتھر ہیں ان ہاتھوں میں/کیوں شعلے ہیں ان ہاتھوں میں

user

گوہر رضا

اگنی پتھ

(شاعر گوہر رضا)

یہ کون ہیں جو سڑکوں پر ہیں

یہ کیوں اترے ہیں سڑکوں پر

کل تک تھے قلم جن ہاتھوں میں

کیوں اترے ہیں نعرے بن کر

مٹھی بن کر

کیوں پتھر ہیں ان ہاتھوں میں

کیوں شعلے ہیں ان ہاتھوں میں

یہ وہ لخلوٹ ہیں جو کل تک

خود اپنے خون پسینے سے

اس ملک کا مان بڑھانے کی

امید لگائے بیٹھے تھے

یہ اگلی نسلیں ہیں اپنی

جو کل تک ملک کا گورو تھیں

ہاں ہٹلر کا فرمان ہو تم،

تم نے امید کو توڑ دیا

ہر خواب کو چکناچور کیا

جب حق کے بدلے بھیک ملے

امید کا دامن پھٹ جائے

جب عزت، غیرت داؤ پہ ہو

اور بہتر مستقبل سارا

بس ’اگنی پتھ‘ میں سمٹ جائے

جب وعدے سب جھوٹے نکلیں

اور سارا بھروسہ اٹھ جائے

تب دیش کی غیرت اٹھتی ہے

نعرہ بن کر، مٹھی بن کر

بجلی بن کر، آندھی بن کر

اس سنگھرشوں کی آندھی میں

یہ یاد رہے میرے ہمدم

تم اگنی پتھ پر مت چلنا

تم ہنسا پتھ پر مت جانا

تم اپنی کتابیں ہاتھ میں لو

اور پھر سے اٹھاؤ اپنے قلم

سنگھرش کرو ہر حق کے لیے

احساس دلاؤ ہٹلر کو،

ہٹلر کے دیے فرمانوں سے

دیش چلانا مشکل ہے

عزت، غیرت کے خوابوں کو

بوٹوں سے دبانا مشکل ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔