جموں و کشمیر سے دفعہ 370 ہٹنے کا پاکستان پر پڑا منفی اثر، شیئر بازار میں کہرام

خبروں کے مطابق جموں و کشمیر سے دفعہ 370 ہٹائے جانے کی خبروں کے بعد پاکستانی شیئر بازار کا بنچ مارک انڈیکس کے ایس ای 100 میں زوال دیکھنے کو ملا اور وہ 600 سے زیادہ پوائنٹ ٹوٹ گیا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

جموں و کشمیر سے دفعہ 370 ہٹانے اور ریاست کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کے مودی حکومت کے فیصلے سے جہاں ملک میں افرا تفری کا ماحول برپا ہو گیا ہے، وہیں پاکستان پر بھی اس کے منفی اثرات مرتب ہوتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے جیسے ہی جموں و کشمیر سے دفعہ 370 کو ختم کرنے کی بات راجیہ سبھا میں کہی، پاکستانی شیئر بازار میں کہرام سا مچ گیا۔

پاکستان سے موصول ہونے والی خبروں کے مطابق جموں و کشمیر سے دفعہ 370 ہٹائے جانے کی خبروں کے بعد پاکستانی شیئر بازار کا بنچ مارک انڈیکس کے ایس ای 100 میں زوال دیکھنے کو ملا اور وہ 600 سے زیادہ پوائنٹ ٹوٹ گیا۔ خبروں کے مطابق پیر کے روز پاکستانی شیئر بازار کی ٹھیک ٹھاک شروعات ہوئی تھی اور کے ایس ای 100 صبح میں 31666.41 کی سطح پر کھلا تھا۔ بعد ازاں جیسے ہی وزیر داخلہ نے پارلیمنٹ میں دفعہ 370 کی پہلی دو شقوں میں ترمیم کی تجویز پیش کی اور اس پر صدر جمہوریہ نے فوراً اپنی مہر لگا دی، اس خبر سے پاکستانی شیئر بازار میں کھلبلی مچ گئی اور کاروبار کے دوران انڈیکس 687.45 پوائنٹ ٹوٹ کر 30978.96 کی سطح پر پہنچ گیا۔ یہ آج کے دن کی سب سے ذیلی سطح ہے۔

ویسے پاکستانی شیئر بازار کے تعلق سے بلوم برگ کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ دنیا میں سب سے خراب کارکردگی پیش کرنے والا شیئر بازار ہے۔ دراصل پاکستان کا شیئر بازار گزشتہ دو سال میں برے دور سے گزرا ہے اور سرمایہ کاروں کے تقریباً 688000 کروڑ پاکستانی روپے ڈوب گئے ہیں۔