نظم: گواہی دو کہ تم پر فرض ہے یہ...گوہر رضا

کہ تم اس دور سے گزرے ہو جب، دورِ خزاں تھا، گواہی دو کہ بہتے وقت کے دھارے بہت سنگین تھے تب، بہاؤ تیز تھا، اور تیرنا مشکل تھا بے حد

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

گوہر رضا

گواہی دو

کہ تم اس دور سے گزرے ہو جب

دورِ خزاں تھا

گواہی دو

کہ بہتے وقت کے دھارے بہت سنگین تھے تب

بہاؤ تیز تھا، اور تیرنا مشکل تھا بے حد

گواہی دو

کہ تم اس دور سے گزرے ہو جب

حکام نے خود کو خدا سمجھا

گواہی دو کہ

تم موجود تھے جب

اس وطن کے پاسبانوں نے،

اندھیری رات میں یلغار بولا تھا

ہر ایک شہری کو

صف آرا کیا تھا

گواہی دو

اندھیری رات تھی اور ملک میں ڈاکہ پڑا تھا

صفیں جب بچھ چکیں ہر جیب خالی ہو چکی تب

غریبوں کے لبوں سے روٹیاں تک چھین لی تھیں

گواہی دو

جُنوں کو سر برہنہ

گھروں میں بستیوں میں گھومتا دیکھا ہے تم نے

گواہی دو

کہ نفرت ساتھ تھی اس کے

گواہی دو

اسی نفرت نے ان کے گھر جلائے

جو اپنے حق کی خاطر شاہراہوں پر کھڑے تھے

گواہی دو

وہ سہمے لوگ دیکھے ہیں کہ جن کے گھر جلے تھے

گواہی دو

دکانوں، درسگاہوں اور گھروں کی

راکھ پیروں سے لپٹ کر رو رہی تھی

گواہی دو

کہ شاہوں کی عدالت نفرتوں سے بھر چکی ہے

عدالت مجرموں کے کٹہرے میں

کھڑی ہے ہاتھ باندھے

صحیح الزام ہے ان منصفوں پر،

کتابوں اور قلم کو بیچ ڈالا

منصفی کو بیچ ڈالا

گواہی دو

یہ سب سستا بکا تھا

گواہی دو

کہ اب انصاف جنتا کی عدالت میں کھڑا ہے

گواہی دو

یقین رکھو

کہ اس دورِ خزاں میں بھی

تمہاری ہر گواہی درج ہوگی

تمہاری ہر گواہی پر یہاں انصاف ہوگا

تمہاری ہر گواہی سے گریباں چاک ہے جتنے، سلیں گے

تمہاری ہر گواہی سے بہاریں اپنے پیرہن کی زیبائش کریں گی

تمہاری ہر گواہی اگلی نسلوں کے لیے

راہوں میں اجیارا بکھیریں گی

گواہی دو کہ تم پر قرض ہے یہ

گواہی دو کہ تم پر فرض ہے یہ

پسندیدہ ترین
next