نظم: صبح اور سپنے ... کلدیپ کمار

میری طرح، میری صبح بھی کافی عجیب ہے، کبھی بھی ہو جاتی ہے، رات کے دو بجے، تو دن کے دو بجے بھی، جب آنکھ کھلے تبھی سویرا...

تصویر بشکریہ / ergezen.nl
تصویر بشکریہ / ergezen.nl
user

قومی آوازبیورو

میری طرح

میری صبح بھی کافی عجیب ہے

کبھی بھی ہو جاتی ہے

.

رات کے دو بجے

تو دن کے دو بجے بھی

جب آنکھ کھلے تبھی سویرا

یہ کہاوت شاید میرے لئے ہی بنی تھی

.

صبح تو سونے کے بعد ہوتی ہے

لیکن سونا ہی کہاں ہے؟

.

نیند کی بس لپٹیں سی اٹھتی ہیں

اور سب کچھ راکھ کر چکنے کے بعد

میری پلکوں پر ٹھہر جاتی ہیں

تبھی مجھے نیند آ پاتی ہے

تھوڑی سی دیر

لیکن سپنیں نہیں آتے

.

انہیں بھی جاگتے ہوئے دیکھتا ہوں

.

دیکھتا ہوں کہ ایک آدمی

لگاتار جھوٹ بولتا جا رہا ہے

لوگوں کی جیب سے نوٹ نکال کر

ردی کاغذ بھر رہا ہے

اور لوگ خوشی سے ناچ رہے ہیں

.

بھیڑیوں کی بھیڑ چوراہے پر جمع ہے

اور بکریاں انہیں ہار پہنا رہی ہیں

بھوکوں کے آگے گائے کا گوبر اور گئو موتر پروسا جا رہا ہے

اور وے مست ہو کر تھالیوں کو ڈھولک کی طرح بجا رہے ہیں

.

اچھا ہے ایسے سپنے مجھے سونے میں آتے ہیں

ورنہ جو رہی سہی نیند آتی ہے

وہ بھی چلی جاتی

.

جاگ کر جو چہرہ دیکھتا تھا ہمیشہ

وہ تو چلا ہی گیا ہے

.

(کلدیپ کمار ہندوستان میں ہندی کے مشہور شاعر ہیں اور ان کی یہ نظم پاکستان کے ادبی کتابی سلسلہ ’آج‘ میں شائع ہو چکی ہے، بنیادی طور پر یہ نظم 2019 میں ان کی نظموں کے پہلے مجموعہ ’بن جیا جیون‘ میں شائع ہوئی تھی)

Published: 13 Nov 2020, 2:13 PM
پسندیدہ ترین
next