نظم: خوابوں کی کرچیاں... ام ماریہ حق

ذہن کے فرش پر بچھے، سبز غالیچہ پر، ٹوٹتے بکھرتے، بے ربط، بے ترتیب، نامکمل خواب...

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

ام ماریہ حق

ذہن کے فرش پر بچھے

سبز غالیچہ پر

ٹوٹتے بکھرتے

بے ربط

بے ترتیب

نامکمل خواب

اور پھر

ان ٹوٹتے ہوئے خوابوں کی

چبھتی ہوئی کرچیاں

بھٹکتی ہوں روز

خوابوں کے اس بیاباں جنگل میں

یہ جانتے ہوئے!

کہ اپنے مقاصد کی تکمیل کے لئے

سپنوں کی وادیوں میں

بھٹکنا کوئی اہمیت نہیں رکھتا

لیکن!

زندگی کی تلخ راہوں میں

بے تمنا گزر گاہیں

کس کام کی؟

  • ام ماریہ حق
    next