یہ صرف پاکستان میں ہو سکتا ہے!باجوا سے استعفیٰ مانگنے پر سابق جنرل کے بیٹے کو سزا

ایف آئی آر میں عسکری پر بیرونی دشمنوں کے کہنے پر فوج میں افراتفری پھیلانے کے لیے اعلیٰ فوجی کمانڈ اور سینئر افسران پر تنقید کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

فائل تصویر آئی اے این ایس
فائل تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

پاکستان کی ایک فوجی عدالت نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوا کے استعفیٰ کا مطالبہ کرنے پر ریٹائرڈ میجر جنرل کے بیٹے کو پانچ سال قید کی سزا سنائی ہے۔

بی بی سی اردو سروس کے حوالہ سے دی نیوز انٹرنیشنل نے رپورٹ کیا ہے کہ جنرل کے بیٹے نے ایک خط لکھا تھا جس میں باجوا کو دی گئی توسیع پر تنقید کی گئی تھی اور ان سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
حسن عسکری جو پیشہ سے کمپیوٹر انجینئر ہیں اور میجر جنرل (ر) ظفر مہدی عسکری کے صاحبزادے ہیں، کو گوجرانوالہ کینٹ میں فیلڈ جنرل کورٹ مارشل نے جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع پر تنقید کرنے پر پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 131 کے تحت سزا سنائی ہے۔ایف آئی آر میں عسکری پر بیرونی دشمنوں کے کہنے پر فوج میں افراتفری پھیلانے کے لیے اعلیٰ فوجی کمانڈ اور سینئر افسران پر تنقید کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔اس کیس کی سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ نے جنوری میں کی تھی جس نے غداری کے مقدمے کو کیمرے میں رکھنے کی ہدایت کی تھی۔


پاکستانی روزنامہ کے مطابق، یہ سوال کیا گیا کہ کیا فوجی عدالت میں کسی سویلین کے خلاف مقدمہ چلایا جا سکتا ہے، اس کا فیصلہ فوجی حکام کے ذریعے کرنے کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ کو بھی بھیجا گیا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔