معروف ادیب اور نثرنگار ڈاکٹر آصف فرخی سُپرد خاک

معروف ادیب اور مترجم ڈاکٹر آصف فرخی گزشتہ روز دل کا دورہ پڑنے سے کراچی میں انتقال کر گئے تھے۔ ان کا شمار ملک کے ممتاز دانشوروں میں ہوتا تھا۔ انہیں جامعہ کراچی کے قبرستان میں سُپرد خاک کر دیا گیا ہے۔

معروف ادیب اور نثرنگار ڈاکٹر آصف فرخی
معروف ادیب اور نثرنگار ڈاکٹر آصف فرخی
user

ڈی. ڈبلیو

ڈاکٹر آصف فرخی سولہ ستمبر 1959ء کو کراچی میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ڈاؤ میڈیکل کالج کراچی سے ایم بی بی ایس کیا جبکہ ہارورڈ یونیورسٹی امریکا سے ماسٹرز کی ڈگری لی۔ انہوں نے کئی کتابوں کے ترجمے کیے اور وہ ادبی رسالوں کے ساتھ ساتھ دیگر اخباروں کے لیے بھی لکھتے رہے۔ انہوں نے ادبی جریدے 'دنیا زاد‘ کی ادارت اور ایک اشاعتی ادارے' شہرزاد‘ کی انتظامی ذمہ داریوں کو بخوبی نبھایا۔

آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کی سابق ڈائریکٹر امینہ سید کے مطابق ڈاکٹر آصف فرخی آکسفورڈ پریس کے لیے ایڈیٹنگ اور تراجم کیا کرتے تھے۔ ڈاکٹر امینہ نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ ڈاکٹر فرخی ان کی رہنمائی کیا کرتے تھے کہ کون کون سی کتابیں شائع کرنی چاہییں۔ آکسفورڈ یونیورسٹی کے تعاون سے کراچی لٹریچر فیسٹیول کا آغاز کیا اور اس سلسلے میں انہوں نے برٹش کونسل کے ساتھ بھی الحاق کیا۔ اپنے تخلیقی جنون اور دیگر ادبی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ انہوں نے پاکستانی ادب اور اردو نثر کے فروغ میں فعال کردار ادا کیا۔

جامعہ کراچی انجمن اساتذہ کے رہنما پروفیسر ڈاکٹر شکیل فاروقی نے ڈی ڈبلیو کی بتایا کہ ان کی موت ایک سانحہ اور ادبی خلا ہے۔ ڈاکٹر آصف کے والد بھی جامعہ کراچی میں رہے جبکہ والدہ بھی کالج پرنسپل تھیں۔ ویسے تو وہ میڈیکل ڈاکٹر تھے لیکن ادب کا جنون رکھتے تھے۔

ڈاکٹر فرخی سن1994 سے سن2014 تک ہیلتھ اینڈ نیوٹریشن پروگرام آفیسر کی حیثیت سے یونیسیف کراچی سے منسلک رہے۔ سن 2014 میں انہوں نے حبیب یونیورسٹی میں شمولیت اختیار کی، جہاں وہ علاقائی زبانیں اور انسانیت کے آرزو سینٹر کے ایسوسی ایٹ پروفیسر اور ڈائریکٹر رہے۔ سن 2016 میں وہ حبیب یونیورسٹی میں عبوری ڈین اور ایسوسی ایٹ پروفیسر اسکول آف آرٹس، ہیومینٹیز اینڈ سوشل سائنسز بن گئے۔ ڈاکٹر فرخی نے آٹھ سال صحت عامہ کے علمبردار پروفیسر جان ایچ برائنٹ کی نگرانی میں آغا خان یونیورسٹی کی فیکلٹی میں بھی کام کیا۔

آصف فرخی کا شمار ملک کے ممتاز دانشوروں میں ہوتا تھا اور وہ کراچی لٹریچر فیسٹیول کے شریک بانیوں میں سے ایک تھے۔ انہوں نے سندھی اور بلوچی زبان کے ادبیوں کو پروان چڑھایا۔ نامور شاعر اور صحافی فاضل جمیلی کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر آصف فرخی نے اپنے ادبی کیریئر کی ابتدا ترجموں سے کی۔ ابتدا میں دنیا کے معروف مصنفین کے تراجم کیے اس کے بعد خود بھی افسانے لکھے، خاص طور پر کراچی کی زندگی اور یہاں ہونے والے آپریشن پر بھی انہوں نے لکھا۔

وہ طالب علموں کے ساتھ دوستوں کی طرح پیش آتے تھے۔ انہوں نے طلبا کو اردو ادب سے محبت کرنا سکھایا۔ طالب علموں سے کبھی چائے اور کھانے کی درخواست پر انکار نہیں کیا۔ درحقیقت وہ کبھی بھی فیکلٹی کیفے میں کھانا نہیں کھاتے تھے بلکہ ہمیشہ طلبا کے ساتھ کھانا کھاتے تھے۔

انہوں نے کئی کالم لکھے اور جدید ترین ابلاغی صنف وی لاگ کے ذریعے بھی علم و ادب اور فکر و آگاہی کے موتی بکھیرتے رہے۔ سن 1995 میں ان کو ادب کے لیے وزیر اعظم کا ایوارڈ ملا جبکہ سن 2005 میں انہیں صدر پاکستان نے تمغہ امتیاز سے بھی نوازا۔ گزشتہ روز ڈاکٹر آصف فرخی کو دل کا دورہ پڑا جو جان لیوا ثابت ہوا۔ وہ کئی سالوں سے ذیابیطس کے مرض کا شکار تھے۔ ان کی نماز جنازہ جامعہ مسجد کراچی یونیورسٹی میں ادا کی گئی جبکہ ان کی تدفین کراچی یونیورسٹی کے قبرستان میں ہوئی۔ ڈاکٹر آصف فرخی نے اپنی اہلیہ، دو بیٹیوں اور ادب کے ہزاروں شائقین کو سوگواروں میں چھوڑا ہے۔