پاکستان کے مایہ ناز اسپن گیندباز عبدالقادر کی بے وقت موت سے دنیائے کرکٹ غمزدہ

عبدالقادر 15 ستمبر 1955 کو پاکستان کے لاہور میں پیدا ہوئے تھے۔ پاکستان کی طرف سے انھوں نے کل 67 ٹیسٹ میچ اور 104 یک روزہ میچ میں پاکستانی ٹیم کی نمائندگی کی اور ٹیم کو فخر کے کئی مواقع فراہم کیے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

جمعہ کی رات پاکستان کو اس وقت زبردست دھچکا پہنچا جب مایہ ناز اسپن گیندباز عبدالقادر کے انتقال کی خبر سوشل میڈیا پر گشت کرنے لگی۔ پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق لیگ اسپنر عبدالقادر کی موت 63 سال کی عمر میں ہوئی اور وہ اس وقت لاہور میں تھے۔ انتقال کی خبر سوشل میڈیا پر پھیلتے ہی دنیائے کرکٹ میں غم کی لہر دوڑ گئی اور کئی سابق و موجودہ کرکٹروں نے ان کی روح کے سکون اور اہل خانہ کے صبر کی دعا کی۔

عبدالقادر 15 ستمبر 1955 کو پاکستان کے لاہور میں پیدا ہوئے تھے اور پاکستان کی طرف سے انھوں نے کل 67 ٹیسٹ میچ کھیلے۔ عبدالقادر نے 104 یک روزہ کرکٹ میچ میں بھی پاکستانی ٹیم کی نمائندگی کی اور ٹیم کو کئی فخر کا موقع میسر کیا۔ ٹیسٹ میچ میں عبدالقادر کے نام کل 236 وکٹ ہیں جب کہ انھوں نے یک روزہ میچوں میں 132 وکٹ لیے۔

عبدالقادر کو جادوئی لیگ اسپنر تصور کیا جاتا تھا کیونکہ انھوں نے اپنی گیندوں سے دنیا کے اچھے بلے بازوں کو بھی چکما دیا۔ ان کی قابلیت کا اندازہ اسی بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انھوں نے ٹیسٹ میچ کی ایک پاری میں 9 وکٹ لینے کا کارنامہ بھی انجام دیا ہے۔ انھوں نے انگلینڈ کے خلاف 1987 میں ٹیسٹ کی ایک پاری میں 56 رن دے کر 9 بلے بازوں کو آؤٹ کیا تھا۔ عبدالقادر نے پاکستان کے لیے دو عالمی کپ ٹورنامنٹ بھی کھیلے، جن میں انھوں نے اپنی کارکردگی سے لوگوں کو حیران کیا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے عبدالقادر کے انتقال کی خبر جیسے ہی سوشل میڈیا پر دی، یہ وائرل ہو گیا۔ بورڈ نے عبدالقادر کے اہل خانہ اور ان کے دوستوں کے تئیں ہمدردی کا اظہار کیا۔ پاکستان کے ایک اسپورٹس جرنلسٹ صادق نے اپنے ٹوئٹر ہینڈل سے عبدالقادر سے متعلق کئی یادوں کو شیئر کیا ہے اور انھوں نے ایک ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ ’’یہ خبر افسوسناک ہے کہ لیجینڈ عبدالقادر کا انتقال ہو گیا۔ وہ ایک فنکار تھے، ایک جادوگر تھے، ایک بہترین گیندباز تھے اور متعدد لیگ اسپن گیندبازوں کے لیے رول ماڈل تھے۔‘‘

اپنی بہترین لیگ اسپن کے لیے مشہور آسٹریلیا کے سابق گیندباز شین وارن نے بھی عبدالقادر کے انتقال پر افسوس ظاہر کیا ہے۔ انھوں نے عبدالقادر سے ایک ملاقات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’عبدالقادر کے انتقال کی خبر افسوسناک ہے۔ 1994 میں جب میں نے پاکستان کا پہلا دورہ کیا تھا تو ان سے ملاقات کا موقع ملا تھا۔ میں نے دیکھا کہ کئی لوگوں نے اسی انداز میں گیندبازی کی ہے جیسے کہ میں نے کیا ہے، اور جیسا کہ میں نے انھیں دیکھ کر کیا ہے۔ وہ ایک بے مثال گیندباز تھے جنھوں نے بے شمار بلے بازوں کو چکما دیا۔‘‘

پاکستان کے بائیں ہاتھ کے سابق تیز گیندباز وسیم اکرم نے ان کے انتقال کی خبر پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے ٹوئٹ کیا ہے کہ ’’انھیں (عبدالقادر کو) ہم کئی وجوہات کی بنا پر جادوگر کہتے تھے۔ ایک بار انھوں نے میری آنکھوں میں دیکھ کر کہا تھا کہ میں پاکستان کے لیے اگلے 20 سالوں تک کھیلوں گا، پھر مجھے بھروسہ ہو گیا۔ وہ واقعی میں ایک جادوگر تھے۔ ایک بہترین لیگ اسپنر اور اپنے وقت کے موجد گیندباز تھے۔ آپ عبدالقادر کو مِس کر سکتے ہیں لیکن کبھی بھول نہیں سکتے۔‘‘

ہندوستان کے آف اسپن گیندباز ہربھجن سنگھ نے عبدالقادر کی بے وقت موت پر ان کے اہل خانہ کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے ٹوئٹ کیا ہے کہ ’’یہ خبر تکلیف دہ ہے کہ عبدالقادر کا انتقال ہو گیا۔ میں ان سے دو سال پہلے ملا تھا اور ہمیشہ کی طرح ان کے اندر بھرپور توانائی تھی۔ وہ ایک چمپئن گیندباز تھے اور ایک بہترین انسان تھے۔ ان کے اہل خانہ کے ساتھ میری ہمدردی ہے۔‘‘ ہندوستان کے سابق کرکٹر محمد کیف نے بھی عبدالقادر کے انتقال پر اظہار غم کیا اور ان کے کنبہ کے لیے دعائیں کیں۔