چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اُٹھا کے چلے...فیض احمد فیضؔ کی برسی کے موقع پر

فیض نے تو سیاسی، سماجی، اقتصادی معاملات کو سامنے رکھ کر جو شاعری کی وہ نہ تو ایک ملک کی سرحدوں اور نہ ہی وقت کے دائرے میں بندھ کر رہ سکی، فیض کی برسی کے موقع پر پیش ہے ان کی ایک نظم...

چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اُٹھا کے چلے / تصویر ڈی ڈبلیو
چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اُٹھا کے چلے / تصویر ڈی ڈبلیو
user

قومی آوازبیورو

فیض احمد فیض کا 1984 میں جس وقت انتقال ہوا اس وقت فیض شہرت کی بلندیوں پر تھے۔ فیض نے تو سیاسی، سماجی، اقتصادی معاملات کو سامنے رکھ کر جو شاعری کی وہ نہ تو ایک ملک کی سرحدوں اور نہ ہی وقت کے دائرے میں بندھ کر رہ سکی۔ یہی وجہ ہے کہ جس دور میں بھی فیض کو پڑھا یا سنا جائے گا یوں محسوس ہوگا کہ انہوں نے اسی دور کے لئے شاعری کی ہے۔ پیش ہے فیض احمد فیض کی ایک مشہور نظم...

.

نثار میں تری گلیوں کے اے وطن کہ جہاں
چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اُٹھا کے چلے
جو کوئی چاہنے والا طواف کو نکلے
نظر چرا کے چلے، جسم و جاں بچا کے چلے
ہے اہل دل کے لیے اب یہ نظمِ بست و کشاد
کہ سنگ و خشت مقید ہیں اور سگ آزاد
.

بہت ہے ظلم کہ دستِ بہانہ جو کے لیے
جو چند اہل جنوں تیرے نام لیوا ہیں
بنے ہیں اہلِ ہوس، مدعی بھی منصف بھی
کسے وکیل کریں، کس سے منصفی چاہیں
مگر گزارنے والوں کے دن گزرتے ہیں
ترے فراق میں یوں صبح شام کرتے ہیں
.

بجھا جو روزنِ زنداں تو دل یہ سمجھا ہے
کہ تیری مانگ ستاروں سے بھر گئی ہوگی
چمک اُٹھے ہیں سلاسل تو ہم نے جانا ہے
کہ اب سحر ترے رخ پر بکھر گئی ہوگی
غرض تصورِ شام و سحر میں جیتے ہیں
گرفتِ سایۂ دیوار و در میں جیتے ہیں
.

یونہی ہمیشہ الجھتی رہی ہے ظلم سے خلق
نہ اُن کی رسم نئی ہے، نہ اپنی ریت نئی
یونہی ہمیشہ کھلائے ہیں ہم نے آگ میں پھول
نہ اُن کی ہار نئی ہے نہ اپنی جیت نئی
.

اسی سبب سے فلک کا گلہ نہیں کرتے
ترے فراق میں ہم دل بُرا نہیں کرتے
.

گر آج تجھ سے جدا ہیں تو کل بہم ہوں گے
یہ رات بھر کی جدائی تو کوئی بات نہیں
گر آج اَوج پہ ہے طالعِ رقیب تو کیا
یہ چار دن کی خدائی تو کوئی بات نہیں
جو تجھ سے عہدِ وفا استوار رکھتے ہیں
علاجِ گردشِ لیل و نہار رکھتے ہیں

.

~ فیض احمد فیضؔ

پسندیدہ ترین
next