صحت کے ساتھ کھلواڑ: پاکستان میں بغیر ڈگری والے 6 لاکھ ڈاکٹر کر رہے علاج
پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے مطابق ملک میں 6 لاکھ سے زیادہ فرضی ڈاکٹر فعال ہیں۔ سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن نے بھی ان اعداد و شمار کی تصدیق کی ہے۔

پاکستان کے گاؤں قصبوں میں علاج کے نام پر ایک خطرناک کھیل چل رہا ہے۔ بغیر ڈگری، بغیر لائسنس اور بغیر کسی نگرانی کے ہزاروں لوگ خود کو ڈاکٹر بتا کر مریضوں کا علاج کر رہے ہیں۔ اس پورے بحران کا سب سے زیادہ نقصان غریب اور کم پڑھے لکھے خاندانوں کو اٹھانا پڑتا ہے۔ صحیح علاج نہ ملنے سے موت، مستقل معذوری اور بھاری اسپتال خرچ جیسے مسائل سامنے آتے ہیں۔
صوبہ جنوبی سندھ میں حیدرآباد کے آس پاس کے علاقوں میں سڑک کنارے چھوٹے چھوٹے کلینک عام نظر آتے ہیں۔ ان میں نہ تو کسی طرح کا سائن بورڈ ہوتا ہے اور نہ ہی ڈاکٹروں کا کوئی رجسٹریشن نمبر۔ ان کے پاس مریضوں کا ہجوم لگا رہتا ہے، جن میں بچے، خواتین اور بزرگ شامل ہوتے ہیں۔ ان میں سے کئی کلینک ایسے لوگ چلا رہے ہیں جنہوں نے کبھی اسپتال میں اسسٹنٹ یا نرس کے طور پر کام کیا ہوتا ہے، لیکن ڈاکٹر بننے کی قانونی اہلیت نہیں رکھتے۔
پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے مطابق ملک میں 6 لاکھ سے زیادہ فرضی ڈاکٹر فعال ہیں۔ سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن نے بھی ان اعداد و شمار کی تصدیق کی ہے۔ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن اور سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کے تخمینوں کے مطابق پورے ملک میں 6 لاکھ سے زیادہ فرضی ڈاکٹر فعال ہیں۔ یہ لوگ محدود تجربے کی بنیاد پر بیماریوں کا علاج کرتے ہیں، بغیر یہ سوچے سمجھے کہ دواؤں کے سائیڈ ایفیکٹس اور صحیح مقدار کیا ہونی چاہیے۔ غلط تشخیص اور لاپرواہی سے کیا گیا علاج کئی معاملوں میں مریضوں کی حالت کو مزید سنگین بنا دیتا ہے۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ان غیر قانونی کلینکس میں استعمال ہونے والے طبی آلات کو صحیح طریقے سے جراثیم سے پاک نہیں کیا جاتا۔ کئی جگہوں پر سرنج اور دیگر آلات بار بار استعمال کیے جاتے ہیں۔ اس سے ہیپاٹائٹس اور ایچ آئی وی جیسی بیماریوں کے پھیلنے کا خطرہ تیزی سے بڑھ رہا ہے، جو پہلے سے ہی پاکستان کے عوامی صحت کے چیلنج کو مزید سنگین بنا رہا ہے۔
فرضی ڈاکٹروں کے غلط علاج کا براہ راست اثر بڑے سرکاری اسپتالوں پر پڑ رہا ہے۔ ملک کے بڑے ٹرشری کیئر اسپتالوں میں ایسے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، جن کی حالت پہلے ہی خراب ہو چکی ہوتی ہے۔ اس سے سرکاری اسپتالوں پر اضافی بوجھ پڑتا ہے اور وسائل کی کمی مزید شدت سے محسوس ہونے لگتی ہے۔
صحت کے نگراں ادارے اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ ان کے پاس محدود وسائل ہیں۔ غیر قانونی کلینکس کو بند کرنے پر اگلے ہی دن نئے کلینک کھل جاتے ہیں۔ قانون کی کمزوری کی وجہ سے ملزم آسانی سے ضمانت پر رہا ہو جاتے ہیں۔ کئی علاقوں میں معائنہ کرنے والی ٹیموں کو سیکورٹی کے خطرات کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے، جس کی وجہ سے کارروائی مزید مشکل ہو جا تی ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔