پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا جلوس جنازہ...سہیل انجم

خادم حسین رضوی کے انتقال کے بعد دیکھنا یہ ہے کہ تحریک لبیک پاکستان کا کیا مستقبل ہوتا ہے اور کیا وہ جماعت خادم حسین کے مذہبی نظریات کو اسی مضبوطی کے ساتھ آگے بڑھانے میں کامیاب ہو پاتی ہے۔

تصویر بشکریہ سماء ٹی وی
تصویر بشکریہ سماء ٹی وی
user

سہیل انجم

میڈیا رپورٹوں کے مطابق وہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا جلوس جنازہ تھا۔ نماز جنازہ دوپہر بعد ادا کی جانی تھی، لیکن صبح سے ہی لاہور کا مینار پاکستان گراونڈ بھر گیا تھا۔ پورے شہر کی سڑکیں جام ہوگئی تھیں۔ ٹریفک کا نظام منقطع ہوگیا تھا۔ تمام راستے مینار پاکستان جا رہے تھے۔ جو شخص بھی سڑک پر تھا وہ اس میدان کی جانب رواں دواں تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ لاکھوں افراد نماز جنازہ میں موجود تھے۔ بلکہ بعض رپورٹوں میں اسے تیس چالیس لاکھ کا مجمع بتایا گیا ہے۔ یہ کس کی تدفین تھی جس میں اس قدر لوگوں کا ہجوم تھا؟ وہ ایک سیاسی و مذہبی جماعت ’’تحریک لبیک پاکستان‘‘ کے بانی صدر علامہ خادم حسین رضوی کا جنازہ تھا۔

55 سالہ علامہ خادم حسین رضوی کی موت اچانک ہو گئی۔ ابھی انھوں نے 15 نومبر کو اسلام آباد کے علاقے فیض آباد میں ہزاروں افراد کے دھرنے کی قیادت کی تھی۔ اس دھرنہ نے اسلام آباد کی زندگی ٹھپ کر دی تھی۔ بیشتر سڑکیں بند کر دی گئی تھیں۔ جگہ جگہ بجلی کی سپلائی منقطع کر دی گئی تھی اور انٹرنیٹ پر پابندی عاید کر دی گئی تھی۔ ان کا یہ دھرنا فرانس میں پیغمبر اسلام کے توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کے خلاف تھا۔ ان کا مطالبہ تھا کہ فرانس کے سفیر کو ملک بدر کیا جائے اور فرانس سے تمام قسم کے روابط منقطع کر لیے جائیں۔ اس کے علاوہ حکومت سرکاری سطح پر فرانس کی مصنوعات کے بائیکاٹ کا اعلان کرے۔ انھوں نے فرانس کے سفارت خانے کی طرف کوچ کا اعلان کیا تھا۔ لیکن ان کو اور ان کے حامیوں کو ادھر جانے سے روک دیا گیا تھا۔ بہر حال 16 نومبر بروز پیر ان کی جماعت اور حکومت کے درمیان ایک معاہدہ ہوا اور دھرنا ختم کر دیا گیا۔

لہٰذا جب 19 نومبر کی شام کو ان کے انتقال کی خبر آئی تو پورا ملک سکتے میں آگیا۔ اس اچانک موت سے ہر کوئی دکھی تھا۔ ان کے حامی اور مخالف دونوں حلقوں میں سوگ کی لہر دوڑ گئی۔ انھیں کئی دنوں سے بخار تھا اور سانس لینے میں دشواری تھی۔ لہٰذا جب 21 نومبر کو ان کی تدفین کا وقت آیا تو لوگ بڑی تعداد میں پہنچے۔ کوئی میڈیا ادارہ ایسا نہیں تھا جو اس جلوس جنازہ کی کوریج نہ کر رہا ہو اور کوئی بھی نیوز چینل ایسا نہیں تھا جو لائیو رپورٹنگ نہ کر رہا ہو۔ سوشل میڈیا پر بھی اس کی بھرپور کوریج کی گئی۔

علامہ خادم حسین رضوی بریلوی مکتب فکر کے ایک شعلہ بیان عالم دین تھے۔ 2006 میں ایک سڑک حادثے میں ان کو شدید چوٹیں آئی تھیں جس کے بعد وہ کھڑے ہونے اور چلنے پھرنے سے معذور ہو گئے اور وھیل چیئر تک محدود ہو گئے تھے۔ وہ پہلے محکمہ اوقاف میں ملازم تھے۔ وہ پاکستان کے ایک متنازع قانون بلاسفیمی لا یعنی توہین مذہب قانون کے سخت حمایتی تھے۔ اس قانون کی پرزور حمات کی وجہ سے ہی ان کو ملازمت سے فارغ کیا گیا تھا۔ اس کے بعد وہ پورے ملک میں گھوم گھوم کر اس قانون کے حق میں رائے عامہ ہموار کرنے لگے۔ اس کے ساتھ ہی انھوں نے ایک سیاسی و مذہبی جماعت ’’تحریک لبیک یا رسول اللہ‘‘ قائم کی۔ انھوں نے اس کے بینر سے نواز شریف حکومت کے خلاف ایک زبردست دھرنا دیا تھا۔ بعد میں انھوں نے اس کا نام بدل کر ’’تحریک لبیک پاکستان‘‘ کر دیا اور الیکشن میں کود پڑے۔ انھیں زبردست کامیابی ملی جس پر پورا ملک حیران ہو گیا تھا۔

وہ اس وقت سرخیوں میں آئے جب 2011 میں پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کو ان کے ہی محافظ ممتاز قادری نے گولی مار کر ہلاک کیا تھا۔ سلمان تاثیر توہین مذہب قانون میں ترمیم کے حامی تھے اور توہین مذہب کے الزام میں جیل میں بند ایک مسیحی خاتون آسیہ بی بی کی حمایت کر رہے تھے۔ آسیہ بی بی پر جو الزام تھا، کہا جاتا ہے کہ وہ متنازع تھا۔ بہت سے لوگ اس الزام کی صداقت کو مشکوک سمجھتے تھے۔ بہر حال جب ممتاز قادری نے سلمان تاثیر کو گولی مار دی تو علامہ خادم حسین رضوی نے قادری کی حمایت کی اور اسے غازی کا لقب دیا۔ انھوں نے قادری کو معاف کر دینے کا مطالبہ کیا۔ مگر اس کے خلاف کیس چلا اور اسے پھانسی دے دی گئی۔ اس پر خادم حسین رضوی نے پھر قادری کی حمایت کی اور اسے شہید کا درجہ دے دیا۔ بریلوی مکتب فکر کے مسلمانوں کی بہت بڑی تعداد نے ان کے موقف کی تائید کی۔

جہاں تک توہین مذہب قانون کی بات ہے جس کی وجہ سے علامہ سرخیوں میں آئے، کافی متنازع قانون ہے۔ ایسی رپورٹیں پاکستانی میڈیا میں شائع ہوتی رہتی ہیں کہ توہین مذہب قانون کا غلط اور بے بنیاد استعمال بھی ہوتا ہے۔ بہت سے لوگ اپنے مخالفین اور بالخصوص مذہبی اقلیتوں سے ذاتی رنجش کی وجہ سے بھی یہ الزام عاید کر دیتے ہیں۔ یہاں تک کہ بعض اوقات ایسی بھی خبریں آئی ہیں کہ کسی نے خود ہی قرآن مجید کے اوراق کی بے حرمتی کی اور پھر اس کا الزام دوسروں پر لگا دیا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ملزم کے خلاف تو کارروائی ہوتی ہے لیکن الزام لگانے والا صاف بچ کر نکل جاتا ہے۔

بہر حال پہلے دھرنے کے بعد ان کی مقبولیت بڑھنے لگی تھی۔ جب بھی وہ حکومت سے کوئی مطالبہ کرتے اور وہ تسلیم نہیں کیا جاتا تو وہ حکومت کے خلاف دھرنے پر بیٹھ جاتے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ وہ پیغمبر اسلام حضر ت محمد ﷺ کے ناموس پر اپنی جان دے دینے کے لیے تیار ہیں۔ وہ تحریک ختم نبوت سے بھی منسلک رہے ہیں۔ لہٰذا جب فرانس میں متنازع خاکوں کا معاملہ اٹھا تو انھوں نے اس کی مخالفت کی اور فرانس کے صدر ایمانوئل میکراں کی گردن اڑا دینے کی بات کہی۔ وہ ایک انتہائی پرجوش مقرر تھے اور ان کے عقیدت مندوں کا بہت بڑا حلقہ بن گیا تھا۔

ان کا انداز بیان کافی سخت تھا۔ وہ اپنی تقریروں میں انتہائی نازیبا کلمات کا بھی استعمال کرتے۔ میڈیا رپورٹوں کے مطابق بعض ایسے ناشائستہ جملوں کو بھی جو گالیوں میں شمار ہوتے ہیں وہ منبر سے کی جانے والی تقریروں میں بھی استعمال کرتے تھے۔ لہٰذا ان کی مقبولیت میں خاصا اضافہ ہو گیا۔ لیکن جب میڈیا میں ان کو زیادہ کوریج نہیں ملی تو انھوں نے سوشل میڈیا کا سہارا لیا اور کئی زبانوں میں ان کی ویب سائٹ بھی بنائی گئی۔ سوشل میڈیا پر ان کے کئی اکاؤنٹ بھی بنے۔ وہ خود کو پیغمبر اسلام کا ’’چوکیدار‘‘ کہتے تھے۔

پاکستان کی سپریم کورٹ میں اس سے پہلے کے فیض آباد دھرنے سے متعلق کیس کی از خود سماعت کے دوران جسٹس فائز عیسی نے سخت نوٹس لیا تھا اور کہا تھا کہ ’’اربوں روپے کی پراپرٹی تباہ کردی گئی ہے اور ’’پریمیئر‘‘ انٹیلی جنس ایجنسی کو معلوم ہی نہیں کہ خادم رضوی کیا کرتا ہے‘‘۔ اس وقت محکمہ دفاع کے نمائندے کرنل فلک ناز نے عدالت کو بتایا تھا کہ خادم حسین رضوی خطیب ہیں اور ان کی سیاسی جماعت ہے جو چندے سے چلتی ہے۔ اسلام آباد میں انسداد دہشت گری عدالت نے فیض آباد دھرنا کیس میں ان کی گرفتاری کا حکم دیا گیا تھا۔ تاہم بعد ازاں وہ ضمانت پر رہا ہوگئے تھے۔

خادم حسین رضوی کو حالیہ برسوں میں پاکستان میں مذہبی انتہاپسندی کے عروج کی ایک علامت سمجھا جاتا تھا اور بہت سے مبصرین کا خیال ہے کہ انھوں نے جس طرح متنازع توہین مذہب قانون کی حمایت کی اور جس طرح انھوں نے ممتاز قادری کو پہلے غازی اور پھر شہید کا درجہ دیا اس کی وجہ سے بھی پاکستان میں مذہبی شدت پسندی میں اضافہ ہوا ہے۔ ان کو سیاسی و مذہبی اعتبار سے اتنی طاقت حاصل ہو گئی تھی کہ حکومت کے سامنے ان کے مطالبات تسلیم کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہتا تھا۔

بہت سے تجزیہ کار اس کا جائزہ لے رہے ہیں کہ کیا اب جبکہ وہ اس دنیا سے کوچ کر چکے ہیں پاکستان میں مذہبی شدت پسندی میں کوئی کمی آئے گی یا ان کے بیٹے سعد رضوی جنھیں ان کا جا نشین بنایا گیا ہے ان کی روایت اور وراثت کو آگے بڑھانے میں کامیاب ہوں گے۔ بہر حال علامہ خادم حسین رضوی کے انتقال سے پاکستان میں سخت گیر مذہبی سرگرمیوں کا ایک باب بند ہو گیا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس کے بعد تحریک لبیک پاکستان کا کیا مستقبل ہوتا ہے اور کیا وہ جماعت علامہ خادم حسین رضوی کے مذہبی نظریات کو اسی مضبوطی کے ساتھ آگے بڑھانے میں کامیاب ہو پاتی ہے۔

Published: 22 Nov 2020, 9:11 PM
next