پاکستان مقبوضہ کشمیر میں ریلی نکال رہے لوگوں پر پولس لاٹھی چارج، 2 کی موت درجنوں زخمی

ریلی نکال رہے لوگوں پر بے رحمانہ لاٹھی چارج کے بعد پاکستانی پولس نے مظفر آباد واقع پریس کلب پر چھاپہ ماری بھی کی جہاں پریس کانفرنس ہو رہا تھا۔ اس دوران کئی صحافیوں کو بھی چوٹ پہنچی۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

پاکستان مقبوضہ کشمیر کی راجدھانی مظفر آباد میں ایک ریلی کے دوران پولس کے ذریعہ کی گئی بے رحمانہ لاٹھی چارج میں دو لوگوں کی موت واقع ہو گئی ہے۔ میڈیا ذرائع کے مطابق مظفر آباد میں اس ریلی کا انعقاد ایک سیاسی پارٹی کی تنظیم آل انڈیپنڈنٹ پارٹیز الائنس (اے آئی پی اے) نے کیا تھا۔ اس ریلی کا مقصد پاکستان مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کو آزادی دلانے کا مطالبہ کرنا تھا۔ اس ریلی پر پولس نے زبردست لاٹھی چارج کر دیا جس کی وجہ سے نہ صرف 2 لوگوں کی موت واقع ہو گئی بلکہ 80 سے زائد افراد زخمی بھی ہو گئے۔

بتایا جاتا ہے کہ پاکستانی فوج نے 22 اکتوبر 1947 کو جموں و کشمیر کے کچھ علاقوں میں جبراً گھس کر اس پر اپنا قبضہ جما لیا تھا۔ اس دراندازی کو 72 سال 22 اکتوبر 2019 کو پورے ہوئے۔ اسی کے پیش نظر بڑی تعداد میں احتجاجی مظاہرہ مظفر آباد میں منگل کے روز کیا گیا۔ کچھ سیاسی پارٹیاں اس دن کو یومِ سیاہ کی شکل میں مناتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ مظفر آباد سیاسی پارٹیوں کی ریلی میں لاٹھی چارج کے بعد پولس نے یہاں کے پریس کلب میں چھاپہ مارا۔ اس دوران کئی صحافیوں کو بھی چوٹ پہنچی ہے۔ صحافیوں کا الزام ہے کہ ان کو قصداً پیٹا گیا ہے اور ان کے کیمرے و دیگر سامانوں کو پولس نے توڑ دیا ہے۔

قابل غور یہ بھی ہے کہ پولس نے یہ چھاپہ ماری ایسے وقت میں کی جب مظفر آباد میں جموں و کشمیر پیپلز نیشنل ایلائنس کی پریس کانفرنس چل رہی تھی۔ مظفر آباد میں ایک دن میں یہ دوسرا واقعہ ہے جس میں پاکستان پولس کی بربریت سامنے آئی ہے۔ پریس کانفرنس میں جے کے پی این اے نے جمعرات کو لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن کے دروازے کے سامنے دھرنا دینے کی دھمکی دی تھی۔