کہانی میں مجھے اک لفظ ہار، اچھا نہیں لگتا

وبا کے اس دور میں علمی اور تہذیبی سرگرمیوں کے لیے بے حد مشکل دور آیا ہوا ہے لیکن بزمِ صدف انٹرنیشنل کویت شاخ کا آن لائن عالمی مشاعرہ اس جانب ایک تازہ ہوا کے جھونکے کے مانند ثابت ہوا ۔

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

عالمی وبا کورونا کے دور میں آپسی تبادلہ خیال اور ایک دوسرے سے دوری کے سبب بہت سارے مسائل پیدا ہوگئے ہیں جس کی وجہ سے کئی ناخوشگوار واقعات پیش آئے۔ بزم صدف نے اسی سمت میں پہل کرتے ہوئے ادیبوں، شاعروں، مصنفوں اور ادب کے بہی خواہوں کو جوڑنے کا کام کیا ہے۔

وبائی دنوں میں علمی اور تہذیبی سرگرمیوں کے لیے بے حد مشکل دور آیا ہوا ہے۔عوامی جلسہ منعقد کرنا قانون کے دائرہ سے باہر ہے اور ایک شہر سے دوسرے شہر اورایک ملک سے دوسرے ملک تک پہنچناناممکنات میں سے ہے۔ ایسے میں جدید مواصلا تی نظام ایک خوشگوار ہوا کے جھونکے کی طرح ہے۔بزم صدف انٹرنیشنل نے اپنی نئی شاخ کے قیام کے لیے کویت کے شعرا و ادباکو منتخب کیا اور ایک بہترین مشاعرے کا اہتمام کر ڈالا جس کی صدارت بنگلا دیش سے تعلق رکھنے والے معتبر شاعر جلال عظیم آبادی نے کی اوراس نشست کی نظامت کویت سے تعلق رکھنے والے معتبرشاعر مسعود حساس نے کی۔مسعود حساس بزم صد ف کی کویت شاخ کے صدر بنائے گئے ہیں۔اس مشاعرے میں دس ملکوں کے شعراے کرام شامل ہوئے اور زوم ایپ کے علاوہ فیس بک لائیوپر ہزاروں کی تعداد میں شائقین شعر سے لطف اندوز ہوئے۔

افتتاحی پروگرام کے بعد مشاعرے کا آغاز ہوا۔مسعود حساس نے اپنے مخصوص علمی اورشاعرانہ مزاج و انداز کے ساتھ مشاعرے کے شعرا کو یکے بعد دیگرے بلاناشروع کیا۔ روایت کی پاسداری کرتے ہوے میزبان شعراکوپہلے زحمتِ کلام دی گئی مگر یہ تجربہ بھی دیکھنے کو ملا کہ پہلے شاعر کی حیثیت سے کویت میں رہنے والے واحد مزاحیہ شاعر جناب ایوب خاں نیزہ کو آواز دی گئی۔ایوب خاں نیزہ نے ظرافت کے اُس خاص پہلو کو پیش کیا جس میں اپنے زمانے کے واقعات و حادثات کو شعرکا قالب عطا کیا جاتا ہے۔انہوں نے کویت میں رہنے کے باوجود برِّصغیرکے حالات اور اپنے وطن ہندستان کی تر جمانی کی اور اُن کے اشعارکو خوب خوب دادملی۔ اُن کے یہ دواشعاربہت پسند کئے گے:

اس کروناوائرس سے بچنے اور بچانے میں

ہم نے عافیت جانی تالیاں بجانے میں

کیا کہا،کہو پھر سے بے حسوں کی بستی میں

عزتیں بھی بکتی ہیں چار چار آنے میں

ایوب خاں نیزہ

حضورآپ کے دامن کا داغ بول پڑا

زباں خموش ہے لیکن سراغ بول پڑا

نسیم زاہد ما

بارہا اس نے مرے شعر کو بونا لکھا

اس سے دیکھا نہیں جاتا مرے معیار کا قد

مسعود حساس

بدن پر زخم جتنے ہوں، شمار اچھا نہیں لگتا

کہانی میں مجھے اک لفظ ہار، اچھا نہیں لگتا

عامر قداوئی

پاؤں بادل پر رکھا جب بوند نے تو گر پڑی

ہاتھ اس کا تھام پہلے، ظرف اس کا جان لے

شاہ جہاں جعفری حجاب

خوش گوار لمحوں میں تلخیاں وہ ماضی کی

عورتیں نہیں صاحب، مرد بھول جاتے ہیں

عادل مظفر پوری

زندگی کے باغ میں کس وقت آجائے قرار

اختیار اپنا کہاں موسم کے سردوگرم پر

ڈاکٹر ندیم ظفرجیلانی

بنتِ حّواہوں میں، یہ مراجرم ہے

اور پھرشاعری تو کڑا جرم ہے

ثروت زہرا

ستاروں سے کہو آہستہ بولیں

مری راتوں کی وحشت سورہی ہے

احمد اشفاق

مسکراتے ہوئے مقتل کی طرف

قتل ہو جانے کی جرآت میں چلو

پروفیسرظفر امام

انسان میں دیکھی ہے فرشتے کی صفت بھی

ہم نے درندہ اسی انسان میں دیکھا

پرویز مظفر

عجیب لوگ ہیں یہ خاندان عشق کے لوگ

کہ ہوتے جاتے ہیں قتل اور کم نہیں ہوتے

عباس تابش

سب کے کاندھے پر سلگتے موسموں کا قہر ہے

ایٹمی بارش میں آدم کھوکھلے رہ جائیں گے

پروفیسر صفدر امام قادری

یہ لاش یقینا کسی سچائی کی ہوگی

جم جم کے ہراک قطرہ ئخوں بول رہا ہے

ضامن جعفری

جو غم ملا بھی تو آنکھوں میں کچھ نمی نہ ہوئی

جو ہوسکے تو کوئی اور تجربہ کر لو

جلال عظیم آبادی

بزم صدف انٹر نیشنل کی کویت شاخ کے افتتاحی پروگرام کے موقع سے منعقد یہ مشاعرہ تین گھنٹے تک چلا۔ مشاعرے میں مختلف شعرائے کرام نے اپنابہترین کلام پیش کیا اور معیار کا خاص طور سے خیال رکھا۔ مشاعرے میں ہر نسل کی نمائندگی ہوئی اورمختلف طرز کے کلام سے سامعین محظوظ ہوئے۔ ایسے شعرا نے بھی کلام سنایا جن کی شہرت اُس قدر نہیں ہے، مگران کا کلام خاصا معیاری نظر آیا۔اس اعتبار سے بزمِ صدف کا یہ مشاعرہ عالمی طور پر اردو کے نئے شعرا اور امکانات سے بھری ہوئی نئی نسل کی تلاش و جستجو کے لئے یا دگارتسلیم کیا جائے گا۔

next