پاکستانی فوج پر قہر بن کر ٹوٹیں بلوچستان لبریشن فرنٹ کی خواتین، 9 ہلاکتوں کا دعویٰ
بی ایل ایف کا دعویٰ ہے کہ خواتین یونٹ نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں 2 آپریشن کیے، جس میں پاکستانی فوج کے 9 جوان مارے گئے اور کئی دیگر زخمی ہوئے ہیں۔

بلوچستان میں پاکستانی فوج کے خلاف ایک بار پھر حملے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ ’بلوچستان لبریشن فرنٹ‘ (بی ایل ایف) نے نئی خواتین جنگجو یونٹ ’کریمہ آرمڈ اسالٹ ڈویژن‘ (کے اے اے ڈی) کی ایک ویڈیو جاری کی ہے۔ تنظیم کا دعویٰ ہے کہ خواتین یونٹ نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں 2 آپریشن کیے، جس میں پاکستانی فوج کے 9 جوان مارے گئے اور کئی دیگر زخمی ہوئے ہیں۔ بی ایل ایف کے مطابق کے اے اے ڈی نے اپنا دوسرا آپریشن کلات کے منگوچر علاقے میں کیا۔
تنظیم کی جانب سے جاری ویڈیو میں تربت کے جوساک علاقے میں سی پی ای سی روڈ پر پاکستانی فوج کی ’کوئیک ری ایکشن فورس‘ (کیو آر ایف) کے قافلے پر مبینہ حملے کی فوٹیج بھی دکھائی گئی ہے۔ حالانکہ ان حملوں اور ہلاکتوں کے دعوے کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ بی ایل ایف کی جانب سے جاری ویڈیو میں ایک خاتون کمانڈر جنگجو یونٹ کو مشن سے متعلق تفصیلات بتاتے ہوئے نظر آرہی ہیں۔ اس کے بعد کچھ جنگجو فوجی گاڑیوں کے قافلے پر قریب سے فائرنگ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ویڈیو میں کے اے اے ڈی کی تربیت سے وابستہ کچھ فوٹیج بھی دکھائی گئی ہے۔
کلات کے منگوچر علاقے کی ایک الگ فوٹیج میں خواتین جنگجوؤں کو گاڑیاں روکتے اور جانچ کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ بی ایل ایف نے ان تصاویر کو اپنی خواتین یونٹ کی تربیت اور آپریشنل صلاحیت کے ثبوت کے طور پر پیش کیا گیا۔ بی ایل ایف کا کہنا ہے کہ اس نے کئی سال کی ٹریننگ اور تیاری کے بعد کے اے اے ڈی کو ایک منظم جنگجو یونٹ کے طور پر تیار کیا ہے۔ تنظیم کے مطابق اس یونٹ کا مسلسل آپریشن میں شامل ہونا بی ایل ایف کے اندر اس کے بڑھتے ہوئے کردار کو ظاہر کرتا ہے۔ بی ایل ایف پاکستانی فوج کے خلاف مسلح جدوجہد چلا رہا ہے۔ تنظیم کا دعویٰ ہے کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں اور حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف اس کی لڑائی جاری ہے۔ حالانکہ پاکستانی فوجی اہلکاروں کی ہلاکت اور زخمی ہونے سے متعلق بی ایل ایف کے دعووں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ ویڈیو میں دکھائے گئے واقعات کی بھی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کی جا سکی ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
