حافظ سعید کی رہائی میں امریکی آشیرواد!

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

مزمل سہروردی

لاہور ہائی کورٹ نے حافظ سعید کو رہا کر دیا۔ دس ماہ کی نظر بندی کے بعد بھی یہ رہائی اپنی جگہ ایک سوالیہ نشان ہے۔ دس ماہ میں حکومت پاکستان حافظ سعید کے خلاف ایک بھی مقدمہ قائم نہیں کر سکی۔ جس کی بنیاد پر ان کی نظر بندی میں توسیع کی جا سکتی۔ پاکستان کی حدود میں حافظ سعید کے خلاف کسی بھی قسم کا کوئی مقدمہ نہیں ہے۔ لیکن ایسا کوئی مقدمہ دس ماہ پہلے بھی نہیں تھا جب حکومت پاکستان نے حافظ سعید کو نظر بند کرنے کا فیصلہ کیا۔ جب بغیر مقدمے کے نظر بند کیا جا سکتا تھا۔ تو نظر بندی میں توسیع کیوں نہیں کی جاسکتی۔ حافظ سعید کے ساتھ نظر بندی کا یہ کھیل پہلی دفعہ نہیں کھیلا گیا۔ اس سے پہلے دو دفعہ انہیں اسی طرح نظر بند کیا گیا ہے اور بعد میں عدالت عالیہ نے انہیں رہا کیا ہے۔ اس طرح نہ یہ نظر بندی نئی تھی اور نہ ہی رہائی نئی ہے بلکہ سب پرانی اسکرپٹ ہے۔ ریاست پاکستان اور حافظ سعید مل کر یہ ڈرامہ اکثر کھیلتے ہیں۔ دونوں کو اب اس ڈرامہ کے سین حرف بہ حرف یاد ہو گئے ہیں۔

یہ کہنا بھی غلط نہ ہو گا کہ حافظ سعید نہ تو نظر بند ہو کر نظر بند ہوتے ہیں۔ اور نہ ہی رہا ہو کر رہا ہوتے ہیں۔ وہ ریاست پاکستان کے ایک سچے ڈسپلنڈ سپاہی ہیں جو صرف اپنی ڈیوٹی کرتے ہیں ۔ ان کی کامیابی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ حالات کچھ بھی ہوں۔ ان کے حق میں ہوں یا ان کے خلاف ہوں وہ ریا ست پاکستان کے وفادار رہتے ہیں۔ کبھی گلہ شکو نہیں کرتے۔ ناراض نہیں ہوتے۔ پڑھے لکھے ہونے کی وجہ سے انہیں ریاست کی بین الا اقوامی مجبوریو ں کا بھی احساس رہتا ہے۔ اور وہ ہر مشکل وقت میں اپنے لئے راستہ نکالنے کا طریقہ ڈھونڈ ہی لیتے ہیں۔ وہ نہ ضدی ہیں نہ ہی ہٹ دھرم۔ وہ لچک دکھاتے ہیں۔ یہ ان کی کامیابی کا راز ہےکہ وہ ہر مشکل وقت سے باہر نکل آتے ہیں۔ حافظ سعید بہت فخر سے کہتے ہیں کہ انہوں نے آج تک پاکستان میں قانون کی کوئی خلاف ورزی نہیں کی ہے۔ وہ آئین پاکستان اور قانون کے مکمل پابند ہیں۔

یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ اس بار دس ماہ قبل انہیں کیوں نظر بند کیا گیا۔ یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ دس ماہ پہلے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نئے نئے امریکی صدارت کے منصب پر فائز ہوئے تھے۔ پاکستان نے اس موقع پر اپنے اس وقت کے نائب وزیر خارجہ طارق فاطمی کو امریکہ بھیجا تا کہ ایک تو ٹرمپ کی پاکستان کے حوالہ سے پالیسی سے مکمل آگہی حاصل کی جا سکے اور اگر ممکن ہو تو بات چیت شروع کی جا سکے۔ طارق فاطمی نے رپورٹ دی کہ امریکہ کو جہاں اور بہت سی ناراضگیاں ہیں وہاں حافظ سعید کے خلاف کاروائی نہ ہونے کی وجہ سے بھی امریکہ ناراض ہے۔ اس لئے اس سے پہلے کہ ٹرمپ کوئی کاروائی کرے حافظ سعید کے خلاف کاروائی کرنی چاہئے۔ یہ بھی کہا گیا کہ حافظ سعید کے خلاف کاروائی سے ٹرمپ خوش ہونگے۔ اور پاکستان کے حوالہ سے ان کی پالیسی نرم ہو سکتی ہے۔ اس ضمن میں بھارت کو خوش ہونے کی کوئی ضرورت نہیں کہ حافظ سعید کو بھارت کے کسی دباؤ میں نظر بند کیا گیا تھا۔ بھارت کا تو کوئی دباؤ نہیں تھا۔

لیکن اب سوال یہ ہے کہ پھر اب رہا کیوں کیا گیا تو بات سادہ ہے کہ امریکہ سے بات کر کے ہی رہا کیا گیا۔ شاید بہت لوگ یہ بات نظر انداز کر رہے ہیں کہ نومبر میں امریکی کانگریس نے ایک بل پاس کیا ہے جس میں یہ کہا گیا ہے کہ پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون کے حوالہ سے دی جانیو الی رقم اس بات سے مشروط کی جائے کہ پاکستان افغانستان میں حقانی نیٹ ورک کے خلاف تعاون کرے گا۔ تا ہم اس ضمن میں سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ اس بل میں پہلے حقانی نیٹ ورک کے ساتھ لشکر طیبہ کا نام بھی شامل تھا لیکن آخری موقع پر لشکر طیبہ کا نام نکال دیا گیا۔ پاکستان سمجھتا ہے کہ لشکر طیبہ کا نام نکلنا ایک تو پاکستان کی سفارتی کامیابی ہے کہ اس نے امریکہ سے یہ بات منوا لی ہے کہ امریکہ حافظ سعید کے خلاف کاروائی کی شرط سے پیچھے ہٹ جائے۔اور اس امریکی بل سے لشکر طیبہ کا نام نکلنے کے بعد ہی پاکستان میں حافظ سعید کی رہائی کی راہ ہموار ہوئی ہے۔

یہ کہا جا سکتا ہے کہ حافظ سعید کے خلاف کاروائی اب پاک امریکہ تعلقات کے ایجنڈے پر نہیں ہے۔ یہ اب پاک بھارت معاملہ ہے اور بھارت کا دباؤ پاکستان اہم نہیں سمجھتا۔ یہ بات قطعی طور پر نظر انداذ نہیں کی جا سکتی کہ امریکی ڈیفنس سیکرٹری 3دسمبر کو پاکستان کے دورہ پر آرہے ہیں اور ان کے دورہ سے ایک ہفتہ قبل حافظ سعید کی رہائی صاف ظاہر کر رہی ہے کہ امریکہ سے انڈر سٹینڈنگ موجود ہے۔ ورنہ ایسا نہیں ہے کہ اس وقت پاکستان امریکہ تعلقات جس نہج پر ہیں ایسے میں پاکستان اس بات کا متحمل نہیں ہو سکتا کہ وہ امریکی وزیر دفاع کے دورہ سے ایک ہفتہ قبل حافظ سعید کو رہا کر دے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ حافظ سعید کی رہائی پر وہائٹ ہاؤس اور امریکی دفتر خارجہ کی جانب سے مذمتی بیانات جاری کئے گئے ہیں لیکن پاکستان کا یہ ماننا ہے کہ یہ بیانات رسمی ہیں۔ امریکہ اس پوزیشن میں تو نہیں تھا کہ حافظ سعید کی رہائی کو خوش آمدید قرار دے دیتا۔ انہیں مذمت ہی کرنی تھی۔ امریکی پالیسی کو کانگریس کے بل کی روشنی میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔

امریکہ اور پاکستان میں تعلقات ابھی مکمل ٹھیک نہیں ہیں۔ مگر ایسا بھی نہیں ہے کہ یہ تعلقات اب بہت خراب ہیں۔ یہ تعلقات بہت خرابی کے فیز سے گزر آئے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ ٹرمپ کو پاکستان کی اہمیت کا انداذہ ہو گیا ہے۔ وہ اب پاکستان سے تعلقات کی اہمیت کو سمجھ گئے ہیں اور اب اس لئے خطرہ والی کوئی بات نہیں ہے۔ امریکہ کو یہ بھی احساس ہو گیا ہے کہ چین کے ساتھ سی پیک کے بعد پاکستان کا امریکہ پر انحصار بہت کم ہو گیا ہے۔ اس لئے امریکہ پابندیاں لگا کر پاکستان سے کوئی بات نہیں منوا سکتا ہے۔ اس لئے بات چیت کے دروازے کھل گئے ہیں۔ امریکی سیکرٹری آف سٹیٹ پاکستان آچکے ہیں اور اب سیکرٹری دفاع آرہے ہیں۔

یہ درست ہے کہ حافظ سعید کی پاکستانی سیاست میں آمد ہو چکی ہے۔ ان کی سیاسی جماعت کو حکومت پاکستان کی مخالفت کی وجہ سے الیکشن کمیشن پاکستان نے رجسٹرڈ کرنے سے انکار کیا ہے۔ لیکن وہ عدالت میں جا چکے ہیں۔ اس سے پہلے بھی الیکشن کمیشن نے سابق فوجی ڈکٹیٹر جنرل ضیائ الحق کے نام پر ان کے بیٹے کی جانب سے بنائی جانیو الی سیاسی جماعت کو رجسٹرڈ کرنے انکار کیا تھا لیکن عدالت نے اجازت دے دی تھی۔ عدالت نے قرار دیا تھا کہ ہر پاکستانی کا حق ہے کہ آئین پاکستان کے اندر رہتے ہوئے سیاسی جماعت بنا لے۔ اس لئے اب حافظ سعید کو بھی اجازت مل جانے کا قوی امکان ہے کیونکہ وہ بھی ایک پاکستانی شہری ہیں۔ جن کے اوپر پاکستان میں پاکستان کے کسی بھی قانون کی خلاف ورزی کا کوئی مقدمہ نہیں ہے۔ وہ آئین پاکستان اور پاکستان کے قوانین کی مکمل پاسداری کرتے ہیں۔اس لئے انہیں سیاست کا بھی حق ہے۔

اپنی خبریں ارسال کرنے کے لیے ہمارے ای میل پتہ contact@qaumiawaz.com کا استعمال کریں۔ ساتھ ہی ہمیں اپنے نیک مشوروں سے بھی نوازیں۔