کیفی اعظمی کی مشہور نظم: ’کوئی کھڑکی اسی دیوار میں کھل جائے گی‘

آج کی رات بہت گرم ہوا چلتی ہے، آج کی رات نہ فٹ پاتھ پہ نیند آئے گی، سب اٹھو، میں بھی اٹھوں تم بھی اٹھو، تم بھی اٹھو، کوئی کھڑکی اسی دیوار میں کھل جائے گی...

کیفی اعظمی / علامتی تصویر
کیفی اعظمی / علامتی تصویر
user

قومی آوازبیورو

آج کی رات بہت گرم ہوا چلتی ہے

آج کی رات نہ فٹ پاتھ پہ نیند آئے گی

سب اٹھو، میں بھی اٹھوں تم بھی اٹھو، تم بھی اٹھو

کوئی کھڑکی اسی دیوار میں کھل جائے گی

.

یہ زمیں تب بھی نگل لینے پہ آمادہ تھی

پاؤں جب ٹوٹتی شاخوں سے اتارے ہم نے

ان مکانوں کو خبر ہے نہ مکینوں کو خبر

ان دنوں کی جو گپھاؤں میں گزارے ہم نے

.

ہاتھ ڈھلتے گئے سانچے میں تو تھکتے کیسے

نقش کے بعد نئے نقش نکھارے ہم نے

کی یہ دیوار بلند، اور بلند، اور بلند

بام و در اور، ذرا اور سنوارے ہم نے

.

آندھیاں توڑ لیا کرتی تھیں شمعوں کی لویں

جڑ دیئے اس لیے بجلی کے ستارے ہم نے

بن گیا قصر تو پہرے پہ کوئی بیٹھ گیا

سو رہے خاک پہ ہم شورش تعمیر لیے

.

اپنی نس نس میں لیے محنت پیہم کی تھکن

بند آنکھوں میں اسی قصر کی تصویر لیے

دن پگھلتا ہے اسی طرح سروں پر اب تک

رات آنکھوں میں کھٹکتی ہے سیہ تیر لیے

.

آج کی رات بہت گرم ہوا چلتی ہے

آج کی رات نہ فٹ پاتھ پہ نیند آئے گی

سب اٹھو، میں بھی اٹھوں تم بھی اٹھو، تم بھی اٹھو

کوئی کھڑکی اسی دیوار میں کھل جائے گی

.

... کیفی اعظمی

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 14 Jan 2021, 10:34 AM
next