ادب نامہ کی تازہ قسط میں کیفی اعظمی کی شاعری اور فکری وراثت پر سنجیدہ گفتگو...دیکھیں ویڈیو

ادب نامہ کی تازہ قسط میں کیفی اعظمی کی شاعری پر گفتگو ہوئی۔ معین شاداب نے عورت، محنت کش اور سماجی شعور کے تناظر میں ان کے کلام کی فکری گہرائی اور آج کی اہمیت کو اجاگر کیا

user

عمران اے ایم خان

نیشنل ہیرالڈ، نو جیون اور قومی آواز کے مشترکہ ادبی پروگرام ادب نامہ کی تازہ قسط اردو کے ممتاز شاعر کیفی اعظمی کے فکری اور شعری ورثے کے نام رہی۔ اتفاق سے آج کیفی اعظمی کا یومِ پیدائش بھی ہے اور اسی تناظر میں یہ قسط ان کی شاعری کو یاد کرنے اور سمجھنے کا ایک بامعنی موقع بن گئی۔ نشست میں کیفی اعظمی کو ایک ایسے شاعر کے طور پر پیش کیا گیا جن کے یہاں شاعری محض جمالیاتی اظہار نہیں بلکہ سماج سے براہِ راست مکالمہ ہے۔

پروگرام کی میزبانی عمران اے ایم خان نے کی، جبکہ مہمان کے طور پر شاعر اور ناقد معین شاداب شریک ہوئے۔ گفتگو کے دوران معین شاداب نے کیفی اعظمی کی شاعری میں عورت، محنت کش اور عام انسان کے تصور پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ ان کے مطابق کیفی اعظمی عورت کو مظلوم شئے کے طور پر پیش نہیں کرتے بلکہ سماج کی ایک ناگزیر اور فعال قوت کے طور پر دیکھتے ہیں۔ اسی طرح محنت کش طبقے اور سماجی ناانصافی کے موضوعات بھی ان کی شاعری میں پوری دیانت کے ساتھ سامنے آتے ہیں۔


نشست میں ان نظموں کا حوالہ بھی دیا گیا جو تاریخ کے نازک اور کڑے لمحوں میں لکھی گئیں اور جن میں ردِعمل کے بجائے اخلاقی جرأت اور فکری استقامت نمایاں ہے۔ مجموعی طور پر یہ قسط کیفی اعظمی کی شاعری کو آج کے سماجی تناظر میں سمجھنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔