لاہور پولس اور چھلڑ کا رشتہ... اکبر میو

دوست نے مرشد کو گھورتے ہوئے سرگوشی کی کہ ’’سالے بڑے چہرہ سناش، آج تجھے مرغہ بنا کے ہوسٹل لے جائیں گے‘‘۔ مرشد پے دھوبی کے چوپائے کی سی بیچارگی اور معصومیت اتر آئی۔

مرشد فیس بک استعمال نہیں کرتے بلکہ فیس ریڈنگ کرتے ہیں۔ یہ علم انہوں نے اپنی مختصر جوانی کے اوائل میں ہی حاصل کیا۔ یہ پچھلی صدی کی بات ہے۔ جس طرح نئے لاہور میں رنگ روڈ ہے اسی طرح پرانے لاہور کا بھی رنگ روڈ ہوا کرتا تھا جسکی لمبائی تقریباً چار میل سے کچھ کم تھی۔ یہ لاہور کی قدیم بیرونی دیوار کے ارد گرد حادثاتی طور پر معرض وجود میں آیا۔ لاہوریئے اسے باہڑ والی سڑک کہتے تھے۔ بھلا ہو انگریزوں کا جو انہوں نے اسے سرکلر روڈ کا نام دے دیا۔ یہ سڑک پرانے لاہور کے اردگرد اس طرح پھیلی ہوئی ہے جیسے بے فکری اور فراغت کے لمحوں میں کسی مفلس الحال محبوب نے اپنی محبوبہ کو بانہوں میں گھیرا ہو۔ چونکہ محبوبہ کثیر العیال ہے تو بہت سے بچے بانہوں سے لٹک بھی رہے ہیں، کچھ ننگ دھڑنگ کندھوں پے چڑھے ہیں۔ اس سڑک کے ساتھ ایک گول باغ بھی شہر کے اردگرد گھوما کرتا تھا۔ دھیرے دھیرے ضرورت اور غفلت باغ کو اچٹ کر گئیں۔ ویسے بھی عشق اور گنجان آبادی میں سب کچھ جائز ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ میونسپیلٹی کےعملے نے بھی حالات سے سمجھوتا کر لیا ہے۔

شہر کے تیرہ دروازے بھی اسی شاہراہ پے کھلتے تھے جن میں سے سات اب اس دنیا میں نہیں رہے۔ موری گیٹ کے بلکل سامنے اردو بازار کی مین سڑک اور کبیر اسٹریٹ بڑی عجلت میں سرکلر روڈ پے چڑھتے ہوئے آج بھی یوں ہی ٹکرا تی ہیں۔ ان کے سنگم پے کسی زمانے میں پرانی کتابوں کے اسٹال لگا کرتے تھے۔ اور یہیں سے دائیں جانب ایک راستہ نئی انارکلی کی طرف جاتے ہوئے گنپت روڈ سے ملتا ہے۔ بس اسی راسستے کے فٹ پاتھ پے علم کے وہ خزینے جناب مرشد کو میسر آئے جو انہیں ہر طرح کی مجلس میں راہ سخن ہموار کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ بلخصوص ٹیلی پیتھی ایک سائنس، تلاش حقیقت، محبت کے ایک سو ایک طریقے، نوری جادو، دائمی جنتری، منٹو کے نسوانی کردار، ستاروں کا حال، روح کی حقیقت، علم اعداد، ہیپناٹزم ، کیرو کی پامسٹری، مثالی بیوی اور کامیاب زندگی کے راز وغیرہ نمایاں مطبوعات ہیں۔

ان تصانیف اور رسائل نے مرشد کو محض تحقیق و تدبیر کی مختلف جہتیں فراہم کیں ۔ باقی مرشد نے خود اپنی کاوشوں سے علم و عمل کے لازاوال موتی سیپیوں سمیت یاداشت کے تہہ خانوں میں جمع کئے ہیں۔ چہرہ سناشی بھی ان میں سے ایک ہے۔ زمانہ طالب علمی میں یوں ہی لوگوں کو تکتے رہتے۔ ہم مرعوب تھے۔ مرشد سے کبھی استفسار نہ کیا۔ البتہ ان کے من میں خودکبھی کچھ آیا تو بتا دیتے ۔ اس شوق کے عوض انہیں اکثر و بیشتر اجنبی مردو زن سے سننے میں گالیاں اور کھانے میں مختلف انواع کے جوتے ملے۔ لیکن چہرہ سناشی کی جستجو اور لگن ماند نہیں پڑی۔

ایک دفعہ کوئی رات بارہ بجے کے بعد ہم تین دوست مانگے کی موٹر سائیکل پے فلم دیکھ کر ہاسٹل کی طرف لوٹ رہے تھے۔ مرشد سب سے پیچھے بیٹھے تھے۔ سامنے سڑک پے ایک پولس والا کھڑا تھا جس نے ہمیں رکنے کا اشارہ کیا۔ رفتار اتنی تھی کہ ہم بریک نہ لگاتے تو وہ سرکاری دم چھلا ہمیں قیامت تک نہیں پکڑ سکتا تھا۔ لیکن مرشد نے زبردستی یہ کہہ کر موٹر سائیکل رکوائی کہ وہ غریب بھٹکا ہوا راہی ہے، راستہ پوچھنا چاہ رہا ہو گا۔ سو گز سے ہم موٹر سائیکل واپس لائے تو جناب نے رکتے ہی کہا ، ’’تھلے آجاؤ‘‘۔ ہم نیچے اترے۔ دوسرے دوست نے مرشد کو گھورتے ہوئے سرگوشی کی کہ ’’سالے بڑے چہرہ سناش آج تجھے مرغہ بنا کے ہوسٹل لے جائیں گے‘‘۔ مرشد پے دھوبی کے چوپائے کی سی بیچارگی اور معصومیت اتر آئی۔

پولس والے نے بڑے اختصار سے پوچھا ’’کاغذ‘‘۔ مرشد نے اتنے ہی اختصار سے جواب دیا ’’سر معاف کردیں‘‘۔ پولس والے نے غراتے ہوئے مرشد کا کان کھینچا اور بولا ’’اوئے میں تیرے کولوں کاغذ منگے نیں، چندہ نئی‘‘۔ اپن کی تو ٹانگیں کانپنے لگیں۔ پولس والے نے فرداً فرداً تینوں کی تلاشی لی۔ کل ملا کے انچاس روپے اور مطالعہ پاکستان کے معروضی سوالات کا کتابچہ نکلا۔ ففٹی بھی پوری نہ ہوئی اور کتاب بھی آدھی تھی۔ پولس والے نے ایک جیب میں پیسے ڈالے اور دوسری جیب سے ایک شاپر نکال کر موٹر سائیکل کے فیول ٹینک کے پائپ سے جوڑ دیا۔ خوب موٹر سائیکل ہلائی، ٹنکی میں کچھ ہوتا تو نکلتا۔ جیسے ہی پولس والا کھڑا ہوا، مرشد نے اپنے دونوں کانوں پے ہاتھ رکھ لئے۔ ہمیں مرشد کی چہرہ شناسی پے اتنا یقین تھا کہ ہمارے کان خودبخود جلنے لگے۔ لیکن خلاف توقع اس نے ہمیں غصے میں کہا ’’دفعہ ہو جا ؤ، تے موٹر سائیکل ریڑھ کے لجانا جے‘‘ (یعنی یہاں سے چلتے بنیں لیکن موٹرسائیکل اسٹارٹ نہیں کرنی بلکہ اسے پیدل لے کے جانا ہے)۔ اسے گمان تھا شائد ہم اسےچھلڑ نہ کہہ دیں بھاگتے بھاگتے۔

منوشی چھلڑ (Manushi Chhilar) کے مس ورلڈ بننے تک چھلڑ ایک گالی تھی جو لاہوریوں نے پولس سے نفرت کے اظہار کے لئے ایجاد کی تھی۔ اکثر من چلے مشٹنڈے کسی بھی پولس والے کو اکیلا دیکھ کر اسکا جینا حرام کر دیتے۔ اور جب پولس والے کسی بھی ایسے بداخلاق کو پکڑنے میں کامیاب ہو جاتے تو اپنے افسروں کو بتاتے ’’سر اینے سانوں چھلڑ آکھیا اے‘‘۔ یعنی جرم کافی بڑا ہے۔ چھلڑ اردو میں پھلوں کے چھلکے کو کہا جاتا ہے جبکہ پنجابی میں پیسوں کو گننے کی ایک اکائی ہے اور بعض دفعہ حوالے کے طور پے بہت کم پیسوں کی مقدار کو بھی چھلڑ کہا جاتا ہے۔ چونکہ پولس والوں کا الو تھوڑے سے پیسوں میں سیدھا ہو جاتا ہے تو اس نسبت سے چھلڑ کا لقب پایا ہے۔ البتہ اگر چھلڑ کی بجائے چار چھلڑ کہا جائے تو اس سے مراد کافی پیسے ہوتا ہے لیکن بیک وقت اس کا مطلب چار پولس والے بھی ہو سکتا ہے۔ احتیاط لازم ہے کیونکہ ابھی پوری تبدیلی نہیں آئی۔ بس یوں ہی سمجھ لیجئے جیسے بمبئی کی انڈر ورلڈ میں پیٹی اور کھوکھا چلتا ہے لاہور کی پولس میں چھلڑ چلتا ہے، کام میں بھی دام میں بھی۔

مرشد کی سادہ دلی کے باعث ہم اس پولس والے کے ہتے تو چڑھے لیکن اب مرشد کو ہماری بھینٹ چڑھتے بیس برس بیت چکے ہیں۔ دوست احباب آج بھی انہیں کھمبا نوچنے پے مجبور کر دیتے ہیں۔ ابھی پچھلے سال مرشد نے ایک سردار کی چہرہ سناشی کا واقع سنایا۔ بلکل ہماری طرح تین سردار موٹر سائیکل پے سوار امرتسر کی بٹالہ روڈ پے جا رہے تھے کہ ٹریفک پولس کے ایک اہلکار نے انہیں رکنے کے لئے ہاتھ کا اشارہ کیا۔ سب سے پیچھے بیٹھےمرشد سردار نے ہاتھ سے نفی کا اشارہ کیا اور بولا ’’او جاندی کر بیرے ساڈے کول پہلے ہی کوئی جگہ نہیں‘‘۔

(مضمون نگار پاکستان میں ڈپٹی کمشنر اِنکم ٹیکس سیلز ٹیکس کے عہدے پر فائز ہیں، ای میل : akbarmayo@gmail.com)

سب سے زیادہ مقبول