گردشِ ایّام... ام ماریہ حق کی نظم

یہ کن اجنبی راہگزاروں میں، گردش ایام لے آئی، جہاں! .... ام ماریہ حق کی نظم

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

ام ماریہ حق

یہ کن اجنبی راہگزاروں میں

گردش ایام لے آئی

جہاں!

آرزو کی مسافت کے سوا

کچھ بھی نہیں

وہ بہاروں کے گیت

محبت کے نغمے

اجنبیت کے کہرے میں

جانے کہاں کھو گئے

اب میرے رقیب

محرومیوں کے آسیب

ناتمام خواہشوں کی صلیبیں لئے

دشت تمنا کے گمنام مسافر

حیات نو کی

بشارت میں سر گرداں

    Published: 1 Sep 2019, 10:10 AM