الوداع راحت صاحب: ’کرایہ دار ہیں ذاتی مکان تھوڑی ہے‘

عالمی شہرت یافتہ شاعر راحت اندوریؔ کا کورونا کے علاج کے دوران انتقال ہو گیا، انہوں ٹوئٹ کر کے خود کے کورونا سے متاثر ہونے کی اطلاع دی تھی، پیش ہیں ان کے مشہور کلام...

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

عالمی شہرت یافتہ شاعر راحت اندوریؔ کا کورونا کے علاج کے دوران انتقال ہو گیا، انہوں ٹوئٹ کر کے خود کے کورونا سے متاثر ہونے کی اطلاع دی تھی۔ اندور کے ضلع مجسٹریٹ منیش سنگھ نے راحت اندوری کے انتقال کی تصدیق کی ہے۔

راحت اندوری اپنے مخصوص انداز میں کلام پیش کرنے کے لئے مشہور تھے اور حالت حاضرہ پر وہ بہترین انداز میں شعر پڑھا کرتے تھے۔ راحت اندوری کے لئے کہا جاتا ہے کہ وہ اپنی شاعری میں عوام کا حال بیان کرتے تھے۔

راحت اندوری کی مشہور غزل:

اگر خلاف ہیں، ہونے دو، جان تھوڑی ہے

یہ سب دھواں ہے، کوئی آسمان تھوڑی ہے

لگے گی آگ تو آئیں گے گھر کئی زد میں

یہاں پہ صرف ہمارا مکان تھوڑی ہے

میں جانتا ہوں کہ دشمن بھی کم نہیں لیکن

ہماری طرح ہتھیلی پہ جان تھوڑی ہے

ہمارے منہ سے جو نکلے وہی صداقت ہے

ہمارے منہ میں تمہاری زبان تھوڑی ہے

جو آج صاحبِ مسند ہیں، کل نہیں ہوں گے

کرائے دار ہیں، ذاتی مکان تھوڑی ہے

سبھی کا خون ہے شامل یہاں کی مٹی میں

کسی کے باپ کا ہندوستان تھوڑی ہے​

راحت اندوری کی سب سے خاص بات یہ تھی کہ وہ عوام کے خیالات اپنے کلام میں بیان کرتے ہیں۔ اس پر زبان اور لہجہ ایسا کہ کیا اندور، کیا لکھنؤ، کیا دہلی اور کیا لاہور ہر جگہ کے لوگوں کے دل کی بات ان کی شاعری میں ہوتی تھی۔ سال 1986 میں راحت صاحب نے کراچی میں ایک شعر پڑھا اور پانچ منٹ تک ہال تالیوں کی آواز سے گونجتا رہا۔ پھر انہوں نے وہی شعر دہلی میں پڑھا تو یہاں بھی ویسا ہی منظر تھا۔

راحت اندوری کے کچھ چنندہ اشعار:

پھر وہی میر سے اب کے سداؤں کا طلسم

حیف راحت کہ تجھے کچھ تو نیا لکھنا تھا

۔

ابھی تو کوئی ترقی نہیں کر سکے ہم لوگ

وہی کرایہ کا ٹوٹا ہوا مکاں ہے میاں

۔

اب کے جو فیصلہ ہوگا وہ یہیں پہ ہوگا

ہم سے اب دوسری ہجرت نہیں ہونے والی

۔

ٹوٹ رہی ہے ہر دن مجھ میں اک مسجد

اس بستی میں روز دسمبر آتا ہے

۔

درِ مسجد پر کوئی شئے پڑی ہے

دعا بے اثر ہوگی ہماری

۔

میری خواہش ہے کہ آنگن میں نہ دیوار اٹھے

میرے بھائی میرے حصہ کی زمیں تو رکھ لے

۔

لوگ ہر موڑ پہ رک رک سنبھلتے کیوں ہیں

اتنا ڈرتے یہں تو پھر گھر سے نکلتے کیوں ہیں

۔

موڑ ہوتا ہے جوانی کا سنبھلنے کے لئے

اور سب لوگ یہیں آ کے پھسلتے کیوں ہیں

۔

بلاتی ہے مگر جانے کا نئیں

وہ دنیا ہے ادھر جانے کا نئیں

Published: 11 Aug 2020, 6:19 PM
next