پاکستان کا تجارتی خسارہ 36 فیصد کم ہو کر 3.9 ارب ڈالر رہ گیا

پاکستان میں رواں مالی سال کے شروعاتی دو مہینوں کے دوران برآمدات 20 فیصد کم ہونے اور درآمدات 2.8 فیصد بڑھنے کی وجہ سے تجارتی خسارہ 36 فیصد کم ہو کر 3.9 ارب ڈالر رہ گیا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

پاکستان کا تجارتی خسارہ 36 فیصد کم ہو کر 3.9 ارب ڈالر رہ گیا ہے۔ پاکستان میں رواں مالی سال کے شروعاتی دو مہینوں کے دوران برامدات میں 20 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے اور درآمدات میں 2.8 فیصد کا معمولی اضافہ درج کیا گیا ہے، یہی وجہ ہے کہ پاکستانی کا تجارتی خسارہ کم ہوا ہے۔ اس دوران روپے میں کی قدر میں ایک تہائی کمی واقع ہوئی جس کا خمیازہ پاکستانی معیشت کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔

دی ایکسپریس ٹریبیون کی ہفتہ کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس (پی بی ایس) کی طرف سے 10 دنوں کی تاخیر کے بعد جمعہ کو جاری اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ اگست کے مہینے میں پاکستان کی درآمدات گزشتہ مہینے کے مقابلہ کو کم ہوئی ہی ہے، گزشت سال کے مقابلہ میں بھی اس میں کمی آئی ہے جبکہ پاکستانی روپیہ ڈالر کے مقابلہ میں ایک تہائی کمزور ہوا ہے۔


حالانکہ جولائی اور اگست کے دوران درآمدات 10.2 کروڑ ڈالر یعنی 2.8 فیصد کے اضافہ کے ساتھ 3.75 ارب ڈالر ہو گیا، جس کے بعد مانیٹری پالیسی کے جائزہ کی اشد ضرور محسوس کی جا رہی ہے۔ پی بی ایس کی رپورٹ کے مطابق کل تجارتی خسارہ گزشتہ سال اس دورانیہ میں 6.1 ارب ڈالر تھا جو رواں مالی سال کے شروعاتی دو مہینوں میں کم ہو کر 3.9 ارب ڈالر رہ گیا ہے۔ اصل معنوں میں تجارتی خسارہ میں 2.2 ارب ڈالر کی کمی واقع ہوئی ہے جس کی اہم وجہ درآمدات میں کمی ہے۔

پاکستان میں درآمدات 21.4 فیصد کم ہو کر 7.7 ارب ڈالر رہ گئیں لیکن تجارتی خسارے میں کمی کی اہم وجہ پیٹرولیم، نقل و حمل، ٹیکسٹائلز اور فوڈ گروپوں کی درآمدات میں کمی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 22 Sep 2019, 9:10 AM