کنگالی کے دہانے پر کھڑے پاکستان میں مہنگائی کا شُور، پیاز نے نکالے عوام کے آنسو

بارش سے بلوچستان اور سندھ میں پیاز کی فصلوں کو نقصان پہنچا ہے۔ اس کے باوجود برآمدگی پہلے کی طرح جاری ہے۔ دیسی پیاز باہر بھیجا جا رہا ہے جبکہ مقامی طلب پورا کرنے کے لیے باہر کا پیاز استعمال ہو رہا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

کنگالی کے دہانے پر کھڑے پاکستان کی حالت بے حد خستہ ہے۔ پاکستان کی معاشی حالت بگڑی ہوئی ہے اور ملک میں مہنگائی عروج پر ہے۔ ان سب کا خمیازہ پاکستان کی عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ پاکستان میں مہنگائی کا عالم یہ ہے کہ پیاز کی قیمت پاکستان میں لوگوں کی آنکھوں میں آنسو لے آیا ہے۔ اس کی قیمت یہاں 100 روپے کلو تک پہنچ گئی ہے۔ پاکستانی میڈیا میں شائع رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ متعلقہ ڈپارٹمنٹ اور وزارت برائے تجارت کی غلط پالیسیوں کے سبب پاکستان میں پیاز کی قیمت 90 سے 100 روپے کلو تک پہنچ گئی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بارش سے بلوچستان اور سندھ میں پیاز کی فصلوں کو کافی نقصان پہنچنے کے باوجود ان کی برآمدگی پہلے کی ہی طرح جاری ہے۔ ایک طرف دیسی پیاز باہر بھیجا جا رہا ہے، جب کہ مقامی طلب کو پورا کرنے کے لیے افغانستان اور ایران کا پیاز ملک کے بازاروں میں فروخت ہو رہا تھا۔

رپورٹ کے مطابق پیاز کے تاجروں کا کہنا ہے کہ اب ان ممالک سے پیاز کی درآمدگی روک دی گئی ہے، جب کہ دیسی پیاز کی برآمدگی تیزی کے ساتھ جاری ہے۔ نتیجہ یہ ہوا ہے کہ پیاز کی قیمت جو پہلے سے ہی زیادہ چل رہی تھی، 20 روپے فی کلو تک بڑھ گئی اور ایک کلو پیاز کی قیمت 100 روپے تک جا پہنچی۔

اِدھر عوام مہنگائی سے پریشان ہے اور پاکستان کے وزیر اعظم کشمیر جیسے ایشوز میں الجھے ہوئے ہیں۔ پی ایم عمران خان لگاتار کشمیر کا راگ عوام کو سنا رہے ہیں۔ معاشی محاذ پر پست عمران خان کشمیر محاذ پر بھی چہار جانب سے ناکام ہو گئے ہیں۔ دنیا کے کسی بھی ملک نے کشمیر ایشو پر دخل دینے سے یہ کہتے ہوئے منع کر دیا ہے کہ یہ ہندوستان کا اندرونی معاملہ ہے۔ باوجود اس کے عمران اپنے ملک کی خستہ حال معاشی نظام کو سدھارنے کی جگہ اس طرح کے ایشوز میں عوام کو الجھائے ہوئے ہیں۔

Published: 8 Oct 2019, 10:40 AM