’بہلیا میں نے دل کو ہے پہروں کئی طرح‘، مومن خان مومنؔ کی زمین پہ غزل

بہلیا میں نے دل کو ہے پہروں کئی طرح، پھر بھی یہ مانتا نہیں ہائے کسی طرح؛ قربان ہوں میں ان ہی کے انداز پر کہ وہ، وعدے سے اپنے مکرے ہیں پھر سے...

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

رویا کرینگے آپ بھی پہروں اسی طرح

اٹکا کہیں جو آپ کا دل بھی مری طرح

مومن خاں مومنؔ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بہلیا میں نے دل کو ہے پہروں کئی طرح

پھر بھی یہ مانتا نہیں ہائے کسی طرح

.

قربان ہوں میں ان ہی کے انداز پر کہ وہ

وعدے سے اپنے مکرے ہیں پھر سے نئی طرح

.

سوچا تھا اس سے کہہ کے میں سب لوٹ آؤں گا

اب دل سے کر رہا ہوں شکایت اسی طرح

.

عشق بتاں سے کس کو ملی ہے بھلا نجات

رویا کروگے آپ بھی دیکھو میری طرح

.

تیرا ہے یہ قصور کہ تو بھولتا نہیں

دیتا ہے دوست گالیاں اکثر اسی طرح

.

مر جائے گا اس عشق میں یہ گانٹھ باندھ لے

کہتا تو ہے بھلے کی وہ لیکن بری طرح

.

دفنا چکا خطوں کو میرے ساتھ جب رقیب

پھر لب پہ آہ ابھری ہے اس کے نئی طرح

.

محفل کو یاد آیا جنوں ’کامران‘ کا

چرچائے قیس ہونے لگا جو اسی طرح

.

احمد کامران، برامپٹن، کینیڈا

    Published: 3 May 2020, 8:33 PM
    next