منور رانا: ماں کی دعا میں پلنے والا شاعر، برسی کے موقع پر ایک ماں اور ایک کنویں کی کہانی

منور رانا کی برسی پر ان کی شاعری ماں کے پیار، دعا اور قربانی کو یاد دلاتی ہے۔ بچپن کے ایک واقعے نے ماں کے رشتے کو ان کی شاعری کا مرکز بنا دیا، جو آج بھی دلوں کو چھوتی ہے

منور رانا / آئی اے این ایس
i
user

قومی آواز بیورو

اردو شاعری میں منور رانا کی شناخت ایک ایسے شاعر کے طور پر قائم ہے جس نے ماں کے رشتے کو محض جذباتی استعارہ نہیں بنایا بلکہ اسے زندگی کے سب سے مضبوط سچ کے طور پر پیش کیا۔ ان کی آواز، لب و لہجہ اور سادہ مگر گہرے اشعار آج بھی سامعین کے دلوں کو چھو لیتے ہیں۔ منور رانا کی شاعری میں ماں صرف ایک کردار نہیں بلکہ مکمل کائنات بن کر سامنے آتی ہے۔

منور رانا کی برسی 14 جنوری کو منائی جاتی ہے۔ اس موقع پر ان کی شاعری ایک بار پھر یہ احساس دلاتی ہے کہ انہوں نے ماں کے پیار، قربانی اور بے لوث دعا کو کس طرح لفظوں میں ڈھالا۔ ان کی شاعری میں ماں کا ذکر اس شدت اور سچائی کے ساتھ ملتا ہے کہ سننے والا خود کو اپنے بچپن اور اپنی ماں کی یادوں میں گھرا ہوا پاتا ہے۔

منور رانا نے ایک انٹرویو میں بچپن کا ایک واقعہ بیان کیا تھا جو ان کی پوری شاعری کی بنیاد سمجھا جا سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بچپن میں انہیں نیند میں چلنے کی عادت تھی۔ گھر کے قریب ایک کنواں تھا اور اہلِ خانہ کو یہ اندیشہ رہتا تھا کہ کہیں وہ نیند کی حالت میں اس میں گر نہ جائیں۔ اس خوف کے باعث ان کی ماں رات بھر کنویں کے کنارے بیٹھی رہتی تھیں۔ وہ روتے ہوئے کنویں سے کہتیں، ’’میرے بیٹے کو مت ڈبونا، یہ میرا اکلوتا بیٹا ہے۔‘‘

یہ منظر منور رانا کے دل و دماغ میں ہمیشہ کے لیے ثبت ہو گیا۔ یہی وہ تجربہ تھا جس نے ان کے اندر ماں کے لیے وہ حساسیت پیدا کی جو بعد میں ان کی شاعری کا مرکزی حوالہ بن گئی۔ وہ کہتے تھے کہ ماں کی دعا وہ طاقت ہے جو انسان کو گرنے نہیں دیتی، چاہے حالات کتنے ہی سخت کیوں نہ ہوں۔


منور رانا کی شاعری میں ماں کے لیے محبت بار بار مختلف صورتوں میں جلوہ گر ہوتی ہے۔

لبوں پر اس کے کبھی بددعا نہیں ہوتی،

بس ایک ماں ہے جو کبھی خفا نہیں ہوتی۔

اس طرح میرے گناہوں کو وہ دھو دیتی ہے،

ماں بہت غصے میں ہوتی ہے تو رو دیتی ہے۔

یہ اشعار محض شاعری نہیں بلکہ ایک مکمل تجربہ ہیں، جو ہر اس شخص کو چھو لیتے ہیں جس نے ماں کی شفقت کو قریب سے محسوس کیا ہو۔

تاہم، منور رانا کی زندگی کا آخری دور صرف شاعری تک محدود نہیں رہا۔ انہوں نے مختلف سیاسی اور سماجی موضوعات پر سخت اور بے باک بیانات دیے، جن کے باعث وہ مسلسل بحث کا مرکز بنے رہے۔ کسان تحریک کے دوران سوشل میڈیا پر ان کے تبصرے، رام مندر سے متعلق ان کے سوالات اور بعض عالمی واقعات پر ان کے بیانات شدید تنقید کا سبب بنے، مگر وہ اپنے موقف پر قائم رہے اور حق بیانی سے گریز نہیں کیا۔ اسی تناظر میں انہوں نے 2015 میں ملک میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت کا حوالہ دیتے ہوئے اپنا ساہتیہ اکادمی ایوارڈ بھی واپس کر دیا تھا۔


منور رانا کی ادبی شناخت ان کی شاعری ہی سے قائم رہے گی۔ وہ ماں کو دنیا کی سب سے بڑی طاقت مانتے تھے اور کہتے تھے کہ ماں کے قدموں تلے جنت محض ایک مذہبی تصور نہیں بلکہ ایک زندہ حقیقت ہے۔ ان کی شاعری میں ماں، وطن اور مٹی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ وہ کہتے تھے، ’’ہم تو اس ملُک کی مٹی کو بھی ماں کہتے ہیں۔‘‘

14 جنوری 2024 کو منور رانا کا انتقال ہوا، لیکن ان کی شاعری آج بھی زندہ ہے۔ ان کی برسی پر یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ منور رانا نے ماں کو محض لفظ نہیں بنایا، بلکہ اسے ایک ایسا احساس بنا دیا جو نسلوں تک زندہ رہے گا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔