عمران خان کا غیر ذمہ دارانہ بیان، جنسی درندگی میں ملوّث افراد کو نامرد بنا دینا چاہئے

برطانیہ میں فحاشی بڑھنے سے اس وقت طلاق کی شرح 70فی صد تک پہنچ چکی ہے۔ان کا خاندانی نظام ٹوٹ رہا ہے لیکن ہمارا خاندانی نظام ابھی بچا ہوا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا بشکریہ دی نیوز ڈاٹ کام
تصویر سوشل میڈیا بشکریہ دی نیوز ڈاٹ کام
user

قومی آوازبیورو

اپنے دور کے بہترین آل راؤنڈر اور پاکستان کے وزیر اعظم عمران نے کل ٹی وی پرایک انٹرویو کے داران انتہائی غیر ذمہ دارانہ اور بچکانا بات کہی ۔ انہوں نے کہا کہ خواتین اور بچّوں سے جنسی زیادتی کے واقعات میں ملوّث افراد کو عبرت آموز سخت سزائیں دینی چاہئے اور ایسے مجرموں کو چوک میں سرعام تختہ دار پر لٹکایا جائے یا انھیں کیمیائی مواد کے استعمال سے نامرد بنا دیا جائے۔

عمراں خان جواب دیتے وقت یہ بھول گئے کہ وہ خود وزیر اعظم ہیں اور ان کی قیادت میں ہی پاکستانی حکومت کام کرتی ہے اس لئے ان کو مشورہ نہیں بلکہ اس جانب قدم اٹھانے چاہئے۔ دوسرا یہ کہ انہیں علم ہی نہیں کہ پوری دنیا میں پھانسی کی سزا کی مخالفت کی جاتی ہے۔

کل انہوں نے ایک نجی ٹی وی چینل ’’92 نیوز‘‘ کے پروگرام ’ہارڈ ٹاک‘ پاکستان کے میزبان ڈاکٹر معید پیرزادہ کو خصوصی انٹرویو دیا ۔ انھوں نے مختلف موضوعات کے بارے میں تفصیل سے بات کی ہے لیکن ان کی گفتگو کا مرکزی موضوع لاہور، سیال کوٹ موٹروے پر گذشتہ ہفتے پیش آنے والے افسوس ناک واقعہ تھا۔

اس حوالے سے سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ ’’جنسی زیادتی کے واقعے میں ملوّث مجرموں کو مثالی سزا دینی چاہیے، میرے خیال میں اسے چوک پر سرعام پھانسی دینی چاہیے اور یہ سزا خواتین کی عصمت ریزی اور بچوں سے غیر فطری فعل کرنے والوں کے لیے مخصوص ہونی چاہیے۔‘‘

انھوں نے کہا کہ ’’بدقسمتی سے جب ہم نے اس موضوع پر بحث وتمحیص کی تو ہمیں بتایا گیا کہ بین الاقوامی سطح پر سرعام پھانسی کی سزا قابل قبول نہیں ہو گی اور یورپی یونین کی جانب سے دیا جانے والا جی ایس پی پلس اسٹیٹس بھی خطرے میں پڑ جائے گا۔‘‘

انھوں نے کہا کہ اس کے علاوہ زنا بالجبر کے مجرموں کو کیمیائی یا سرجیکل طریقے سے نامرد بنانے کی تجویز بھی زیرغور ہے اور ایسا کئی ملکوں میں کیا جا رہا ہے۔انھوں نے بعد میں اس ضمن میں مجوزہ قانون کی منظوری دے دی ہے۔اب اس کی بنیاد پر ایک مسودہ قانون تیار کیا جارہا ہے۔

وزیراعظم نے نشان دہی کی کہ ’’موٹر وے اجتماعی ریپ کا مرکزی ملزم 2013 ء میں بھی گینگ ریپ کے ایک واقعہ میں ملوّث رہ چکا ہے۔ معاشرے کو اس طرح کے مجرموں سے مستقل بنیاد پر پاک کرنے کے لیے ہمیں نئی قانون سازی کی ضرورت ہے۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ ’’جنسی جرائم کے مجرموں کا صرف پولیس نہیں بلکہ پورے معاشرے کو مقابلہ کرنا چاہیے، دنیا کی تاریخ بتاتی ہے کہ جب کسی معاشرے میں فحاشی بڑھتی ہے تو دو چیزیں ہوتی ہیں:جنسی جرائم بڑھ جاتے ہیں اور دوسرا، خاندانی نظام تباہ ہو جاتا ہے۔‘‘

عمران خان نے اس کی مثال بھی دیتے ہوئے کہا کہ برطانیہ میں فحاشی بڑھنے سے اس وقت طلاق کی شرح 70فی صد تک پہنچ چکی ہے۔ان کا خاندانی نظام ٹوٹ رہا ہے لیکن ہمارا خاندانی نظام ابھی بچا ہوا ہے۔ (العربیہ ڈاٹ نیٹ کے انپٹ کے ساتھ)

next