عمران خان تیل کمپنیوں کی کٹھ پتلی ، قیمتیں گھٹانے کے بعد پھرکیااضافہ

تیل کمپنیوں پر چارکروڑروپے کاجرمانہ لگاکر ان کمپنیوں کو نئے اعلان سے حکومت نے سات سو کروڑ روپے کا فائدہ پہنچا دیا ہے

سوشل میڈیا
سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

ہندوستان میں پیٹرول اورڈیزل کی قیمتوں میں مستقل اضافہ جاری ہےجبکہ پڑوسی ملک پاکستان میں وہاں کی حکومت نے کووڈ بحران اور عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں گراوٹ کے پیش نظر پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں زبردست کمی کردی تھی لیکن اب اچانک ان کی قیمتوں میں اضافہ کردیاگیا ہے۔

واضح رہےپاکستانی وزارتِ خزانہ کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلامیہ جمعہ کی شام جاری ہوا تھاجس کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 25.38 روپے فی لیٹر، ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 21.31 روپے فی لیٹر، مٹی کے تیل کی قیمت میں 23.50 روپے فی لیٹر اور لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت میں 17.84 روپے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا ہے۔اس سے قبل پاکستانی حکومت نے پیٹرول کی قیمتوںمیں تیس روپے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمتوں میں بیالیس روپے فی لیٹر کم کئے تھے۔

وزارتِ خزانہ کے اعلان کے مطابق نئے حکم کے بعد پیٹرول کی قیمت 74.52 روپے سے بڑھ کر 100.10 روپے فی لیٹر، ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 80.15 روپے سے بڑھ کر 101.46 روپے فی لیٹر، مٹی کے تیل کی قیمت 35.56 روپے سے بڑھ کر 59.06 روپے فی لیٹر اور لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت 38.14 روپے سے بڑھ کر 55.98 روپے فی لیٹر ہو گئی ہے۔

پاکستان میں گزشتہ ایک ماہ سے پیٹرول کا بحران ہے جو گزشتہ ماہ حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے بعد سے شروع ہوا تھا۔

ماہِ جون کا اغاز ہوتے ہی ملک بھر کے پیٹرول پمپس پر پیٹرول کی قلت پیدا ہو گئی تھی جس کے بعد وزیرِ اعظم عمران خان نے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے خلاف مصنوعی قلت پیدا کرنے پر تحقیقات شروع کرنے کا حکم دیا تھا۔

اس معاملے کی تحقیقات کے نتیجے میں معلوم ہوا کہ بعض آئل کمپنیز نے پیٹرول اسٹاک کر لیا تھا اور عوام کو سپلائی کے لیے فراہم نہیں کیا تھا جس کی وجہ سے ملک بھر میں پیٹرول کی قلت پیدا ہوئی۔ وزارتِ پیٹرولیم نے اس سلسلے میں تحقیقات کے بعد بعض کمپنیوں کو ذمہ دار قرار دیا تھا اور حکومت نے ان کمپنیوں پر چار کروڑ روپے جرمانہ بھی عائد کیا تھا۔

پاکستانی حزب اختلاف کاکہنا ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں صفر ہو جانے کے بعد بھی پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اس حد تک کمی نہیں کی گئی جس قدر توقع کی جا رہی تھی اور تیل کمپنیوں پر چارکروڑروپے کاجرمانہ لگاکر ان کمپنیوں کو نئے اعلان سے حکومت نے سات سو کروڑ روپے کا فائدہ پہنچا دیا ہے۔ جس طرح سے پاکستان میں پیٹرول کی قیمتوں کو کم کرنے کے کچھ روز بعد ہی ان کی قیمتوں کوبڑھانا پڑا اس سے صاف ظاہر ہوجاتاہے کہ پاکستانی حکومت کتنی مجبورہے ان کمپنیوں کےآگے۔واضح رہے حکومت نے ان کمپنیوں کوفائدہ پہنچانے کے لئے مقررہ تاریخ سےچار روز پہلے ہی قیمتیں بڑھا دی ہیں کیونکہ پاکستان میں ہر ماہ کی پہلی تاریخ کوہی ان قیمتوں میں تبدیلی کا اعلان کیاجاتا ہے۔