انقلابی شاعر حبیب جالب کی بیٹی ٹیکسی چلانے پر مجبور

طاہرہ حبیب جالب

اردو کے انقلابی شاعر حبیب جالب کی بیوہ کا ماہانہ وظیفہ بند ہونے کی وجہ سے ان کی بیٹی طاہرہ حبیب جالب ٹیکسی چلانے پر مجبور ہیں۔

انقلابی شاعر حبیب جالب کی بیٹی طاہرہ حبیب جالب اس وقت لاہور میں نجی ٹیکسی سروس کی کیپٹن کے طور پر کام کر رہی ہیں جس کی آمدن سے ان کا گزر بسر ہوتا ہے، یہ گاڑی بھی انہوں نے بینک سے قرض لے کر خریدی ہے۔

رپورٹس کے مطابق ان کی والدہ کا ماہانہ وظیفہ 25 ہزار روپے تھا جو کہ 2014 میں پنجاب میں شہباز شریف کے دور حکومت میں بند ہوگیا تھا، ان کا مطالبہ ہے کہ موجودہ حکومت ان کا وظیفہ دوبارہ شروع کرے۔

ڈان نیوز کے مطابق طاہرہ حبیب جالب کا کہنا تھا کہ والدہ کے انتقال سے کچھ عرصہ قبل ہی وظیفہ بند کردیا گیا تھا، یہ وظیفہ شعرا حضرات کے کوٹے سے پنجاب حکومت ادا کیا کرتی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ کچھ شرائط ہوتی ہیں جن کے تحت جون میں بجٹ پاس ہونے کے بعد اگست-ستمبر تک انتظار کرنا پڑتا ہے چونکہ وظیفہ پہلے ہی سے رکا ہوا تھا اور جب وہ ملنا شروع ہوا تو والدہ انتقال کرگئی تھیں۔

حبیب جالب کی صاحبزادی نے بتایا کہ 2014 میں والدہ کے انتقال کے بعد وظیفہ بند ہونا یقینی تھا کیونکہ وہ بیگم جالب کے نام سے آتا تھا۔

انہوں نے کہا کہ محنت مزدوری کرنے میں کوئی برائی نہیں میں حبیب جالب صاحب کی بیٹی ہوں اور انہوں نے تاحیات اصولوں پرسمجھوتہ نہیں کیا۔

طاہرہ جالب نے مزید کہا کہ میں حبیب جالب کے اصولوں کو لے کر چل رہی ہوں اور کبھی اصولوں کے برخلاف سمجھوتا نہیں کرتی۔

انہوں نے بتایا کہ میں نجی ٹیکسی سروس کریم میں کیپٹن ہوں جس کے لیے مجھے 8 سے 10 گھنٹے آن لائن ہونا پڑتا ہے، میں محنت مزدوری کرکے گزر بسر کررہی ہوں۔

طاہرہ حبیب جالب کی حکومت سے درخواست ہے کہ معاشرے کے نچلے طبقے کی سوچیں اور کچھ ایسا نظام متعارف کروایا جائے تاکہ غریبوں کو دو وقت کی روٹی کمانا آسان ہوجائے۔

حبیب جالب کی پیدائش غیر منقسم ہندوستان کے ضلع ہوشیارپور میں 24 مارچ 1828 میں ہوئی تھی۔ تقسیم وطن کے بعد وہ پاکستان چلے گئے جہاں انہوں نے ایک اردو اخبار میں پروف ریڈر کی حیثیت سے کام کیا۔وہ ایک ترقی پسند انقلابی شاعر تھے جو فوجی تانا شاہی کے خلاف ایک بڑی آواز بن کر ابھرے۔ انہوں نے جنرل ایوب خان اور جنر ضیاالحق کے خلاف کھل کر اپنے خیالات کا اظہار کیا اور جنرل ضیا نے ان کو کئی مرتبہ جیل میں اس لئے بند کیا کیونکہ وہ ان کی حکومت کے خلاف شاعری کرتے تھے۔ ان کو نہ صرف گرفتار کیا گیا بلکہ متعدد مرتبہ پولس نے ان کو زدو کوب بھی کیا۔

ڈان اخبار نے لکھا تھا کہ ایک مرتبہ ان کو جیل میں قلم اور کاغذ دینے سے انکار کر دیا تو اس پر حبیب جالب نے جواب دیا کہ ’’میں اپنی شاعری گارڈ کو سنا دیتا ہوں اور وہ سب کو سنا دے گا اور پھر پورے لاہور میں پہنچ جائے گی‘‘۔ حبیب جالب کا انتقال 1993 کو ہو گیا تھا۔

سب سے زیادہ مقبول