خواجہ سرا رانی خان: بھیک اور ڈانس چھوڑ کر اسلامی مدرسہ کھول لیا!

رانی خان کے زیر انتظام چلنے والے اس مدرسے کو حکومت کی طرف سے کوئی امداد نہیں ملی، حالانکہ کچھ حکومتی عہدیداروں نے خواجہ سراؤں کے لئے ملازمت فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔

تصویر بشکریہ بی بی سی
تصویر بشکریہ بی بی سی
user

قومی آوازبیورو

اسلام آباد: خواجہ سرا برادری سے تعلق رکھنے والی رانی خان نے پاکستان میں ایک اسلامی مدرسہ کھول کر محض اپنا ہی نہیں بلکہ اپنی پوری برادری کے لئے ایک الگ سوچ پیدا کرنے کا کام کیا ہے۔ رانی خان نے تقریباً دو سال پہلے اپنی کمیونٹی کے لوگوں کو دینی تعلیم دینے کا بیڑہ اٹھایا۔ اس کے لئے انہوں نے پہلے خود گھر اور دینی مدارس میں قرآن پاک کی تعلیم حاصل کی اور پھر اپنے وسائل سے دو کمروں کا مدرسہ کھولا جہاں اب متعدد خواجہ سرا دینی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

ایک ویب سائٹ پر شائع ہونے والے مضمون کے مطابق اسلام آباد سے تعلق رکھنے والی رانی خان بھی عام خواجہ سراؤں کی طرح اپنا گزر بسر کرنے کے لیے بھیک مانگی، شادی بیاہ اور دیگر تقریبات میں ڈانس بھی کیا، لیکن اپنی ایک دوست کی ہلاکت کے چند روز بعد آنے والے خواب نے ان کی شخصیت بدل دی کیونکہ خواب میں فوت شدہ دوست نے انہیں ڈانس چھوڑنے کے لئے کہا۔ رانی کے بقول اس خواب نے ان کی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کیے اور دین کی جانب اس کا رجحان بڑھنے لگا اور دینی تعلیم سے ان کے دل کو سکون میسر ہوا، چنانچہ انہوں نے اپنی کمیونٹی کے افراد کو قرآن پاک کی تعلیم سے آراستہ کرنے کا فیصلہ کیا۔

رانی خان کے زیر انتظام چلنے والے اس مدرسے کو حکومت کی طرف سے کوئی امداد نہیں ملی، حالانکہ کچھ حکومتی عہدیداروں نے خواجہ سراؤں کے لئے ملازمت فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ تاہم رانی خان اپنے مدرسے میں زیر تربیت خواجہ سراؤں کو سلائی کڑھائی کرنا بھی سیکھا رہی ہیں، تاکہ وہ کپڑے بیچ کر اسکول کے لئے فنڈز جمع کرسکیں۔ اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر حمزہ شفقت نے رانی خان کے مدرسے کھولنے کے اقدام کو سراہتے ہوئے رائٹرز کو بتایا کہ اس مدرسے کے ماڈل کو دوسرے شہروں میں بھی بنانا چاہیے اس طرح معاشرے میں بہتری آئے گی۔

یاد رہے کہ پاکستان کی پارلیمنٹ نے 2018 میں تیسری صنف کو تسلیم کیا جس کے بعد انہیں ووٹ ڈالنے اور جنس منتخب کرنے جیسے بنیادی حقوق حاصل ہوئے۔ بہرحال بنیادی حقوق کے باوجود خواجہ سراؤں کو روزی کمانے کے لئے بھیک مانگنے، ناچنے اور جسم فروشی کا سہارا لینا پڑتا ہے۔

پاکستان کے علاوہ بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں بھی ٹرانس جینڈر کے لئے ایک مذہبی اسکول کھولا گیا۔ جب کہ پچھلے سال پاکستان میں عیسائی کمیونٹی کے ٹرانس جینڈر گروپ نے عیسائی برادری کی دینی تعلیم کے لئے چرچ کھول لیا۔ خیال رہے کہ پاکستان میں 2017 کی مردم شماری کے مطابق 10000 ٹرانس جینڈر ریکارڈ کیے گئے، اس حوالے سے ٹرانس رائٹس گروپس کا کہنا ہے کہ اب 220 ملین آبادی کے ملک میں یہ تعداد 300000 سے زیادہ ہو سکتی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔