القاعدہ کو ٹریننگ دینے کا پاکستانی پی ایم نے کیا اعتراف، اَمریکہ سے ناخوش نظر آئے عمران

عمران خان کا کہنا ہے کہ ’’1980 میں سوویت سَنگھ کے وقت افغانستان مسئلہ پر پاکستان نے امریکہ کا ساتھ دیا۔ سوویت کے خلاف جہاد کے لیے پاکستانی فوج نے کچھ لوگوں کو ٹریننگ دی جو بعد میں القاعدہ بن گیا۔‘‘

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے پیر کے روز کاؤنسل آف فورن رلیشنز (سی ایف آر) میں کئی ایشوز پر بات کی اور کھل کر اپنی باتیں سامنے رکھیں۔ اس درمیان عمران خان نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ سوویت سَنگھ میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے القاعدہ کو پاکستانی فوج اور خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی نے ٹریننگ دی تھی۔ قابل ذکر ہے کہ اس بات کا اعتراف پی ایم عمران خان پہلے بھی کر چکے ہیں اور اس سلسلے میں انھوں نے امریکہ سے ناخوشی کا بھی اظہار کیا۔

پاکستانی پی ایم نے نیو یارک میں میڈیا کے کئی سوالوں کا جواب دیا اور کچھ سوالات نے تو عمران خان کو شرمندہ بھی کیا۔ ایک سوال کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ ’’1980 میں سوویت سَنگھ کے وقت افغانستان کے مسئلہ پر پاکستان نے امریکہ کا ساتھ دیا۔ سوویت کے خلاف جہاد کرنے کے لیے پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی نے کچھ لوگوں کو ٹریننگ دی اور بعد میں یہ گروپ القاعدہ بن گیا۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’1989 میں جب سوویت نے افغانستان چھوڑ دیا تو بعد میں امریکہ نے بھی ساتھ چھوڑ دیا۔ لیکن یہ دہشت گرد تنظیم پاکستان میں ہی رہی۔ پھر جب نیو یارک میں 11/9 کا حملہ ہوا اور ایک بار پھر پاکستان امریکہ کے ساتھ آیا، تو معاملہ خراب ہو گیا۔ یہی سبب ہے کہ ہمیں بار بار جھٹکا لگتا رہا۔‘‘

عمران خان نے میڈیا کے سامنے امریکہ کے سابق وزیر دفاع جیمس میٹس کے ایک تبصرہ کے تعلق سے بتایا کہ امریکہ کے لیڈر کو سمجھنا چاہیے کہ پاکستان کٹرپسند کیوں بنا۔ انھوں نے کہا کہ ہماری غلطی تھی کہ 11/9 کے بعد افغانستان کے ساتھ لڑائی میں ہم نے امریکہ کا ساتھ دیا۔ پاکستان نے 11 ستمبر 2001 کو امریکہ میں القاعدہ کے حملوں کے بعد شورش پسندی کے خلاف جنگ میں امریکہ کا ساتھ دے کر بڑی غلطی کی۔

Published: 24 Sep 2019, 12:10 PM