پاکستان: موسلادھار بارش کا سلسلہ جاری، مرنے والوں کی تعداد 134 ہوئی

ہلاک شدگان میں 14 خواتین اور 59 بچے بھی شامل ہیں۔ ملک کے قومی آفات انتظامیہ اتھاریٹی (این ڈی ایم اے) نے ایک رپورٹ میں یہ اطلاع دی

تصویر بشکریہ فرارو ڈاٹ کام
تصویر بشکریہ فرارو ڈاٹ کام
user

قومی آوازبیورو

اسلام آباد: پاکستان کے الگ الگ علاقوں میں جون سے ہو رہی موسلہ دھار بارش سے مرنے والوں کی تعداد بڑھکر 134 ہوگئی ہے۔ ہلاک شدگان میں 14 خواتین اور 59 بچے بھی شامل ہیں۔ ملک کے قومی آفات انتظامیہ اتھاریٹی (این ڈی ایم اے) نے ایک رپورٹ میں یہ اطلاع دی۔

اتھاریٹی نے اپنی ویب سائٹ پر ہفتے کو 15 جون سے 29 اگست تک مرنے والوں کی تعداد شیئر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت،فوج اور غیر سرکاری تنظیموں کے متعلقہ محکموں کے ذریعہ متاثر علاقوں میں بچاؤ اور راحت مہم چلائی جارہی ہے۔

اتھاریٹی نے بتایا کہ شمال مغربی خیبر پختونخوا صوبہ سب سے زیادہ متاثر تھا، جہاں 48 لوگوں کی موت ہوئی ہے اور 42 دیگر زخمی ہوئے ہیں۔ اس دوران ،سندھ کے وزیراعلی سید مراد علی شاہ نے جمعہ کو ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ صوبے میں بارش کی وجہ سے 80 لوگوں کی موت ہوگئی جن میں سے 47 صوبے کے دارالحکومت کراچی میں مارے گئے۔

پاکستان: موسلادھار بارش کا سلسلہ جاری، مرنے والوں کی تعداد 134 ہوئی

بی بی سی اردو کے مطابق پاکستان کے صوبہ سندھ کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ رواں مانسون کے دوران شدید بارشوں کے باعث مختلف ضلعوں میں جانی و مالی نقصان کے باعث 20 اضلاع آفت زدہ قرار دے دیے گئے ہیں۔ سندھ حکومت کے نوٹیفیکیشن کے مطابق ان میں کراچی کے چھ ضلعے، حیدرآباد، بدین، ٹھٹہ، سجاول، جامشورو، ٹنڈو محمد خان، ٹنڈو الہ یار، مٹیاری، دادو، میرپور خاص، عمر کوٹ تھرپارکر، شہید بینظیرآباد، اور سانگھڑ شامل ہیں۔ ان تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنران کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ نقصانات کا تخمینہ لگا کر معاوضوں کی ادائیگی کے لیے اقدامات کریں۔

یاد رہے کہ کراچی سمیت پاکستان کے بعض علاقوں میں طوفانی بارش کے بعد سول انتظامیہ اور فوج کی جانب سے امدادی سرگرمیاں جاری ہیں لیکن محکمہ موسمیات نے آئندہ دو روز میں مزید بارشوں کی پیشگوئی کر دی ہے۔ سندھ کے کئی علاقوں میں مانسون بارشوں سے لوگوں کے گھر، کاروبار اور زندگیاں متاثر ہوئی ہیں وہیں گذشتہ دو روز سے بجلی، گیس اور موبائل سروس جیسی بنیادی ضروری کی عدم دستیابی کے مسائل بھی موجود ہیں۔

یاد رہے کہ جمعرات کو کراچی میں 442 ملی میٹر بارش ہوئی تھی، جس سے شہر میں بارش کا 53 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا تھا اور تاحال کئی علاقوں میں منقطع ہونے والی بجلی بحال نہ ہونے کی اطلاعات ہیں۔ کے الیکٹرک کی جانب سے اس کی وضاحت میں کہا گیا تھا کہ بہت سے علاقوں میں اب بھی پانی کھڑا ہے جس کی وجہ سے بجلی بحال نہیں کی جا سکی۔ چوبیس گھنٹوں سے زیادہ بجلی بند رہنے کی وجہ سے کئی علاقوں میں موبائل ٹاورز کے متبادل ایندھن ذخائر ختم ہونے کے باعث موبائل سروس بھی معطل رہی۔

کے الیکٹرک کی جانب سے دعوی کیا گیا ہے کہ ڈیفنس سمیت متاثرہ علاقوں میں بجلی کی بحالی کے لیے کام مزید تیزی سے جاری ہے۔

اس تمام صورتحال پر وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے جاری شدہ ٹوئٹر بیان کے مطابق کہا گیا ہے کہ 'پوری قوم اس درد کو محسوس کررہی ہے جس میں کراچی کے عوام مبتلا ہیں، تاہم اس تباہ کن صورتحال اور تمام تر مشکلات کے ہنگام میں مثبت پیش رفت یہ ہوئی ہے کہ میری حکومت سندھ حکومت کے ساتھ مل کر فوری طور پر کراچی کے تین بڑے مسائل حل کرنے کے لیے اقدامات اٹھا رہی ہے۔'

    Published: 30 Aug 2020, 11:11 AM
    next