غالب شکن۔ مرزا یاس یگانہ چنگیزی... جمال عباس فہمی

نئی نسل کے اردو ریسرچ اسکالرز کو چاہئے کہ یاس یگانہ چنگیزی جیسی ادبی ہستیوں پر عام روش سے ہٹ کر کام کریں اور ان کے حقیقی مرتبے اور ادبی حیثیت سے عوام کو واقف کرائیں۔

مرزا یاس یگانہ چنگیزی
مرزا یاس یگانہ چنگیزی
user

جمال عباس فہمی

ہر عہد میں مرزا غالبؔ کے طرفدار اور مخالفین رے ہیں اور آئندہ بھی یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ غالب کے حامیوں اور مخالفین میں بڑے بڑے معرکے ہوئے ہیں۔ جو اردو ادب کا خوبصورت اور دلچسپ سرمایہ ہیں۔ لوگ آج بھی ان معرکوں کو سنتے اور پڑھتے ہیں تو لطف اندوز ہوتے ہیں۔ خود غالب کے زمانے میں ان کے حامی اور مخالف موجود تھے۔ غالبؔ اور ذوقؔ کی ادبی چشمکوں سے کون واقف نہیں ہے لیکن وہ سب ادب آداب کے دائرے میں ہوتی تھیں اور آج بھی ادبی سرمایہ کی حیثیت سے یاد گار ہیں لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا کہ غالب کے کسی مخالف کا سماجی بائکاٹ کیا گیا ہو۔ اس کا جینا تو جینا اس کا مرنا بھی دو بھر ہوگیا ہو۔

غالب کی مخالفت کی جو مار لکھنؤ میں مرزا یاس یگانہ چنگیزی کو جھیلنا پڑی وہ غالب کے کسی اور نکتہ چیں کے حصے میں نہیں آئی۔ غالب کی مخالفت نے یاس یگانہ چنگیزی کے ادبی قد کو بونا کرکے رکھ دیا۔ یاس یگانہ چنگیزی کی ادبی خدمات، شعر گوئی کی صلاحیتوں اور اردو زبان کو نکھارنے سنوارنے کی کوششوں کوغالب دشمنی نے زنگ آلود کر دیا۔ یاس یگانہ چنگیزی کی شناخت محض غالب مخالف کے طور پر اردو ادب میں رہ گئی ہے۔ جو یقینی طو پر اس شخصیت کے مرتبے کے منافی ہے۔ یاس یگانہ چنگیزی بلا شبہ قبل از جدید شاعر کہے جانے کے مستحق ہیں۔ یاس یگانہ چنگیزی نے نئی غزل کا لب و لہجہ نکھارا۔ نئی غزل کی راہ ہموار کرنے میں ان کے رول کو نظر انداز کرنا اردو ادب کے ساتھ بد دیانتی ہوگی۔


یاس یگانہ چنگیزی کا اصل نام مرزا واجد حسین تھا۔ انہوں نے یاس اور یگانہ دونوں کو بطور تخلص استعمال کیا۔ 17 اکتوبر 1884 کو یاس یگانہ بہار کے پٹنہ جسے زمانہ قدیم میں عظیم آباد کہتے تھے کے محلہ مغل پورہ میں پیدا ہوئے۔ پانچ چھ برس کی عمر میں مکتب میں داخل ہوئے۔ فارسی کی کچھ کتابیں پڑھنے کے بعد پٹنہ کے محمڈن اینگلو عربک اسکول میں داخل ہوئے۔ پڑھنے میں اچھے تھے، اس لیے ہر سال وظیفہ اور انعام پاتے رہے۔ 1903ء میں انٹرنس پاس کیا۔ 1904ء میں مٹیا برج، کلکتہ گئے، جہاں شہزادہ مرزا مقیم بہادر کے فرزندوں شہزادہ محمود یعقوب علی مرزا اور شہزادہ محمد یوسف علی مرزا کو انگریزی تعلیم سے آراستہ کرنے پر مامور ہوئے۔ لیکن کلکتہ کی آب و ہوا راس نہیں آئی اور کچھ دنوں بعد وطن واپس چلے آئے۔ علاج کے سلسلے میں لکھنؤ کیا آئے بس وہیں کے ہوکر رہ گئے۔

لکھنؤ ہی میں 1913ء میں شادی کرلی اور اسی کو اپنا وطن بنالیا۔ یگانہ کا لکھنؤ کا قیام ہنگامہ خیزی سے بھر پور ہے جس کا اثر ان کے فن پر بھی پڑا۔ شروع میں لکھنؤ کے شعرا نے ان کو ہاتھوں ہاتھ لیا۔ وہ عزیزؔ، صفیؔ، ثاقبؔ و محشرؔ وغیرہ کے ساتھ مشاعروں میں شرکت کرتے تھے۔ عزیزؔلکھنوی کی سرپرستی میں رسالہ ’’معیار‘‘ شروع ہوا اور معیار پارٹی وجود میں آئی تو یگانہؔ بھی اس پارٹی کے مشاعروں میں غالبؔ کی زمینوں میں غزلیں پڑھتے تھے۔ ان طرحی مشاعروں کی جو غزلیں’’معیار‘‘ میں چھپی تھیں، ان میں یگانہؔ کی غزلیں بھی شامل ہیں۔


لکھنؤ والوں کو اپنی زبان پر بہت غرہ تھا۔ لکھنؤ کے اکثر شعرا سے یگانہؔ کی چشمک ہو گئی چشمک کے بجائے اسے بد مزدگی کہا جائے تو زیادہ بہتر ہوگا، یاس یگانہ کے کلام پر بے سروپا اعتراض کیے جاتے تھے مگر یہ سب کچھ جب تک زبانی تھا تو ٹھیک تھا۔ بات تحریری مخالفت تک پہنچ گئی۔ اس تحریری جنگ کا آغاز خود یگانہؔ نے کیا۔ اس کے بعد تو ایک دوسرے کے خلاف لکھنے کا سلسلہ چل پڑا، جس کی انتہا یگانہ نے’’شہرتِ کا ذبہ‘‘ نامی کتاب لکھ کر کردی۔

لکھنؤ کے شعرا غالبؔ کو بڑی شد و مد سے چاہتے تھے۔ مخالف اور ناقد شعرا کی ضد میں یگانہ بھی غالب کی مخالفت پر اتر آئے۔ لیکن یہ مخالفت محض برائے مخالفت نہیں تھی۔ یگانہ بھی غالب کی عظمت کے قائل تھے لیکن ان کا یہ کہنا تھا کہ غالب کو ان کے معیار اور مرتبے سے زیادہ اہمیت دینا مناسب نہیں ہے۔ انہوں نے خود کہا ہے کہ "میں غالب کا مخالف نہیں ہوں، وہ یقینا بہت بڑا شاعر ہے۔ مجھے غصہ اس بات پر آتا ہے کہ لوگ اس کے جائز مقام سے زیادہ اسے دینا چاہتے ہیں۔ لیکن میں ان کے جائز جگہ سے زیادہ اس کے حوالے کر دینے پر تیار نہیں ہوں"۔


یگانہ نے غالب کی مخالفت میں خود کو ’’آتشؔ کا مقلد‘‘ کہنا شروع کر دیا اور اپنے مجموعۂ کلام ’’نشترِ یاس‘‘ کے سرورق پر اپنے نام سے پہلے ’’خاکپائے آتشؔ‘‘ لکھا۔ اس کے ایک سال بعد اپنے مجموعہ کلام ’’چراغِ سخن‘‘ میں تو انہوں نے اپنے آپ کو ’’آتشؔ پرست‘‘ کے درجے تک پہنچا دیا۔ یگانہ کی نظر میں خواجہ حیدر علی آتش مرزا اسد اللہ غالب سے بڑے شاعر تھے اس سلسلے میں ان کا ایک مضمون رسالہ ’’خیال‘‘ میں نومبر 1915ء میں شائع ہوا اور لکھنؤ کی ادبی فضا میں ہنگامے کا باعث بنا۔

یاس یگانہ نے 1934ء میں ’’غالبؔ شکن‘‘ کے نام سے رسالہ شائع کیا۔ اس رسالے کو دوبارہ مزید اضافوں کے ساتھ 1935ء میں چھاپا۔ یگانہ بڑے مدلل انداز میں غالب کی مخالفت کرتے تھے۔ وہ کئی پہلؤوں سے غالب کے مخالف تھے۔ وہ ان کی فنی خامیوں کا ذکر کرتے تھے۔ وہ اردو شاعری میں غالب کی فارسی آمیزش سے بھی نالاں تھے۔ یگانہ غالب پر فارسی کے اساتذہ کے کلام کی چوری کا بھی الزام لگاتے تھے۔غالب کی حب الوطن بھی یگانہ کے نزدیک مشکوک تھی۔ 25 دسبر1933 میں اس وقت لکھنؤ یونیورسٹی کے پروفیسر سید مسعود حسن رضوی کو تحریر ایک خط میں انہوں نے اپنی غالب دشمنی کی بنیاد پر روشنی ڈالی۔ ان کی نظر میں غالب خود غرض اور درباری شاعر تھے۔ انہوں نے لکھا پنشن کا بندہ خلعت کا طلبگار انگریزوں کا پرستار اور پنشن خوار غالب نے چار روز بھی بہادر شاہ ظفر کے نمک کا پاس نہ کیا اور تخت پلٹتے ہی انگریزوں کے قصیدہ خواں، نمک خوار اور وفادار بن گئے'۔


غالب کے ذریعے ملکہ وکٹوریہ کی شان میں قصیدہ نظم کرنے سے بھی یگانہ ناراض تھے۔ اسی خط میں یگانہ نے ایک جگہ غالب کے بارے میں تحریر کیا ’خدا بھلا کرے نکتہ چینوں کا جن کے تشدد سے تنگ آکر آخر عمر میں میر تقی میر کو اپنا امام بنا لیا، تب کہیں جاکر راہ راست پر آئے۔ اس کا اقرار خود غالب نے اپنے مکتوب میں یہ کہتے ہوئے کیا کہ میں تو میر کے رنگ میں در آیا اور مومن خاں اپنی راہ چل پڑے۔ وہ آخر عمر کا کلام جو میر کی تقلید میں اپنے واردات قلبی کے تحت کہا گیا ہے غالب کی شاعری کی جان ہے اور اردو شعر و سخن کا سرمایہ ناز ہے۔

غالب کی مخالفت سے خود یگانہ کو ہی نقصان اٹھانا پڑا۔ اس چکر میں یگانہؔ اپنی شاعری پر پوری طرح توجہ نہ دے سکے غالب کی مخالفت میں یگانہ کو مغلظات گالیوں سے نوازہ گیا۔ ان کے لئے ہجویں لکھی گئیں۔ ان کا سماجی بائکاٹ کیا گیا۔ انہیں اودھ اخبار کی ساٹھ روپئے ماہانہ کی ملازمت سے ہاتھ دھونا پڑا۔ یگانہ کا آخری وقت بہت خراب گزرا۔ آخری وقت میں مرزا یگانہ پیلا مکان شاہ گنج لکھنؤ میں بالکل تنہا تھے۔ ایک ملازم اور سسرالی اعزا کے سوا بیوی، بچوں میں سے کوئی بھی آس پاس نہیں رہ گیا تھا۔ مرنے سے پہلے یگانہ نے اپنے تین دوستوں کے سامنے کلمہ دوہرایا تھا۔ ان کی وفات چار فروری 1956 کو ہوئی۔ وفات کے وقت ان کی عمر 73سال تھی۔ لوگ تجہیز و تکفین میں رخنہ اندازی کرنے لگے۔ غسال کو غسل دینے سے روکا گیا۔ کربلا کے متولی کو قبر کے لئے زمین دینے سے روکا گیا۔ یہ فتویٰ بھی گردش کر رہا تھا کہ یگانہ کے جنازے میں شرکت ناجائز ہے۔ بہر حال کسی طور پر جنازے کو غسل دیا گیا اور مولوی احمد علی نے نماز جنازہ پڑھائی، جنازے میں کل گیارہ افراد بشمول تجسس اعجاز شامل تھے۔


یگانہ نے غالب کی مخالفت اور ان کے حامیوں کو نشانہ بناتے ہوئے رباعیات بھی لکھیں اور مضامین بھی تحریر کئے۔

غالب کے سوا کوئی بشر ہے کہ نہیں

اوروں کے بھی حصے میں ہنر ہے کہ نہیں

مردہ بھیڑوں کو پوجتا ہے ناداں

زندہ شیروں کی کچھ خبر ہے کہ نہیں

غالب کی لاکھ مخالفت کے باوجود غالب کی ایک صفت کے یاس یگانہ بہت دلدادہ تھے اور وہ صفت ہے مولا علی سے غالب کی عقیدت اورمحبت۔ ایک رباعی میں فرماتے ہیں۔

دونوں دیوانے ہیں علی کے طالب

جاں ایک ہے گو جدا ہیں قالب

مذہب میں شاعری میں قومیت میں

غالب ہیں یگانہ اور یگانہ غالب

..........

دین اسلام کی بقا کے لئے امام حسین کی قربانی پر یگانہ کا یہ شعر تو لاثانی ہے۔

ڈوب کر پار اتر گیا اسلام

آپ کیا جانیں کربلا کیا ہے

..........

یاس یگانہ کو لکھنؤ والوں کے سلوک کا اچھی طرح سے احساس تھا تبھی یہ فرمایا۔

مزار یاس پہ کرتے ہیں شکر کے سجدے

دعائے خیر تو کیا اہل لکھنؤ کرتے

..........

وطن کو چھوڑ کر جس سر زمیں سے دل لگایا تھا

وہی اب خون کی پیاسی بنی ہے کربلا ہوکر

مرزا یاس یگانہ کو اپنے یگانہ روزگار ہونے کا احساس تھا۔

کلام یاس سے دنیا میں ایک آگ لگی

یہ کون حضرتِ آتش کا ہم زباں نکلا


مرزا یاس یگانہ چنگیزی کے کلام کے کچھ نمونے حاضر ہیں جن سے ان کی قادر الکلامی، برجستگی، زبان کے برتنے کا سلیقہ، لہجے کی شگفتگی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

خود پرستی کیجیے یا حق پرستی کیجیے

آہ کس دن کے لیے ناحق پرستی کیجیے

..........

موت مانگی تھی خدائی تو نہیں مانگی تھی

لے دعا کر چکے اب ترک دعا کرتے ہیں

..........

صبر کرنا سخت مشکل ہے تڑپنا سہل ہے

اپنے بس کا کام کرلیتا ہوں آساں دیکھ کر

..........

گناہ گن کے میں کیوں اپنے دل کو چھوٹا کروں

سنا ہے تیرے کرم کا کوئی حساب نہیں

..........

مجھے دل کی خطا پر یاسؔ شرمانا نہیں آتا

پرایا جرم اپنے نام لکھوانا نہیں آتا

مصیبت کا پہاڑ آخر کسی دن کٹ ہی جائے گا

مجھے سر مار کر تیشے سے مرجانا نہیں آتا

..........

خودی کا نشہ چڑھا آپ میں رہا نہ گیا

خدا بنے تھے یگانہ مگر بنا نہ گیا

..........

وہی ساقی وہی ساغر وہی شیشہ وہی بادہ

مگر لازم نہیں ہر ایک پر یکساں اثر ہونا

..........

ہنس بھی لیتا ہوں اوپری دل سے

جی نہ بہلے تو کیا کرے کوئی

..........

غالب اور میرزا یگانہ کیا

آج کیا فیصلہ کرے کوئی

مرزا یاس یگانہ چنگیزی نے 'نشتر یاس' ترانہ 'آیات وجدانی' اور 'گنجینہ' کی صورت میں اپنا قلمی سرمایہ چھوڑا ہے۔ نئی نسل کے اردو ریسرچ اسکالرز کو چاہئے کہ یاس یگانہ چنگیزی جیسی ادبی ہستیوں پر عام روش سے ہٹ کر کام کریں اور ان کے حقیقی مرتبے اور ادبی حیثیت سے عوام کو واقف کرائیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔