پاکستان: سکھ امیدوار دھمکیوں کے باوجود انتخابی مہم میں مشغول

خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاورسے پہلی مرتبہ ایک سکھ امیدوار انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔ دھمکیوں کے باوجود وہ اپنی انتخابی مہم چلا رہے ہیں اور گھرگھر جا کر ووٹرزکا اعتماد حاصل کرنے کی کوشش میں ہیں۔

سکھ امیدوار
سکھ امیدوار
user

ڈی. ڈبلیو

پشاور، بنوں اور مستونگ میں انتخابی سرگرمیوں کے دوران ہونے والے دہشت گردانہ حملوں نے جہاں انتخابی سرگرمیوں کو متاثر کیا ہے۔ وہیں سردار رادیش سنگھ ٹونی بھی خوفزدہ ہیں۔ پشاور سے جنرل نشست پر صوبائی انتخابات لڑنے والے ٹونی کا کہنا ہے کہ انہیں دھمکیاں ملی ہیں کہ وہ الیکشن میں حصہ نہ لیں تاہم وہ ان دھمکیوں کے باوجود گھر گھر جاکر اپنی انتخابی مہم چلانے میں مصروف ہیں۔

رادیش سنگھ ٹونی پشاور کے سماجی کارکن ہیں، جو سکھوں سمیت دیگر اقلیتوں اور مسلمانوں کے مسائل پر بھی بات کرتے ہیں۔ انہوں نے بلدیاتی انتخابات میں اپنے حریف کو بھاری اکثریت سے شکست دی تھی اور جنرل کونسلر بنے تھے۔ صوبائی اسمبلی کے لیے انتخابات میں حصہ لینے کی خاطر انہوں نے جنرل کونسل کے عہدے سے استعفیٰ دیا ہے۔

ڈوئچے ویلے سے گفتگو کرتے ہوئے رادیش سنگھ ٹونی نے کہا، ’’دھمکیاں میرا راستہ نہیں روک سکتیں۔ پاکستان میں اقلیتی لوگ مخصوص نشست پر ہی اسمبلی میں پہنچ پاتے ہیں۔ جس پارٹی کے لوگ انہیں نامزد کرتے ہیں انہیں اسی پارٹی کے منشور کے مطابق چلنا پڑتا ہے اور اسی وجہ سے وہ رکن اقلیتوں کے لیےآواز نہیں اٹھا سکتے۔‘‘

ٹونی نے مزید کہا کہ ان کا اپنا ایک ایجن‍ڈا ہے اور منتخب ہونے کی صورت میں حکومتی پارٹی میں اسی وقت شریک ہوں گے، جب سمجھیں گے کہ اس پارٹی کا منشور ان کے نظریات سے مطابقت رکھتا ہے۔ رادیش سنگھ ٹونی کے بقول خیبر پختونخوا میں اب تک کم از کم دس سکھ دہشت گردی کا نشانہ بن چکے ہیں، اس لیے انہیں بھی انتخابی مہم کے لیے گھر سے نکلتے وقت خوف محسوس ہوتا ہے، ’’ لیکن مجھے اب اس کی کوئی پرواہ نہیں، سرکاری سیکورٹی لینے سے اس لیے انکار کیا کہ ان کے اخراجات میرے لیے ناقابل برداشت ہیں۔ منتخب ہو کر صحت، تعلیم، صاف پانی کی فراہمی اور اقلیتی برادری کے حقوق کے لیے آواز اٹھاوں گا۔‘‘

رادیش سنگھ ٹونی پی کے 75 حلقے کے دیگر سولہ امیدواروں کے مقابلے میں مالی لحاظ سے انتہائی کمزور ہیں اور اسی وجہ سے اپنی موٹر بائیک پر نکل کر وہ گھر گھر اپنا منشور پہنچانے اور ووٹرز کا اعتماد حاصل کرنے کی کوشش میں ہیں۔

رادیش سنگھ ٹونی کے مسلمان دوستوں نے نہ صرف ان کی انتخابی مہم کا مواد فراہم کیا ہے بلکہ دو مقامی سیاسی جماعتوں نے ان کی حمایت کا اعلان بھی کیا ہے۔ جس حلقے سے رادیش سنگھ ٹونی انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں وہاں ساٹھ سکھوں کے ووٹ رجسٹرڈ ہیں جبکہ ہندو ووٹر کی تعداد ساڑھے بارہ سو ہے۔ تاہم حلقہ پی کے پچھتر کے کئی اہم مسلم خاندانوں نے رادیش سنگھ ٹونی کا ساتھ دینے کا وعدہ کیا ہے۔

خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات کے بعد امیدواروں کی سرگرمیاں ذاتی حجروں اور ہوٹلز تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں۔ نگراں صوبائی حکومت کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے امیدواروں کو سیکورٹی فراہم کرنے کے لیے اقدامات اٹھائے ہیں۔

سیاسی تجزیہ نگار گوہر علی خان نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’تمام امیدواروں کو سیکورٹی فراہم کرنا اور الیکشن کو پرامن بنانا الیکشن کمیشن کی اولیں ذمہ داری ہے۔ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی اور امیدواروں کو ٹارگٹ کرنے کے واقعات نے ووٹرز کو بھی خوفزدہ کر دیا ہے اور انتخابی سرگرمیاں ماند پڑگئی ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اداروں کی جانب سے ان واقعات کی تحقیقات بھی سست روی کا شکار ہیں، جن امیدواروں کو دھمکیاں ملی ہیں اس کا ابھی تک کوئی حل تلاش نہیں کیا جا سکا۔ ‘‘

موجودہ صورتحال میں الیکشن کمیشن امیدواروں کی سیکورٹی کو مؤثر بنانے کے لیے کیا اقدامات اٹھارہی ہے؟ خیبر پختونخوا الیکشن کمیشن کے ترجمان سے بار بار رابطہ کی کوش کے باوجود اس بارے میں کوئی معلومات حاصل نہیں ہو سکیں۔ خیبر پختونخوا میں کئی دیگر سیاسی جماعتوں کو بھی سیکورٹی خدشات اور نگران حکومت کے اقدامات پر تحفظات ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے مالاکنڈ میں جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے پشاور میں انتخابی جلسوں کو بھی سیکورٹی خدشات کی وجہ سے منسوخ کرنا پڑا ہے۔ اسی طرح عوامی نیشنل پارٹی نے بھی اپنی سرگرمیاں بڑے جلسوں کی بجائے کارنر میٹنگز اور گھر گھر انتخابی مہم تک محدود کر دی ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔