عمران خان نے اختیار کی بی جے پی کی حکمت عملی، فرضی خبر کو بنایا ہتھیار!

2018 میں پاکستان تحریک انصاف کے اقتدار میں آنے کے بعد سے ان کے سرکاری افسران اور وزراء نے اکثر ان خبروں کو خارج کر دیا جن سے وہ متفق نہیں ہیں، اس کا پتہ جیو ٹی وی کی ایک رپورٹ سے چلتا ہے۔

عمران خان، تصویر یو این آئی
عمران خان، تصویر یو این آئی
user

قومی آوازبیورو

2018 میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے برسراقتدار ہونے کے بعد وزیر اعظم عمران خان کے افسران اور ان کے وزراء نے اکثر ان خبروں کو خارج کر دیا جن سے وہ متفق نہیں ہوئے۔ جیو ٹی وی کی ایک رپورٹ نے اس تعلق سے ایک رپورٹ میں جانکاری دی۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ’’فرضی خبر کو ہتھیار بنایا گیا ہے اور اس کا استعمال پاکستانی صحافیوں اور میڈیا آؤٹ لیٹس کے خلاف ان کوریج پر روک لگانے کے لیے کیا گیا ہے جو سرکاری افسران کو خراب یا تنقید پر محمول لگتا ہے۔‘‘

جیو ٹی وی نے ان رپورٹس کی مثالیں بھی پیش کی ہیں جنھیں برسراقتدار پارٹی نے ’فرضی خبر‘ کی شکل میں پہچان کی تھی، لیکن حقیقی معنوں میں ایسا نہیں تھا۔ اکتوبر 2018 میں پاکستان کے انفارمیشن اینڈ براڈکاسٹنگ وزارت کے ذریعہ ’فرضی خبروں کو ظاہر کرنے‘ کے مقصد سے فیک نیوز بسٹر نامی ایک ٹوئٹر اکاؤنٹ بنایا گیا تھا۔


رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اکاؤنٹ نے پاکستان کے سرگرم صحافیوں کے ذریعہ بار بار خبروں اور اطلاعاتی ٹوئٹس کو ٹیگ کیا گیا ہے، جس میں ان پر غلط تشہیر (افواہ) پھیلانے کا الزام لگایا گیا ہے اور اس عمل میں انھیں ٹرولنگ اور آن لائن غلط سلوک کی زد میں لیا گیا ہے۔ منگل کے روز جب ملک بھر کے صحافی ایک مجوزہ قانون کی مخالفت کر رہے تھے، جو پاکستان کی آزاد میڈیا پر زیادہ کنٹرول چاہتا ہے اور اظہار رائے کی آزادی پر نکیل کستا ہے۔ اس پر وزیر فواد چودھری نے ایک ٹوئٹ میں پوچھا ہے کہ ’فرضی خبر‘ کا مقابلہ کرنے کے لیے قانون کیسے میڈیا کے خلاف ہو سکتا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔