دنیا دیکھنا چاہتی ہے کہ طالبان کے قول وفعل میں کتنی مماثلت ہے؟

یہ افغان قیادت کی فہم وفراست کا امتحان ہے کہ وہ ان چیلنجز سے کیسے نمٹتے ہیں، افغان عوام امن چاہتی ہے، سب امن کے خواہاں ہیں۔

فائل تصویر آئی اے این ایس
فائل تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے افغان طالبان کے بارے میں جاری شکوک و شبہات کے درمیان کہا ہے کہ دنیا دیکھنا چاہتی ہے طالبان جو کہہ رہے ہیں کیا اس پر عمل بھی کررہے ہیں یا نہیں ؟

اپنے بیان میں شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ سب افغانستان میں امن و استحکام چاہتے ہیں، کوئی بھی افغانستان میں خونریزی نہیں چاہتا۔انہوں نے کہاکہ دنیا دیکھنا چاہتی ہے طالبان جو کہہ رہے ہیں کیا اس پر عمل بھی کررہے ہیں؟ دوسرے فریق کو بھی افغانستان کیمفادکوترجیح دینی چاہیے، جو افغانستان میں بیامنی کا خواہاں ہے وہ افغان عوام کی بہتری نہیں چاہ رہا۔


پاکستانی وزیر خارجہ نے مشورہ دیا کہ طالبان اور سابق حکمران مل کر ایسا سیاسی ڈھانچا بنائیں جس میں سب شامل ہوں۔انہوں نے کہاکہ پاکستان اپنا مثبت کردار ادا کرنے کیلئے پر عزم ہے، کابل میں تعینات ہمارے سفیر کے بھی مختلف شخصیات سے رابطے ہورہے ہیں، پاکستان آئے افغان وفد کی وزیراعظم اورمجھ سے ملاقات میں تبادلہ خیال ہوا اور ہمیں احساس ہے کہ کچھ امن مخالف قوتیں ’اسپائیلرز‘ کا کردارادا کرنے کیلئے متحرک ہیں۔

شاہ محمودنے کہاکہ یہ افغان قیادت کی فہم وفراست کا امتحان ہے کہ وہ ان چیلنجز سے کیسے نمٹتے ہیں، افغانستان کی عوام امن چاہتی ہے، سب امن کے خواہاں ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔